عمران خان کی جیل میں ورزش کرتے ہوئے تصاویر جعلی نکلیں

 

 

 

عمران خان کی بہن علیمہ خان کی جانب سے جیل میں بانی پی ٹی آئی کی ورزش اور پُش اپس کرتے ہوئے جن تصاویر کو اصلی قرار دیا گیا تھا، وہ جعلی ثابت ہو گئی ہیں۔ بی بی سی نے گوگل کے جدید ڈیجیٹل ٹولز کے ذریعے تصدیق کی ہے کہ تحریک انصاف کے لائرز فورم کی جانب سے سوشل میڈیا پر وائرل کی جانے والی یہ تصاویر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ذریعے بنائی گئی تھیں۔

 

یاد رہے کہ اڈیالہ جیل میں گزشتہ دو برس سے قید عمران خان کی کوئی حالیہ ویڈیو یا تصویر منظرِ عام پر نہ آنے کے باعث ان کی صحت بارے قیاس آرائیوں کا سلسلہ طویل عرصے سے جاری ہے۔ تاہم چند روز قبل سوشل میڈیا پر عمران خان سے منسوب کچھ تصاویر وائرل ہوئیں، جن میں وہ ورزش کرتے اور پُش اپس لگاتے دکھائی دے رہے تھے۔ یہ تصاویر منظرِ عام پر آنے کے بعد خاصی توجہ کا مرکز بنیں، ان تصاویر کے بارے میں عمران کی بہن علیمہ خان نے واضح طور پر کہا تھا کہ یہ اصلی ہیں۔

 

سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دوپہر کے وقت ایک جنگلے کے پیچھے ٹی شرٹ اور ٹراؤزر پہنے عمران خان پُش اپس کر رہے ہیں۔ وہ پسینے میں شرابور دکھائی دیتے ہیں جبکہ کچھ فاصلے پر چند پولیس اہلکار کھڑے انہیں دیکھ رہے ہیں۔ انسدادِ دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے بتایا تھا کہ انہوں نے یہ تصاویر کسی کو بھیج کر تصدیق کروائی تو انہیں بتایا گیا کہ یہ چند ماہ پرانی ہیں اور گرمیوں کے موسم کی بنی ہوئی ہیں۔ علیمہ نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ تصاویر عمران خان کی قیدِ تنہائی سے پہلے کی ہیں اور ان میں خان نے وہی جوتے پہن رکھے ہیں جو وہ ملاقاتوں کے دوران پہنا کرتے ہیں۔

 

تاہم جب بی بی سی نے جدید ڈیجیٹل ٹولز کی مدد سے انکی تحقیق کی تو پتہ چلا کہ عمران کی یہ وائرل تصاویر مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی تھیں۔ یہ تصاویر سب سے پہلے 8 دسمبر کو تحریکِ انصاف کے انصاف لائرز فورم کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے شیئر کی گئیں، جس کے بعد یہ تیزی سے وائرل ہو گئیں۔ پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں نے بھی ان کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر شیئر کیا، تاہم اسی دوران یہ بحث بھی شروع ہو گئی کہ آیا یہ تصاویر اصلی ہیں یا جعلی۔ بی بی سی نے ان تصاویر کی حقیقت جاننے کے لیے گوگل ڈیپ مائنڈ کے تیار کردہ ٹول کی مدد حاصل کی۔ گوگل نے اگست 2023 میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائی گئی تصاویر کی شناخت کے لیے ڈیجیٹل واٹر مارک ٹیکنالوجی متعارف کرائی تھی۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے گوگل اے آئی سے بنائی گئی تصاویر میں موجود ایک ایسا واٹر مارک تلاش کیا جاتا ہے جو انسانی آنکھ سے نظر نہیں آتا۔

 

