عمران خان کی رہائی، PTIنے اچانک عدالتوں کا رخ کیوں کر لیا؟

مسلسل ناکامیوں کا شکار احتجاجی حکمت عملی اور مزاحمتی سیاست کی گرتی ہوئی عوامی مقبولیت کے بعد پی ٹی آئی قیادت نے اپنی سمت تبدیل کرتے ہوئے سڑکوں پر احتجاج، دھرنوں اور جلسے جلوسوں کے بجائے عدالتوں میں قانونی جنگ کو زیادہ مؤثر، منظم اور بھرپور انداز میں لڑنے کا فیصلہ کر لیا ہے تاکہ عدالتی فیصلوں کے ذریعے جلد از جلد عمران خان کی رہائی ممکن بنائی جا سکے۔ تاہم ناقدین پی ٹی آئی کی اس حکمت عملی کو خوش فہمی قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی رہنماؤں کا عدالتوں سے غیر معمولی ریلیف کی امید رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں، کیونکہ عمران خان کی رہائی کے لیے عدالتوں سے امیدیں وابستہ کیے بیٹھی تحریک انصاف کی قیادت شاید یہ بھول بیٹھی ہے کہ گڈ ٹو سی یو کہنے والے عمراندار جج کی چھٹی ہو چکی ہے اب عدالتوں میں فیصلے ذاتی پسند و ناپسند یا فیملی کرش کی بجائے ٹھوس شواہد اور قانونی تقاضوں کے مطابق کیے جاتے ہیں چونکہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو ٹھوس شواہد کی بنیاد پر سزا سنائی گئی ہے، اس تناظر میں عدالتی فیصلوں کے ذریعے عمران خان کی جلد رہائی ناممکن دکھائی دیتی ہے۔
پی ٹی آئی کی عمران خان کی رہائی کیلئے بدلتی حکمت عملی نے نہ صرف سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے بلکہ پارٹی کے کارکنان کے ذہنوں میں بھی کئی سوالات کو جنم دےدیا ہے۔ عمران خان کی ممکنہ رہائی، قیادت کی نئی مفاہمتی حکمت عملی، ورکرز کی بے چینی اور مایوسی جبکہ اس کے ساتھ ساتھ بیک ڈور مذاکرات کی افواہوں نے مل کر ایک پیچیدہ سیاسی منظرنامہ تشکیل دے دیا ہے ایسے میں یہ سوال مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے کہ کیا پاکستان تحریک انصاف اپنے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے واقعی کسی فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، یا یہ محض امیدوں اور دعوؤں کا ایک تسلسل ہے؟ کیا واقعی عمراں خان کے حوالے سے کوئی بیک ڈور مذاکرات چل رہے ہیں یا سب کچھ صرف دکھاوا ہے؟
مبصرین کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے حوالے سے سیاسی حکمت عملی میں واضح تبدیلی دیکھنے میں آ رہی ہے تاکہ نئی حکمت عملی ذریعے عدالتی راستے سے عمران خان کی جلد از جلد رہائی کو ممکن بنایاجا سکے۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی پاکستان تحریک انصاف اور اس کی ہم خیال جماعتوں نے اپنی سیاسی سرگرمیاں وقتی طور پر معطل کر دی تھیں، تاہم اب رمضان کے بعد ان سرگرمیوں کے دوبارہ آغاز کی تیاری کی جا رہی ہے۔ تاہم اس بار پارٹی کی توجہ مزاحمتی سیاست کی بجائے زیادہ تر قانونی محاذ پر مرکوز نظر آتی ہے، جہاں زیر التوا مقدمات کی سماعت تیز کرنے اور قانونی ٹیم کو مزید مضبوط بنانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں وہیں اسی حکمت عملی کے تحت سینیئر وکلا کو بھی قانونی ٹیم میں شامل کیا گیا ہے تاکہ عدالتی سطح پر کیسز کو مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی قیادت نے عمران خان کی بہنوں کے ساتھ مل کر سینیئر قانون دان اعتزاز احسن کو بھی قانونی ٹیم کا حصہ بنایا ہے، جبکہ لطیف کھوسہ کی جانب سے جلد رہائی کے دعوؤں کے بعد پارٹی حلقوں میں بھی عمران خان کی قید ختم ہونے بارے ایک نئی امید کی کرن پیدا ہوئی ہے۔ اسی دوران مختلف عدالتوں میں عمران خان کے خلاف موجود کیسز کی سماعتوں میں نسبتاً تیزی دیکھنے میں آرہی ہے۔
