عمران خان کے بیٹے قانونی شرائط پوری کرکے پاکستان آسکتے ہیں : خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ عمران خان کے بیٹوں کو پاکستان آنے سے حکومت کیوں روکے گی؟ قاسم اور سلیمان اجازت اور قانونی شرائط پوری کرکے پاکستان آسکتے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان کے بیٹے فیصلہ کررہے ہیں تو بالکل پاکستان آئیں،ہمارا مؤقف صرف یہ ہے کہ پی ٹی آئی تشدد کی راہ اختیار نہ کرے۔سیاسی جماعتوں کو پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے اور اس کی اجازت دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان آنے کےلیے اجازت اور قانونی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ میں نے میڈیا پر پڑھا ہےکہ خود عمران خان نے اپنے بیٹوں کو نہ آنے کا مشورہ دیا ہے۔

خواجہ آصف کاکہنا تھاکہ اگر پی ٹی آئی کا مقصد دوبارہ 9 مئی یا 26 نومبر جیسے واقعات دہرانا ہے تو ایسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

بھارتی وزیراعظم پر تنقید کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ نریندر مودی کی کشتی اب ڈوب چکی ہے۔ وہ صرف بیانات دے کر اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن پاک فوج اور پاکستانی قوم نے اس کی ساکھ خاک میں ملا دی، اور اب وہ بین الاقوامی سطح پر تنہا ہوچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مودی جس سے مصافحہ کرنا چاہتا ہے وہ ہاتھ نہیں ملاتا، جس سے گلے ملنا چاہتا ہے وہ گلے نہیں ملاتا۔ نریندر مودی اب عالمی سطح پر مذاق بن چکا ہے۔ بھارتی پارلیمنٹ میں بھی اسے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ خود بھارتی میڈیا اور فوج یہ تسلیم کررہے ہیں کہ ان کے جہاز گرائے گئے، اب مودی کو بھی حقیقت تسلیم کرلینی چاہیے، اس کا سیاسی سورج غروب ہوچکا ہے۔

فلسطین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہاکہ بڑی طاقتوں نے فلسطینی عوام پر قحط مسلط کیا ہے،لیکن اب ان کی قربانیاں رنگ لارہی ہیں۔ جس طرح غزہ کے بچوں کو بھوکا مارا جارہا ہے، یہ انسانیت کےلیے شرمناک ہے۔ قحط، بھوک اور بیماریوں سے مرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ برطانیہ اور فرانس کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا ایک اہم پیش رفت ہے۔ برطانیہ پر اخلاقی قرض ہے کیوں کہ اسرائیلی ریاست کا قیام اسی نے ممکن بنایا۔ 1921 کا اعلانِ بالفور برطانیہ کی ایک بڑی سازش تھی۔

عمران خان کا بیٹوں کو پاکستان نہ بلانا سیاسی ڈرامہ ہے، خواجہ آصف

خواجہ آصف نے مطالبہ کیا کہ برطانیہ کو اب فلسطینی عوام کے ساتھ ہونے والے مظالم کا ازالہ کرنا چاہیے اور اپنی تاریخی غلطیوں کا کفارہ ادا کرنا ہوگا۔

Back to top button