بی بی سی نے عمران خان کی تصاویر کی اس ٹیکنالوجی کے ذریعے جانچ پڑتال کی تو ٹول نے تصدیق کی کہ یہ گوگل کی مصنوعی ذہانت کے ذریعے بنائی گئی ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی تصویر کے پکسلز کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لے کر اس پوشیدہ واٹر مارک کو شناخت کر لیتی ہے۔ عام طور پر واٹر مارکس تصاویر میں لوگو یا تحریر کی صورت میں شامل کیے جاتے ہیں تاکہ ملکیت ظاہر کی جا سکے اور غیر مجاز استعمال کو روکا جا سکے۔ تاہم اس قسم کے واٹر مارکس آسانی سے تبدیل یا ختم کیے جا سکتے ہیں، اس لیے یہ تصاویر کی شناخت کے لیے مؤثر نہیں ہوتے۔ اس کے برعکس گوگل کا یہ نظام ایک ایسا غیر مرئی واٹر مارک تیار کرتا ہے جس کی مدد سے فوری طور پر معلوم کیا جا سکتا ہے کہ تصویر اصلی ہے یا مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی ہے۔

 

تحقیق کے دوران عمران خان کے قریب کھڑے پولیس اہلکاروں، اڈیالہ جیل کے ڈیزائن اور دیگر پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا تو کئی تضادات سامنے آئے، جن میں پولیس اہلکاروں کی وردی پر نام کے ٹیگ کا موجود نہ ہونا شامل ہے، جو عموماً حقیقی تصاویر میں نظر آتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک اہلکار کی وردی پر روایتی پولیس یونیفارم کے مطابق جیبیں موجود نہیں تھیں، جبکہ عمران خان کے ٹراؤزر پر برانڈ کا نام بھی واضح نہیں تھا۔ جب ان تصاویر کو سرچ کیا گیا تو پاکستان کے کسی مستند نیوز چینل نے انکے حوالے سے کوئی خبر نشر نہیں کی تھی، اور نہ ہی پی ٹی آئی کی جانب سے باضابطہ طور پر ان کی تصدیق سامنے آئی تھی۔

 

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ برس جون میں سپریم کورٹ میں عمران خان کو جیل میں فراہم کی جانے والی سہولیات سے متعلق ایک رپورٹ جمع کروائی تھی، جس میں چند تصاویر بھی شامل تھیں۔ بی بی سی ان تصاویر کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا تھا، تاہم پی ٹی آئی نے انہیں اصلی قرار دیا تھا۔ ایکس پر پی ٹی آئی کے آفیشل اکاؤنٹ سے ایک پیغام میں حکومتی دستاویزات میں شامل ایک کمرے کی تصویر شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا تھا کہ عمران خان کو جیل کے ایک چھوٹے سے کمرے میں رکھا گیا ہے جہاں انہیں کوئی خاص سہولت حاصل نہیں۔ اس تصویر میں ایک چھوٹا کمرہ دکھائی دیتا ہے، جس کے ایک طرف بستر جبکہ دوسری جانب میز اور کرسی موجود ہیں۔ کمرے کے آخر میں دیوار پر ایک ٹی وی اسکرین نصب ہے اور ساتھ ہی ایک کولر رکھا گیا ہے۔ بستر کے پیچھے چھوٹی دیواروں والا ایک حصہ نظر آتا ہے، جہاں نصب واش بیسن سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بیت الخلا ہے۔

پی ٹی آئی کا اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا پولیس نے ختم کرادیا

عدالت میں جمع کروائی گئی دستاویزات میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ عمران خان کے لیے جیل میں علیحدہ کچن موجود ہے۔ ایک تصویر میں ایک الماری دکھائی گئی، جس کے بارے میں کہا گیا کہ اس میں عمران خان کے لیے مخصوص کھانے پینے کی اشیا رکھی گئی ہیں۔ اس الماری میں کولڈ ڈرنکس، دلیہ، اسپغول اور دیگر اشیائے خور و نوش موجود تھیں۔ دستاویزات کے مطابق عمران خان کے کھانے کے مینیو کا فیصلہ بھی وہ خود کرتے ہیں۔

Back to top button