تاہم پی ٹی آئی کی بدلتی حکمت عملی پر پارٹی کارکنان کی جانب سے سوال بھی اٹھائے جا رہے ہیں ناقدین کا کہنا ہے کہ عمران خان کی رہائی بارے پارٹی قیادت کے دعووں اور عملی نتائج کے درمیان واضح فرق پایا جاتا ہے، اسی وجہ سے نئی حکمت عملی بارے کارکنان میں بے چینی بڑھ رہی ہے اور وہ پارٹی لیڈر شپ پر اعتبار کرنے کو ہی تیار نہیں، مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ نئی حکمت عملی کے تحت اب پی ٹی آئی کو مکمل طور پر صرف عدالتی راستے پر انحصار کرنا پڑے گا جو حقیقتا ایک مشکل حکمت عملی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عملی سیاست میں سیاسی دباؤ، احتجاجی تحریکیں اور عوامی دباؤ کسی بھی سیاسی مقدمے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لئے پی ٹی آئی کا صرف عدالتوں سے فوری ریلیف کی توقع رکھنا حقیقت پسندانہ نہیں۔
دوسری جانب پی ٹی آئی قیادت کا مؤقف ہے کہ وہ حکومت یا اسٹیبلشمنٹ سے کسی بھی قسم کے بیک ڈور مذاکرات نہں کر رہی کیونکہ تحریک انصاف مکمل طور پر قانونی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔ پارٹی کی تمام توجہ عدالتوں میں زیر سماعت کیسز پر مرکوز ہے جبکہ پی ٹی آئی قیادت کے حکومت یا اسٹیبلشمنٹ سے کسی قسم کے رسمی یا غیر رسمی رابطے موجود نہیں ہیں۔
سڑکوں پر آنے یا نہ آنے پر اختلاف،PTIمیں پھوٹ پڑ گئی
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان کی رہائی کے حوالے سے موجودہ صورتحال پیچیدہ اور طویل المدتی نظر آ رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ اگرچہ قانونی محاذ پر کچھ پیش رفت ضرور ہوئی ہے، تاہم سیاسی سطح پر ابھی بھی واضح اور فیصلہ کن پیشرفت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر تنظیمی کمزوریاں اور مختلف دھڑوں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان بھی اس عمل کو متاثر کر رہا ہے۔ تاہم پی ٹی آئی حلقوں کے مطابق تحریک انصاف عمران خان کی رہائی کیلئے پر عزم ہے اور مختلف طرح کی حکمت عملی اپنانے پر غور کر رہی ہے جس کے تحت آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی ایک بار پھر سیاسی سرگرمیوں اور ممکنہ سٹریٹ موومنٹ کا آغاز کر سکتی ہے، جبکہ ساتھ ہی قانونی جنگ کو بھی مزید تیزکر سکتی ہے۔ اسی سلسلے میں بعض رہنماؤں کی جانب سے “رہائی فورس” کے قیام کی باتیں بھی سامنے آ رہی ہیں، جسے مستقبل کی ایک نئی سیاسی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔مجموعی طور پر عمران خان کی رہائی کا معاملہ اس وقت قانونی، سیاسی اور تنظیمی تینوں محاذوں پر ایک پیچیدہ صورت اختیار کر چکا ہے، جہاں فوری نتائج کے بجائے ایک طویل اور مرحلہ وار سیاسی و عدالتی جدوجہد کے امکانات زیادہ نمایاں نظر آرہے ہیں۔
