نائیکوپ گم ہونے کے باعث عمران خان کے بیٹے پاکستان نہیں آ سکے: علیمہ خان

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے حال ہی میں خیبر پختونخوا سے منتخب ہونے والی سینیٹر مشال یوسفزئی کی نامزدگی کو میرٹ کے برخلاف قرار دیا ہے۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سوال کے جواب میں علیمہ خان کا کہنا تھا کہ وہ مشال یوسفزئی جیسے افراد پر بات کر کے اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہتیں۔
انہوں نے کہا، "سینیٹرز کا انتخاب میرٹ پر ہونا چاہیے تھا، انصاف ہونا چاہیے تھا۔ اگر میرٹ کی بات کی جائے تو مشال کے علاوہ بھی کئی اہل افراد موجود تھے۔”
عمران خان کے بیٹوں کی پاکستان آمد سے متعلق سوال پر علیمہ خان نے بتایا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کے پاس نائیکوپ موجود تھا، جو اب گم ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق، بچوں نے نیا نائیکوپ اور ویزا حاصل کرنے کے لیے درخواست دے رکھی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سفارت خانے نے یہ کہہ کر لاعلمی ظاہر کی کہ کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی، حالانکہ علیمہ خان کے مطابق درخواست کا ٹریکنگ نمبر ان کے پاس موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا، "ایک دوست نے پاکستانی سفیر کو فون کیا تو انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ سے اجازت لینا ضروری ہے۔ میں نے کہا، اجازت لینی ہے تو محسن نقوی سے لے لیں۔”
علیمہ خان نے مزید کہا کہ اب کنفیوژن یہ ہے کہ وزارت داخلہ نہیں بلکہ وزارت خارجہ ویزا جاری کرتی ہے، اور ایمبیسیڈر اب کوئی جواب نہیں دے رہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایمرجنسی میں ویزا ایک گھنٹے میں جاری ہو سکتا ہے تو یہاں تاخیر کیوں ہو رہی ہے۔
بھارت علی امین گنڈاپور کا بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کررہا ہے : سلمان اکرم راجا
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی تحریک سے متعلق فیصلہ ہر فرد کو خود کرنا ہے۔
"ہم دو سال سے جیلوں اور عدالتوں کے چکر لگا رہے ہیں، اپنے بھائی کی رہائی کے لیے کوشاں ہیں۔ تحریک کا مقصد رہائی ہے، اور ہم خود اس تحریک کا حصہ ضرور بنیں گے۔ اگر ہمیں گرفتار کرنا ہے تو کر لیں۔”
انہوں نے کہا کہ عمران خان سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے بچے تحریک میں شامل ہوں گے، جس پر بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ "تحریک چلانے کے لیے ان کا والد ہی کافی ہے۔”
علیمہ خان نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ بانی نے اپنے بچوں کو پاکستان آنے سے روکا ہے۔
