عمران خان کی سپریم کورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل: ججز کے تبادلے کے فیصلے پر اعتراض

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان نے سپریم کورٹ میں انٹرا کورٹ اپیل دائر کی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں تین ججز کے تبادلے کو برقرار رکھنے کا آئینی بینچ کا فیصلہ عدلیہ کی آزادی کو نقصان پہنچاتا ہے اور آئینی تقرری کے طریقہ کار کو نظرانداز کرتا ہے۔
یہ درخواست سینئر وکیل ادریس اشرف کے توسط سے دائر کی گئی ہے، جس میں 19 جون کو سنائے گئے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے۔ اس فیصلے میں آئینی بینچ نے 3-2 کی اکثریتی رائے سے قرار دیا تھا کہ مختلف ہائیکورٹس سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کا تبادلہ آئین کے مطابق تھا۔
عمران خان نے اپنی اپیل میں موقف اپنایا ہے کہ مستقل تبادلہ پانے والے ججز کے ساتھ مالی مراعات اور سہولیات کے معاملے میں مختلف سلوک برتا گیا، جس سے یکساں حالات میں موجود ججز کے درمیان امتیاز پیدا ہوا، جو کہ آئین کے آرٹیکل 25 کے منافی ہے۔
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ آئینی بینچ یہ فرق کرنے میں ناکام رہا کہ صدر کے اختیارات اور فرائض میں کیا امتیاز ہے، اور 19 جون کے فیصلے میں صدر کو ایسا کردار دیا گیا جیسے وہ خودمختار حیثیت میں فیصلے کر سکتے ہیں، حالانکہ آئین کے تحت صدر صرف کابینہ یا وزیراعظم کے مشورے پر عمل کرتا ہے۔
درخواست کے مطابق، آرٹیکل 200 صدر کو نہ تو عدالتی تبادلوں کا آغاز کرنے کا اختیار دیتا ہے اور نہ ہی انہیں مستقل بنانے کا۔ صدر کا کردار ایک رسمی سربراہ کا ہے جو انتظامیہ کی سفارشات پر عمل کرتا ہے، اس لیے تبادلے کو مستقل قرار دینا آئین کے الفاظ سے تجاوز کے مترادف ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آئینی بینچ نے یہ سوال کہ تبادلہ عارضی تھا یا مستقل، عدلیہ کے بجائے صدر کے سپرد کر دیا، جو کہ اختیارات کی تقسیم کے اصول اور عدلیہ کی خودمختاری کے خلاف ہے۔
عمران خان کی یہ اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی گئی آٹھویں ایسی اپیل ہے۔ اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز محسن اختر کیانی، طارق محمود جہانگیری، بابر ستار، سردار اعجاز اسحٰق خان، اور ثمن رفعت امتیاز، نیز لاہور، کراچی بار ایسوسی ایشنز، پی ٹی آئی رہنما شعیب شاہین، راجہ مقصود نواز خان، اور ریاست علی آزاد بھی اسی فیصلے کے خلاف اپیلیں دائر کر چکے ہیں۔
درخواست میں واضح کیا گیا ہے کہ آرٹیکل 200 کی شق (1) اور (2) تبادلے کو عارضی حیثیت میں دیکھتی ہیں، اور شق (2) کے مطابق تبادلہ شدہ جج اپنی اصل ہائیکورٹ سے وابستہ رہتا ہے۔ اس کے برعکس، جج کو مستقل منتقل کرنا آئینی الفاظ میں ایسی زبان شامل کرنے کے مترادف ہے جو آئین میں موجود نہیں، جو کہ عدالتی اختیارات سے تجاوز ہے۔
درخواست میں بھارت کے آئینی آرٹیکل 217 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ وہاں تبادلہ عہدے کی خالی جگہ پیدا کرتا ہے، جبکہ پاکستان کے آئین میں ایسی کوئی وضاحت نہیں کی گئی، جس کا مطلب ہے کہ جج اپنی اصل عدالت سے وابستہ رہتا ہے اور سنیارٹی بھی وہیں کی برقرار رہتی ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ سنیارٹی کا تعین عدلیہ کا اندرونی انتظامی معاملہ ہے، جس میں ایگزیکٹو کو مداخلت کا کوئی اختیار نہیں۔ آرٹیکل 175-اے عدالتی تقرریوں کے لیے مخصوص ہے، اور آرٹیکل 200 کو اس میں مداخلت یا متبادل کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
