حکومتی مدت مکمل ہونے سے قبل عمران کی رہائی نا ممکن

اڈیالہ جیل میں قید عمران خان موجودہ حکومت کی پانچ سالہ آئینی مدت پوری ہونے سے قبل جیل سے باہر آتے ہوئے دکھائی نہیں دیتے۔ یکے بعد دیگرے مقدمات میں سزاؤں، اپیلوں میں غیر معمولی تاخیر، اور عدالتی و سیاسی ریلیف کے محدود امکانات کے باعث عمران خان کی رہائی کا کوئی قانونی راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق دسمبر 2025 میں توشہ خانہ دوم کیس میں سزا سنائے جانے کے بعد عمران خان کی قانونی مشکلات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس فیصلے میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 17،17 سال قید کی سزا سنائی گئی، جس کے بعد وہ پہلے سے جاری قید کے ساتھ مزید سخت قانونی دائرے میں آ چکے ہیں۔ اس سے قبل القادر ٹرسٹ کیس میں دونوں میاں بیوی کو 14،14 سال قید کی سزا سنائی جا چکی تھی، جبکہ دیگر مقدمات بھی مختلف عدالتوں میں زیرِ التوا ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق عمران خان کو درپیش قانونی بحران کسی ایک کیس تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ ایک طویل عدالتی سلسلے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ القادر ٹرسٹ کیس میں سزا کے خلاف اپیل جنوری 2025ء میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی تھی، تاہم ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ اپیل باقاعدہ سماعت کیلئے مقرر نہیں ہو سکی۔
یاد رہے کہ اب اسلام آباد ہائی کورٹ کی نئی فکسیشن پالیسی فوجداری اپیلوں کو سختی کے ساتھ سینیارٹی کی بنیاد پر سماعت کیلئے مقرر کرتی ہے۔ اس پالیسی کے تحت سزائے موت اور عمر قید کے مقدمات کو ترجیح دی جاتی ہے، جس کے باعث عمران خان کی اپیل سے قبل دائر کی گئی درجنوں فوجداری اپیلیں پہلے سماعت کی منتظر ہیں۔ اسی وجہ سے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ معمول کے عدالتی عمل کے تحت عمران خان کی اپیلوں کا جلد سماعت کیلئے مقرر ہونا بعید از قیاس ہے۔
اسی طرح دسمبر 2025 میں توشہ خانہ دوم کیس میں خان کو سنائی جانے والی سزا نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ قانونی ذرائع کے مطابق اس فیصلے کے خلاف اپیل بھی اسی نوعیت کی تاخیر کا ش بھیکار ہو سکتی ہے اور اس پر کارروائی میں ایک سال یا اس سے زائد وقت لگنے کا امکان ہے۔ پی ٹی آئی سے وابستہ قانونی ماہرین نجی سطح پر اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ اگر کسی ایک مقدمے میں بالآخر ریلیف بھی مل جائے تو دوسری سزا عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بدستور جیل میں رکھے گی۔
قانونی تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں عمران خان کو مجموعی طور پر کم از کم 31 سال قید یعنی 14 سال القادر ٹرسٹ کیس + 17 سال توشہ خانہ دوم کیس کی سزاؤں کا سامنا ہے، جبکہ بشریٰ بی بی کو بھی اتنی ہی مدت کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔ اگرچہ پاکستانی قانون میں یہ اختیار عدالت کے پاس ہوتا ہے کہ سزائیں اکٹھی چلیں یا علیحدہ علیحدہ، تاہم اپیلوں کے حتمی فیصلوں تک دونوں کی جیل میں موجودگی ناگزیر دکھائی دیتی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر ہائی کورٹ کی سطح پر عمران خان کو کسی ایک مقدمے میں بریت بھی مل جائے، تب بھی دیگر مقدمات، اپیلوں اور ممکنہ نظرثانی کے مراحل کے باعث انکی رہائی میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ دوسری جانب عمران خان کے خلاف 9 مئی کے حملوں کے کئی کیسز بھی زیرِ التوا ہیں۔ پی ٹی آئی کے قانونی ماہرین تسلیم کرتے ہیں کہ استغاثہ کے پاس ان مقدمات کو طول دینے کی قانونی گنجائش موجود ہے، جس کے باعث کسی ایک کیس میں ضمانت یا بریت کے باوجود عمران خان کی فوری رہائی ممکن نہیں رہے گی۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پارٹی کے اندر سنجیدہ قیادت نجی سطح پر اس امر پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے کہ عمران خان کیلئے قانونی اور سیاسی راستے تیزی سے محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ ان رہنماؤں کے مطابق پارٹی کے بعض سخت گیر حلقوں کی مسلسل محاذ آرائی نے نہ صرف سیاسی مفاہمت کے امکانات کم کیے ہیں بلکہ عدالتی سطح پر بھی ہمدردی کی فضا کو متاثر کیا ہے۔
ایک سینئر سیاسی ذریعے کے مطابق اگر پارٹی کی حکمت عملی میں واضح تبدیلی نہ آئی، یا عدالتی سطح پر کوئی غیر متوقع پیش رفت نہ ہوئی، تو عمران خان اور بشریٰ بی بی کے قانونی مسائل طویل عرصے تک حل ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔
عمران خان کی تصاویر والی پتنگوں پر پنجاب حکومت کی پابندی
سیاسی اور قانونی تجزیہ کار اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ موجودہ عدالتی ٹائم لائن، اپیلوں کے طویل عمل، اور اضافی مقدمات کو دیکھتے ہوئے عمران خان کی قید کا سلسلہ طویل ہو سکتا ہے۔ جب تک عدالتیں اپیلوں کو ترجیحی بنیادوں پر سننے کا فیصلہ نہیں کرتیں، یا کوئی بڑی سیاسی مفاہمت سامنے نہیں آتی، یا کوئی غیر معمولی عدالتی پیش رفت نہیں ہوتی، موجودہ صورتحال یہی ظاہر کرتی ہے کہ سابق وزیراعظم کا جیل سے باہر آنا فوری طور پر ممکن دکھائی نہیں دیتا۔
