عمران خان کی 9 مئی کی جوڈیشل تحقیقات کی درخواست سماعت کیلئے منظور

سپریم کورٹ کےآئینی بینچ نے 9 مئی واقعات کی تحقیقات کے لیےجوڈیشل کمیشن بنانےکی عمران خان کی درخواست سماعت کے لیےمنظور کرلی۔

سپریم کورٹ کےآئینی بینچ نے 9 مئی واقعے کی عدالتی تحقیقات کے لیےبانی پی ٹی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کی جس سلسلےمیں ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور عمران خان کے وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔

دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ درخواست عوامی اہمیت کی نہیں ہےاور اس پر اعتراضات ہیں، اس پر عدالت  نے درخواست پررجسٹرارآفس کےاعتراضات ختم کرتے ہوئے اسے سماعت کے لیےمقرر کرنےکی ہدایت کی۔

بانی پی ٹی آئی کےوکیل حامد خان نے کہا کہ ڈیڑھ سال ہوچکا ہے، پتا تو کرائیں 9 مئی کو ہوا کیا تھا؟ 9 مئی کے بعد سیکڑوں مقدمات ہوئے،ایک سیاسی جماعت کو دیوار سے لگادیا گیا۔

عمران خان کی اڈیالہ جیل سے خیبرپختونخوا منتقلی کی درخواست 20 ہزار جرمانے کے ساتھ خارج

 

اس پرجسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا آپ نے ہائیکورٹ سے رجوع کیوں نہیں کیا؟حامد خان نے کہا کہ یہ کسی صوبے کا نہیں پورےملک کا معاملہ ہے، اسی لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

عدالت نےبانی پی ٹی آئی کے وکیل سے کہا کہ ابھی صرف رجسٹرار آفس کےاعتراضات ختم کررہے ہیں، ابھی میرٹس پرکیس نہیں سنا، کیس دوبارہ مقررہونے پر اٹھائے گئے سوالات پر عدالت کو مطمئن کرناہوگا۔

دوران سماعت جسٹس مسرت ہلالی نے ریمارکس دیے کہ اگر کمیشن بن بھی گیا تو صرف ذمہ داری ہی فکس کرے گا، جوڈیشل کمیشن رپورٹ کا فوجداری مقدمات پراثر نہیں پڑے گا۔

بعد ازاں سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نےکیس کی مزید سماعت غیرمعینہ مدت تک  ملتوی کردی۔

Back to top button