عمران خان کا دوٹوک انکار، پرویز الٰہی نے مفاہمت کو وقت کی ضرورت قرار دے دیا

تحریک انصاف کے صدر اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی نے پارٹی کے لیے مفاہمت کو بہتر حکمتِ عملی قرار دے دیا۔

پرویز الٰہی آج جنگلات اراضی ریفرنس کے سلسلے میں احتساب عدالت میں پیش ہوئے، جہاں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "پہلے مزاحمت ہوتی ہے، پھر مفاہمت آتی ہے، لیکن بہتر یہی ہے کہ مفاہمت کی جائے۔”

ایک صحافی نے سوال کیا کہ پی ٹی آئی کے لیے مذاکرات بہتر ہیں یا احتجاج؟ اس پر پرویز الٰہی نے کہا کہ "مذاکرات سے بہتری کی راہ نکلتی ہے، اور امید رکھنی چاہیے۔”

انہوں نے بتایا کہ "پی ٹی آئی کی قیادت نے مذاکرات کے لیے خط بھی لکھا، لیکن اس پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔”

بنوں میں ڈرون حملے : خاتون جاں بحق، تین افراد زخمی

 

جب صحافیوں نے ان سے صدر آصف علی زرداری کو ہٹانے کی افواہوں اور آئینی ترمیم (27ویں ترمیم) کے بارے میں پوچھا، تو پرویز الٰہی نے مختصر جواب دیا۔ "یہ تو میں نے صرف آپ سے ہی سنا ہے۔”

یاد رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے حال ہی میں جیل میں قید پارٹی رہنماؤں کی جانب سے مذاکرات کی اپیل مسترد کر دی تھی، جس کے بعد پارٹی کے اندر مختلف بیانیے سامنے آ رہے ہیں۔

Back to top button