عمران خان کی ڈیڈ لائن،احتجاج کی بہت تاریخیں آئیں،عظمیٰ بخاری کا طنز

صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہےکہ عمران خان کی ڈیڈ لائن احتجاج کی بہت تاریخ آئی،  کہیں احتجاج ہو، کہیں آپ نے کوئی بندہ دیکھا ہو جو باہر نکلا ہو

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کاڈی جی پی آر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سیاسی معاملات کا حل صرف سیاسی لوگوں سے بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے، اور یہ طے شدہ حقیقت ہے کہ مذاکرات سیاسی قیادت کے ساتھ ہی کیے جاتے ہیں۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ کو لاہور کے دورے پر مطالعہ کے جذبے سے آنا چاہیے تھا۔ چونکہ ویک اینڈ تھا، انہیں وہی پروٹوکول دیا گیا جس کے وہ عادی ہیں۔علی امین گنڈاپور کو خیبرپختونخوا اور پنجاب کے درمیان واضح فرق ضرور محسوس ہوا ہوگا۔ وہ ماضی میں اور اب بھی نازیبا زبان استعمال کرتے رہے ہیں، لیکن شریف خاندان نے ہمیشہ ظرف کا مظاہرہ کیا ہے، اگر وہ وزیر اعلیٰ بن کر آئیں تو ان کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اگر کوئی شخص مسلح ہو کر آئے گا اور دہشت پھیلانے کی کوشش کرے گا تو اسے اجازت نہیں دی جا سکتی۔ سیاسی قوتوں سے ہی سیاسی بات چیت ممکن ہے اور یہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے سابق وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ کئی مرتبہ ڈیڈ لائنز دے چکے، لیکن عوام سڑکوں پر نظر نہیں آئے۔ بلوچستان واقعے پر بھی ان کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ جب آرمی چیف بیرونِ ملک جاتے ہیں تو ان کے خلاف جھوٹی باتیں اور جعلی ویڈیوز بنائی جاتی ہیں۔

وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ علی امین سیالکوٹ کے ان خاندانوں سے تعزیت کے لیے بھی نہ گئے جن کے افراد دریا میں ڈوب گئے۔ اگر معافی نہیں مانگ سکتے تھے تو کم از کم ان کے گھر جا کر افسوس ہی کر لیتے۔ کہتے ہیں کہ وہ 26 افراد سے اظہارِ یکجہتی کے لیے آئے تھے، لیکن عمل اس کے برعکس دکھائی دیا۔

Back to top button