عمران خان کا پہلے خط پر ’جواب‘ سے پہلے آرمی چیف کو دوسرا کھلا خط

عمران خان نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو ایک مرتبہ پھر کھلا خط لکھ کر فوج اور عوام میں بڑھتی ہوئی دوریاں کم کرنےکی درخواست کی ہے اور کہا ہےکہ فوج اپنی آئینی حدود میں واپس جائے۔
عمران خان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو لکھے گئے دوسرے خط کو سوشل میڈیا پر جاری کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق اس اکاؤنٹ پر جاری کردہ پیغامات اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی ہدایت پر ہی جاری کیے جاتے ہیں۔
اس کھلے خط میں عمران خان نے لکھا ہےکہ ’میں نے ملک و قوم کی بہتری کی خاطر نیک نیتی سے آرمی چیف (آپ) کےنام کھلا خط لکھا،تاکہ فوج اور عوام کے درمیان دن بدن بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کیا جاسکے لیکن اس کا جواب انتہائی غیر سنجیدگی اور غیر ذمہ داری سے دیا گیا۔‘
عمران خان نے اس کھلے خط میں لکھا ہےکہ ’میرا جینا مرنا صرف اور صرف پاکستان میں ہے۔ مجھے صرف اور صرف اپنی فوج کے تاثر اور عوام اور فوج کے درمیان بڑھتی خلیج کے ممکنہ مضمرات کی فکر ہے، جس کی وجہ سے میں نے یہ خط لکھا۔ میں نے جن 6 نکات کی نشاندہی کی ہے ان پر اگر عوامی رائےلی جائے تو 90 فیصد عوام ان نکات کی حمایت کرےگی۔‘
عمران خان کی جانب سے چھ نکات کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں مبینہ طور پر’الیکشن میں دھاندلی اور نتائج میں تبدیلی،چھبیسویں آئینی ترمیم،من پسند ججز کی بھرتیاں،پیکا کا اطلاق کرنا،سیاسی عدم استحکام سے ملک کی معیشت کی تباہی اور ریاستی اداروں کا اپنے فرائض چھوڑ کر سیاسی انجینئیرنگ اور سیاسی انتقام میں شامل کرنا‘ شامل ہیں۔
عمران خان کے خط میں کہاگیا کہ ’دہشت گردی کےخلاف جنگ میں کامیابی کےلیے ضروری ہے کہ قوم فوج کے پیچھےکھڑی ہو۔‘
انہوں نے آرمی چیف کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا تھاکہ ’فوج کو اپنی آئینی حدود میں واپس جانا ہوا۔سیاست سے خود کو علیحدہ کرنا اور اپنی متعین کردہ ذمہ داریاں پوری کرنا ہوگا ورنہ یہی بڑھتی خلیج قومی سلامتی کی اصطلاح میں فالٹ لائنز بن جائےگی۔‘
اس خط میں جیل میں ان کےساتھ مبینہ ناروا سلوک سےمتعلق بھی متعدد الزامات عائد کیے گئے۔
خط میں مزید کہاگیاکہ ’9 مئی اور 26 نومبر کو ہمارے نہتے جمہوریت پسند کارکنان پر ظلم و تشدد کی انتہا کر دی گئی۔ پر امن شہریوں پر سیدھی گولیاں چلائی گئیں۔ سیاسی انتقام کی آڑ میں تین سال میں لاکھوں شہریوں کے گھروں پر چھاپے مارےگئے،ہمارے 20 ہزار سے زائد ورکرز اور سپورٹرز کو گرفتار کیاگیا۔‘
’میری اہلیہ، ڈاکٹر یاسمین راشد،میری دونوں بہنیوںس سمیت سینکڑوں خواتین کو بے جا پابند سلاسل رکھاگیا۔ ہمارے دین کا حکم تو یہ ہےکہ جنگی حالات میں دشمن کی عورتوں اور بچوں سے بھی بدسلوکی نہ کی جائے۔ یہ سب ہماری روایات کے منافی ہے اور اس کی وجہ سے عوام میں فوج کےخلاف نفرت بہت بڑھ گئی ہے جس کا سدباب بروقت ہو جائے تو یہ فوج اور ملک دونوں کےحق میں بہتر ہے ورنہ اس سب سے ناقابل تلافی خسارہ اٹھانا پڑسکتا ہے۔‘
انہوں نے خط میں خبر دار کیاکہ ’پیکا جیسےکالے قانون کےذریعے سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر بھی قدغن لگادی گئی ہے۔اس سب کی وجہ سے پاکستان کا جی ایس پی پلس سٹیٹس بھی خطرےمیں ہے۔انٹرنیٹ میں خلل کی وجہ سے ہماری آئی ٹی انڈسٹری کواربوں ڈالرز کا نقصان ہو چکا ہے اور نوجوانوں کا کیرئیر تباہ ہورہا ہے۔‘
’سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے معیشت کا برا حال ہےاور سرمایہ کار اور ہنرمند افراد مجبور ہو گئے ہیں کہ پاکستان چھوڑ کر اپنے سرمائے سمیت تیزی سےبیرون ملک منتقل ہو جائیں۔‘
بشریٰ بی بی کا حالیہ احتجاج کے مقدمات میں شامل تفتیش ہونے سے انکار
یاد رہےکہ عمران خان کے دوسرے کھلے خط کا متن لگ بھگ پہلے خط جیسا ہی ہے اور یہ خط آج پاکستان کےعام انتخابات کو ایک سال مکمل ہونےپر جاری کیا گیاہے۔ آج ان کی جماعت پی ٹی آئی ’یومِ سیاہ‘ منارہی ہے اور ملک بھر میں احتجاج کی کال بھی دے رکھی ہے۔
