عمران کے بیٹوں کا غلط وقت پر دورہ امریکہ، ٹرمپ کارڈ ضائع کر دیا

معروف صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ میں عمران خان کی سیاست بارے تمام تر تحفظات کے باوجود انکے بیٹوں کی پریشانی سمجھ سکتا ہوں، لیکن انہیں غلط موقع پر امریکہ کے لاحاصل دورے پر اکسانے والوں نے ٹرمپ کارڈ قبل از وقت کھیل کر ضائع کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ دورہ ایسے موقع پر کیا گیا جب پاکستان اور امریکہ کے تعلقات مثالی قرار دیے جا رہے ہیں، ایسے میں عمران خان کی رہائی کی بات کرنے کے لیے مناسب موقع کا انتظار کیا جانا چاہیے تھا۔
نصرت جاوید اپنے تازہ تجزیے میں کہتے ہیں کہ عمران خان کسی فرد کو دن دہاڑے قتل کرنے کے الزام یا یہ جرم ثابت ہونے کی وجہ سے قید میں ہوتے تب بھی ان کے بچوں کا اپنے باپ سے خیرخیریت جاننے کے لیے رابطے میں رہنا فطری حق ہے جس کی پامالی نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن عمران خان کی بہن علیمہ خانم یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان کو اپنے بچوںسے ٹیلی فون پر رابطے کی سہولت فراہم نہیں کی جارہی۔ علیمہ کو بھی عموماً اپنے بھائی سے ملاقات کرنے نہیں دی جارہی۔
لیکن اگر یہ دعوے درست ہیں تب بھی عمران کے بیٹوں کو امریکا جانے سے پہلے پاکستان آنا چاہیے تھا، ان کا کیس تب مضبوط ہوتا جب وہ پاکستان آتے لیکن انہیں اپنے قیدی باپ سے ملنے کی اجازت نہ ملتی۔ ایسی صورت میں ثابت ہو جاتا کہ حکومت پاکستان واقعتا خان کے بچوں کو ان کا بنیادی حق فراہم نہیں کر رہی۔
لیکن نصرت جاوید کہتے ہیں کہ ’حق دعویٰ‘ کے ٹھوس اظہار کے بغیر عمران خان کے دونوں فرزند حکومت پاکستان پر ’دبائو‘ بڑھانے امریکا پہنچ گئے۔ قاسم اور سلمان خان کا اپنے حق کے حصول کے لیے امریکا سے مدد لینے کا فیصلہ اپنے تئیں حیران کن تھا کیونکہ ان کے والد محترم نے تو امریکہ پر سائفر سازش کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کے خلاف ایبسولیوٹلی ناٹ کا نعرہ بلند کیا تھا۔
اپریل 2022 میں تحریک عدم اعتماد کے نتیجے میں وزارتِ عظمیٰ کا منصب کھو دینے کے بعد عمران مسلسل یہ دعویٰ کرتے رہے کہ ان کی حکومت بائیڈن حکومت کی رچائی کوئی ’رجیم چینج‘ کی سازش کا شکار ہوئی ۔سیاست میں داخل ہونے کے چند سال بعد وہ امریکا کے پاکستان اور افغانستان پر ڈرون حملے کے سخت مخالف رہے۔ اپنے اقتدار کے دوران بھی انھوں نے امریکا سے ’فاصلہ‘ رکھا۔ موصوف مسلم امہ کو متحد کرنے کی کوششوں میں جتے رہے۔ 2022 شروع ہوتے ہی قائد ملت نے روس کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کافیصلہ بھی کر لیا۔ یوکرین پر حملے سے عین ایک دن قبل وہ روسی صدر پوٹن سے ملنے ماسکو پہنچ گئے۔ ان کا دورئہ روس بقول عمران بائیڈن انتظامیہ کو ناپسند آیا اور اپنی خفگی کا اظہار اس نے واشنگٹن میں تعینات پاکستانی سفیر سے اپنی وزارت خارجہ کے ذریعے کیا۔ پاکستانی سفیر نے اس مبینہ خفگی کو ایک سائفر کی صورت میں بیان کردیا۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ پاکستان اور روس کی ممکنہ قربت کی وجہ سے عمران حکومت ہٹائے جانے کی داستان بانی تحریک انصاف نے ہر شہر میں جاکر سنائی۔ قومی سلامتی کے قمر جاوید باجوہ جیسے نگہبانوں کو یہ داستان سناتے ہوئے وہ حقارت سے ’میر جعفر‘ پکارتے رہے۔ ان کے بیانات نے سادہ لوح پاکستانیوں کی اکثریت کو اس گماں میں مبتلا کردیا کہ بالآخر ایک طویل عرصے کے بعد انکے خطے سے دنیا کی واحد سپر طاقت کہلاتے ملک کو ’ایبسولوٹلی ناٹ‘ کہنے والا نڈر رہنما مل گیا ہے۔ چنانچہ جس ملک سے مزاحمت کرنے کے نام پر عمران ’ہیرو‘ بنے اسی ملک سے پاکستانی حکام پر دبائو ڈلوانے کے لیے ان کے بچوں کا امریکہ جانا ایک حیران کن فیصلہ ہے اور وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کو مثالی قرار دیا جا رہا ہے۔
لیکن نصرت جاوید کہتے ہیں کہ عاشقانِ عمران اپنے دفاع میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ عمران خان کا جھگڑا بائیڈن انتظامیہ سے تھا۔ ٹرمپ سے وہ اس کے سابقہ دور صدارت میں وائٹ ہائوس جاکر ملاقات کرچکے تھے۔ وہ یہ دعوی بھی کر چکے ہیں کہ بطعر وزیر اعثم عمران سے ملاقات کے دوران ٹرمپ ان کی شخصیت سے بہت متاثر ہوئے تھے۔ اسی لیے ان کا دل جیتنے کے لیے ٹرمپ نے یہ پیشکش بھی کردی کہ وہ بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر کا حل ڈھونڈنے کے لیے ثالث کا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن سادہ لفظوں میں عمران کے بیٹوں نے اپنے باپ کی طرح ایک بڑا یو ٹرن لیا اور ایبسولوٹلی ناٹ کے نعرے کو وہیں گھسا دیا جہاں سے وہ بلند ہوا تھا۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ قاسم اور سلمان کے دورہ امریکا کا کلیدی مقصد اپنے والد کے امریکی دوست ٹرمپ تک رسائی کے بعد ان سے یہ درخواست کرنا تھا کہ وہ حکومت پاکستان پر انکے ابو کی رہائی اور ان سے بہتر رویہ اپنانے کے لیے دباؤ ڈالیں۔ لیکن عمران کے بیٹوں کے امریکا پہنچنے سے چند ہفتے قبل صدر ٹرمپ نے پروٹوکول کے تمام تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشلبجنرل عاصم منیر کو وائٹ ہائوس میں دوپہر کے کھانے کے لیے مدعو کر لیا۔ اس ملاقات کے حوالے سے کہیں سے یہ ’خبر‘ نہیں آئی کہ اسکے دوران امریکی صدر نے عمران خان کی قید کا ذکر کیا ہو۔ لیکن اس تاریخی ملاقات کے باوجود کسی سیانے کے مشورے پر بانی تحریک انصاف کے دونوں فرزند امریکا پہنچ گئے۔ وہاں انھوں نے امریکی دارالحکومت واشنگٹن کی بجائے اپنا زیادہ وقت کیلیفورنیا ریاست میں صرف کیا۔
بتایا جاتا ہے کہ وہاں اپنے چند روزہ قیام کے دوران عمران کے بیٹوں نے سات اراکین کانگریس سے ملاقاتیں کیں جن میں سے چار کا تعلق ڈیمو کریٹ پارٹی سے تھا۔ وہ ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے تین اراکین سے ملے۔ یہ تینوں ٹویٹر پر عمران کی رہائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ اگرچہ ان کی اہم ترین ملاقات صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی رچرڈ گرنیل سے ہوئی، تاہم وہ ٹرمپ کو عمران کے بیٹوں سے ملاقات پر آمادہ نہیں کر پائے۔ نصرت جاوید کہتے ہیں کہ میں رچرڈ گرنیل کے علاوہ کسی اور ایسے شخص کی نشاندہی میں ناکام رہا ہوں جسے ٹرمپ کا ’قریبی‘ قرار دیا جاسکتا ہے۔ لہذا یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ عمران خان کے بیٹوں نے دورہ امریکہ کے لیے نہایت غلط وقت کا انتخاب کیا اور ٹرمپ کارڈ قبل از وقت کھیل کر ضائع کر دیا۔
