عمران خان چھوٹی کے علاوہ بڑی عید بھی جیل میں ہی گزاریں گے

 

 

 

سابق وزیر اعظم عمران خان چھوٹی عید بھی جیل میں منائیں گے۔ بانی پی ٹی آئی کی عید سے پہلے رہائی یا جیل سے ہسپتال منتقلی کی امیدیں دم توڑ گئیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمران خان کو علاج کی غرض سے فوری طور پر اڈیالہ جیل سے نجی ہسپتال منتقل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے بانی تحریک انصاف کی صحت کی جانچ کے لیے چیف کمشنر اسلام آباد کو میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دے دیا۔ عدالتی حکم نے عمران خان کی عید سے قبل الشفاء ہسپتال منتقلی کے خواہشمند یوتھیوں کی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیاہے۔

خیال رہے کہ 2 مارچ کو پی ٹی آئی کی جانب سے عمران خان کو فوری طور پر جیل سے الشفاء ہسپتال منتقلی کیلئے درخواست دائر کی گئی تھی۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ جیل حکام عمران خان کو درپیش صحت کے سنگین مسائل پر مناسب توجہ نہیں دے رہے اور ان کے طبی معائنے خفیہ انداز میں کیے جا رہے ہیں، جبکہ ان کے ذاتی معالجین اور اہلخانہ کو بھی مکمل رسائی فراہم نہیں کی جارہی۔ اس لئے عمران خان کو علاج کیلئے ذاتی ڈاکٹرز تک رسائی دینے کے ساتھ ساتھ انھیں علاج کی بہترین سہولیات کی فراہمی کیلئے الشفاء ہسپتال منتقل کیا جائے۔ تاہم اب تازہ پیشرفت کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم حسین سومرو پر مشتمل دو رکنی بینچ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جیل سے شفا ہسپتال منتقلی اور ذاتی معالجین کو میڈیکل بورڈ میں شامل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے پمز اور الشفا آئی ٹرسٹ کے ڈاکٹرز پر مشتمل بورڈ تشکیل دینے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ اور سفارشات کی روشنی میں چیف کمشنر فیصلہ کریں کہ عمران خان کو جیل سے باہر کسی ہسپتال میں منتقلی کی ضرورت ہے یا نہیں؟ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ جیل رولز کے تحت سزا یافتہ قیدی کو خصوصی علاج کیلئے جیل سے باہر منتقل کرنا حکومت کا اختیار ہے، اس لئے عدالت ایگزیکٹوز کے اختیارات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ عدالت نے قرار دیا کہ جیل رولز کے مطابق عمران خان کے علاج کے حوالے سے فیملی کو آگاہ کیا جائے اور لارجر بنچ کے فیصلے کے مطابق عمران خان کی وکلا اور فیملی سے ملاقات کرائی جائے۔

عدالتی فیصلے پر پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے سخت تنقید سامنے آ رہی ہے۔ پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری کا کہنا ہے کہ پارٹی اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرے گی تاکہ عمران خان کے ذاتی معالجین کو بھی میڈیکل بورڈ میں شامل کیا جا سکے۔ ان کے مطابق ایسا کوئی بھی میڈیکل بورڈ جس میں عمران خان کے ذاتی ڈاکٹر، جیسے ڈاکٹر عاصم یوسف یا ڈاکٹر فیصل سلطان شامل نہ ہوں، اسے عمران خان کے اہلخانہ اور پارٹی قبول نہیں کرے گی۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کی ہدایات پر بننے والا مجوزہ میڈیکل بورڈ رہی ہے جسے ماضی میں بھی پارٹی مسترد کر چکی ہے۔ اس حوالے سے عمران خان کی بہن علیمہ خان کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی عمران خان گزشتہ چار ماہ سے قید تنہائی میں ہیں جبکہ ان کی فیملی کوعمران خان کی صحت کے حوالے سے مکمل معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک عمران خان کے ذاتی معالجین خود ان کا معائنہ نہیں کرینگے وہ کسی بھی حکومتی بورڈ اور ان کی جانب سے سامنے آنے والی رپورٹس کو تسلیم نہیں کریںگی۔ دوسری جانب حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد ایاز شوکت نے دوران سماعت عدالت کو بتایا کہ عمران خان کی موجودہ صحت تسلی بخش ہے اور انہیں جیل میں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ضرورت ہو تو انہیں شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کر کے ضروری طبی معائنہ کروایا جا سکتا ہے۔

سعودی عرب اور ایران تنازعہ: پاکستان سینڈوچ کیسے بن گیا؟

واضح رہے کہ عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہونے کی ممکنہ وجہ سنٹرل ریٹینل وین آکلوژن نامی بیماری ہے۔ اس حالت میں آنکھ کے پردۂ چشم کی مرکزی رگ میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے جس کے باعث خون یا مائع ریٹینا میں جمع ہو جاتا ہے اور بینائی متاثر ہونے لگتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بیماری کی بروقت تشخیص اور علاج نہ کیا جائے تو آنکھوں کی بینائی مکمل طور پر ختم ہونے کے بعد انسان مکمل اندھا بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم حکومتی ذمہ داران کے مطابق علاج کے بعد عمران خان کی بینائی بہت بہتر ہو چکی ہے اور ان کے مکمل اندھا ہونے کا کوئی امکان نہیں جبکہ عدالتی حکم پر جلد میڈیکل بورڈ بھی تشکیل دیا جا رہا ہے۔ اب میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے بعد ہی یہ طے ہو سکے گا کہ عمران خان کو جیل سے باہر کسی ہسپتال منتقل کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔ تاہم مبصرین کے مطابق حالیہ عدالتی فیصلے کے بعد میڈیکل بورڈ تو تشکیل دیا جا رہا ہے تاہم عدالت کی جانب سے عمران خان کی فوری اڈیالہ سئ الشفاء ہسپتال منتقلی کے حکمنامے کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان اس بار بھی عید جیل میں ہی گزاریں گے۔

Back to top button