عمران خان کے نابینا ہونے کے خدشات میں کتنا وزن ہے؟

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ایک آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا، اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے علاج کے باوجود دائیں آنکھ میں صرف 15 فیصد بینائی رہ جانے کی شکایت کے بعد سپریم کورٹ نے چار دن کے اندر ان کا طبی معائنہ کروانے کا حکم دے دیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان میں فرینڈ آف دی کورٹ بیرسٹر سلمان صفدر کی جانب سے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت سے متعلق رپورٹ جمع کرا دی گئی، ’نگرانی کے 10 کیمرے، 100 کتابیں اور دو سیب‘اڈیالہ جیل سے سامنے آنے والی تفصیلی رپورٹ نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی قید میں گزرنے والی زندگی کی نئی جھلک پیش کر دی۔ سلمان صفدر نے دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ جانے کی شکایت، ذاتی معالجین تک رسائی کا مسئلہ، اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں رکاوٹیں، اور کوٹھری کے اندر موجود سہولیات و نگرانی کے سخت انتظامات سمیت مختلف نکات کو رپورٹ کا حصہ بنایا ہے۔
بیرسٹر سلمان صفدر کی جانب سے پیش کی گئی اس رپورٹ میں نہ صرف عمران خان کی صحت سے متعلق خدشات بیان کیے گئے ہیں بلکہ ان کی روزمرہ مصروفیات، خوراک، جیل کی سکیورٹی، کوٹھڑی کی حالت، اور ذاتی ضروریات تک کی تفصیل شامل ہے۔ رپورٹ میں 10 نگرانی کیمروں، 100 کتابوں، ورزش کے سامان اور محدود ذاتی اشیا کا ذکر ایک ایسی تصویر بناتا ہے جو سخت نگرانی، محدود سہولیات اور مخصوص معمولات کے گرد گھومتی ہے۔سپریم کورٹ نے ان خدشات کے پیش نظر حکومت کو ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم سے 16 فروری سے پہلے تفصیلی معائنہ کرانے کا حکم دے دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان نے بتایا کہ گزشتہ تین ماہ سے ان کی بینائی متاثر ہو رہی ہے اور علاج کے باوجود ان کی دائیں آنکھ صرف 15 فیصد کام کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر صرف آنکھوں میں قطرے دیے جاتے رہے جس سے افاقہ نہ ہوا۔ بعد ازاں پمز کے ڈاکٹر نے معائنہ کیا اور انجیکشن بھی لگائے گئے، تاہم مکمل بہتری نہ آ سکی۔ انہوں نے یہ بھی شکایت کی کہ ان کے ذاتی معالجین کو رسائی نہیں دی جا رہی اور عمر کے پیش نظر باقاعدہ خون کے ٹیسٹ اور دانتوں کے معائنے کی ضرورت کے باوجود یہ سہولت فراہم نہیں کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ملاقات کے دوران ان کی آنکھوں سے پانی بہتا رہا اور وہ واضح طور پر پریشان دکھائی دئیے۔
رپورٹ میں عمران خان کی روزانہ کی مصروفیات بھی درج ہیں۔ جن کے مطابق عمران خان صبح تقریباً پونے دس بجے ناشتہ کرتے ہیں جس میں کافی، دلیہ اور کھجوریں شامل ہوتی ہیں۔ اس کے بعد قرآن خوانی اور ورزش ان کے معمول کا حصہ ہے۔ ورزش کے لیے ایک سائیکل، نو کلو کے دو ڈمبل اور ایک بار دستیاب ہے۔دوپہر کو چہل قدمی کی اجازت دی جاتی ہے جبکہ شام ساڑھے پانچ بجے کے بعد انہیں کوٹھڑی میں بند کر دیا جاتا ہے۔ دوپہر کے کھانے کا ہفتہ وار مینو وہ خود ترتیب دیتے ہیں، جس میں چکن، گوشت، دال اور ہلکی غذائیں شامل ہوتی ہیں۔ رات کو وہ عموماً پھل، دودھ اور کھجوریں لیتے ہیں۔ پینے کے لیے بوتل والا پانی فراہم کیا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عمران خان کی کوٹھڑی میں ایک بیڈ، کرسی، میز، دیوار پر لگی گھڑی، 32 انچ کا خراب ٹی وی ، ہیٹر، پنکھا اور تین ہائی وولٹیج بلب موجود ہیں۔ بستر پر گدا، چار تکیے اور دو کمبل رکھے ہیں جبکہ فرش پر قالین، جائے نماز اور تسبیح بھی موجود تھی۔ کوٹھڑی میں 100 کتابیں، دو سیب، دو ڈمبل، ٹشو پیپر اور ذاتی استعمال کی اشیا رکھی تھیں۔ تاہم کپڑے رکھنے کے لیے مناسب الماری موجود نہیں تھی جس کی وجہ سے کپڑے ادھر ادھر بکھرے پڑے تھے اور کرسی غیر آرام دہ محسوس ہوئی۔ ٹوائلٹ کی صفائی اور وینٹی لیشن کے انتظامات بھی انتہائی ناقص تھے۔۔
عمران خان کے مطابق ان کے احاطے میں 10 کیمرے نصب ہیں جن میں سے ایک کیمرہ شاور کے قریب تک رسائی رکھتا ہے، تاہم کوٹھڑی کے اندر کیمرہ موجود نہیں۔ احاطے کی دیواریں 12 فٹ بلند تھیں اور ان پر خاردار تاریں نصب تھیں جبکہ کوٹھڑی کے ارد گرد 24 گھنٹے سکیورٹی اہلکار تعینات رہتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق عمران خان کے بقول گرمیوں کے موسم میں شدید حبس، مکھیاں اور مچھر مسائل پیدا کرتے ہیں۔ اگرچہ ایئر کولر اور مچھر بھگانے کا لوشن موجود ہے، فریج کی عدم دستیابی کے باعث انہوں نے گرمیوں میں فوڈ پوائزننگ کی شکایت بھی کی۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ عمران خان نے وکلا اور اہلِ خانہ سے ملاقاتوں میں رکاوٹ کی شکایت بھی کی۔ ان کے مطابق عدالتی احکامات کے باوجود سنہ 2025 میں صرف دو مرتبہ برطانیہ میں موجود اپنے بیٹوں سے بات ممکن ہو سکی۔ نئی جیل انتظامیہ کے بعد انہیں ہر منگل 30 منٹ کے لیے اہلیہ سے ملاقات کی اجازت دی گئی ہے۔
جنرل باجوہ گھر میں گر کر زخمی ہوئے یا ان پر حملہ کیا گیا؟
بیرسٹر سلمان صفدر نے اپنی رپورٹ میں سفارش کی ہے کہ عمران خان کی آنکھوں کے علاج کے لیے ماہرین کی ٹیم سے تفصیلی معائنہ کرایا جائے اور ان کے ذاتی معالجین تک رسائی فراہم کی جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کو اپنے وکلا اور اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت دی جائے، جیل میں مچھر اور مکھیوں سے بچاؤ کے بہتر انتظامات کیے جائیں اور خوراک محفوظ رکھنے کے لیے فریج فراہم کیا جائے جبکہ عمران خان کی خواہش کے مطابق انھیں مطلوبہ کتابوں کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے۔سپریم کورٹ نے رپورٹ کی روشنی میں فوری طبی معائنے کا حکم دیتے ہوئے حکومت کو ہدایات جاری کی ہیں۔
