عمران خان کی بہنیں بھارتی میڈیا پر ملک کو بدنام کر رہی ہیں ، عطاتارڑ

وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنیں بھارتی نیوز چینلز پر جا کر ملک کے خلاف تاثر پیدا کر رہی ہیں، اور ایسے رویے پر انہوں نے سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں "چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے”۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے سابق وزیراعظم شہباز شریف پر جھوٹے الزامات عائد کیے تھے۔ عدالت میں شہباز شریف نے پیش ہو کر پی ٹی آئی کے وکیلوں کے سوالات کے جواب دیے، جبکہ بانی پی ٹی آئی مختلف فورمز پر انہی الزامات کو دہراتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیشتر سیاسی و معاشی فیصلے ان کی اہلیہ کی مشاورت سے کیے جاتے تھے، اور عالمی میڈیا بھی اب اس پورے نظام پر سوال اٹھا رہا ہے۔ ان کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے 2017 کے دھرنوں میں بھی بے بنیاد الزامات کا سہارا لیا۔
وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ وانا کیڈٹ کالج میں ہونے والی صورتحال اے پی ایس جیسے بڑے سانحے میں تبدیل ہو سکتی تھی، مگر پاک فوج نے بروقت کارروائی کر کے 500 سے زائد طلبہ کو بحفاظت نکالا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن کا خواہاں رہا ہے اور دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا مطالبہ غیر قانونی ہے، اور یہ چند لوگ مسلسل امن و امان کی صورتحال خراب کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھارت اور افغانستان سے چلائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ہزاروں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں چل رہی ہیں اور صوبائی حکومت ان کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کے پی میں ڈرگ کارٹل سرگرم ہے، پہاڑوں کی غیر قانونی کٹائی ہو رہی ہے اور کانوں کے ٹھیکوں میں بے ضابطگیاں موجود ہیں۔
عطا تارڑ نے الزام لگایا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنیں 9 مئی کو کور کمانڈر ہاؤس میں موجود تھیں اور اس حوالے سے شواہد دستیاب ہیں۔ ان کے مطابق بھارتی اور افغان میڈیا پر بانی پی ٹی آئی کی بہنیں انٹرویو دے کر ملک کی بدنامی کا باعث بن رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کے پی کی حکومت منشیات فروشوں کے ساتھ روابط رکھتی ہے اور اربوں روپے کا ٹیکس چوری ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب افغانستان کی جانب سے دراندازی ہوئی تو پاک فوج نے بھرپور جواب دیا جس پر پی ٹی آئی کو افسوس ہوا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ 9 مئی کا واقعہ فوج کو اندرونی طور پر کمزور کرنے کی کوشش تھی لیکن منصوبہ ناکام ہوا۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج ملک کی سرحدوں کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دے سکتی ہیں۔
