عمران خان کا کیس صرف 30 سیکنڈ سنا گیا، یہ اوپن ٹرائل ہے ہی نہیں ، علیمہ خان

سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کی بہن علیمہ خان نے عدالتی کارروائی پر تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کا کیس صرف 30 سیکنڈ کے لیے سنا گیا اور 12 تاریخ دے دی گئی، درمیان میں کوئی وقت نہیں رکھا گیا۔
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ انہیں علم تھا کہ وکیل سلمان صفدر ملک سے باہر ہیں، اس کے باوجود کیس 24 گھنٹے میں مقرر کر دیا گیا تاکہ وکیل پیش نہ ہو سکیں، لیکن اس کے باوجود سلمان اکرم راجہ عدالت میں پیش ہو گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج عمران خان سے اہل خانہ کی ملاقات کا دن ہے اور عدالت سے باضابطہ اجازت نامہ بھی لیا گیا ہے، جبکہ توشہ خانہ کیس کی سماعت بھی آج ہی ہے۔
سپریم کورٹ : عمران خان کی 9 مئی مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ملتوی
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ سماعت کے دوران پراسیکیوشن کی جانب سے 12 وکلا سمیت تقریباً 20 افراد موجود تھے، لیکن ہمارے وکلا کی ٹیم کو جیل کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی جاتی، اور نہ ہی اہلخانہ کو۔
ان کا کہنا تھا کہ جج نے ملاقات اور قانونی ٹیم کی رسائی کی اجازت دی تھی، مگر جیل انتظامیہ نے حکم پر عملدرآمد نہیں کیا۔ علیمہ خان کے مطابق یہ تمام عمل نہ صرف شفاف ٹرائل کے تقاضوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ "یہ اوپن ٹرائل ہے ہی نہیں”۔
انہوں نے زور دیا کہ ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ عمران خان کو فیئر ٹرائل دیا جائے اور قانونی تقاضے مکمل طور پر پورے کیے جائیں۔
