بری ہونے والے شاہ محمود قریشی پر عمران خان کا شک درست نکلا

تحریک انصاف کوٹ لکھپت گروپ کے سرغنہ شاہ محمود قریشی کی 9 مئی کے حملہ کیس میں بریت نے پی ٹی آئی اڈیالہ جیل گروپ کے قائد عمران خان کا اپنے سینئیر وائس چیئرمین بارے فوجی اسٹیبلشمنٹ کیساتھ مل کر کھیلنے کا شک درست ثابت کر دیا ہے۔ جہاں ایک جانب عمران کو حکومت کے ساتھ مذاکرات کی تجویز پر مبنی خط لکھنے والے شاہ محمود کو بری کر دیا گیا ہے وہیں انکے شریک ملزمان یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری اور عمر چیمہ کو 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ اس فیصلے سے چند گھنٹے پہلے انسداد دہشت گردی سرگودھا کی ایک عدالت نے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر احمد خان بھچر اور سابق مسلم لیگی رہنما حامد ناصر چٹھہ کے بیٹے احمد ناصر چٹھہ کو بھی 9 مئی کے کیسز میں 10، 10 برس قید کی سزا سنا دی تھی۔ تحریک انصاف کے چئیرمین بیرسٹر گوہر خان نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کو انصاف کا قتل قرار دیا یے جبکہ حکومتی حلقوں نے اسے انصاف کا بول بالا قرار دیا ہے۔ وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے قانون اور آئین اور سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق چار ماہ کے اندر کرنے کے حکمنامے کی روشنی میں سنائے جا رہے ہیں، عقیل ملک کا کہنا ہے کہ سزا یافتہ ارکان پارلیمنٹ اپنی سیٹوں سے محروم ہونے جا رہے ہیں جس کے بعد ان نشستوں پر ضمنی الیکشن ہوں گے۔

اس سے پہلے پارٹی کے اینٹی مذاکرات اڈیالہ گروپ اور پرو مذاکرات کوٹ لکھپت گروپ کی جنگ میں تیزی آنے کے بعد عمران نے بالآخر اپنی ویٹو پاور استعمال کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کی حکومت سے مذاکرات کی تجویز سختی سے رد کر دی تھی اور پانچ اگست سے حکومت مخالف تحریک چلانے کا اعلان کیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مذاکرات کی تجویز پر مبنی شاہ محمود قریشی کی جانب سے لکھے جانے والے خط پر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری اور عمر چیمہ کے دستخط بھی موجود تھے جنہیں اب 9 مئی کے کیسز میں 10، 10 سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔

شاہ محمود قریشی اور چار دیگر پارٹی رہنماؤں نے عمران کے نام خط میں تجویز دی تھی کہ بند گلی سے نکلنے کا واحد راستہ حکومت کے ساتھ مذاکرات ہیں۔ شاہ محمود قریشی کے مذاکرات کے لیے خط لکھنے کی وجہ یہ تھی کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایات کی روشنی میں 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث پارٹی ورکرز اور رہنماؤں کے خلاف دائر کیسز کے فیصلے سنانے کی ڈیڈ لائن قریب آ رہی ہے، اور اسی لیے اب فیصلے بھی آنا شروع ہو چکے ہیں۔

عدالت سے بریت کے بعد جہاں شاہ محمود قریشی پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر کھیل رہے ہیں وہیں ان کے ساتھیوں کا دعوی ہے کہ یہ جھوٹا پروپگینڈا ان کے پی ٹی آئی میں موجود مخالفین کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ انکے مطابق شاہ محمود کی بریت اس لیے ہوئی ہے کہ وہ 9 مئی کو کراچی اپنی بیمار اہلیہ کی عیادت کے لیے گئے ہوئے تھے، جبکہ فوجی تنصیبات پر حملوں کے سارے واقعات پنجاب میں ہوئے۔ شاہ محمود قریشی کے وکلا نے بھی ٹرائل کورٹ کو یہی بتایا تھا کہ انکا نام واضح طور پر کابینہ کمیٹی کی اُس رپورٹ میں شامل نہیں تھا جو گزشتہ نگران حکومت نے 9؍ مئی 2023ء کے واقعات کی منصوبہ بندی کے حوالے سے تیار کی تھی۔ شاہ محمود کے خلاف ان واقعات سے متعلق ایف آئی آرز ضرور درج کی گئی تھیں، لیکن سرکاری رپورٹ میں اُن کا نام کہیں نہیں تھا۔ رپورٹ میں پی ٹی آئی کے صدر چوہدری پرویز الٰہی کا نام بھی شامل نہیں تھا، جس سے ان کیخلاف عائد کردہ الزامات کی قانونی جواز پر سوالات پیدا ہوئے تھے۔ کابینہ کمیٹی کی یہ رپورٹ بعد میں موجودہ وفاقی کابینہ کے روبرو بھی پیش کی گئی تھی جس میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے مبینہ کردار کا ذکر تھا۔

9 مئی مقدمات : عدالتی فیصلے سے قانون کی بالا دستی قائم ہوئی ، بیرسٹر عقیل ملک

رپورٹ کے مطابق عمران خان پر 9 مئی کے حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا گیا، جبکہ ایک طویل فہرست میں حماد اظہر، فیصل جاوید، زرتاج گل، مراد سعید، فرخ حبیب، علی امین گنڈاپور، یاسمین راشد، محمود الرشید، اعجاز چوہدری اور دیگر رہنماؤں کے نام شامل تھے۔ لیکن شاہ محمود اور پرویز الٰہی کا ذکر کہیں نہیں تھا۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ 9 مئی کے حملوں میں ملوث نہ ہونے کے باوجود شاہ محمود قریشی کو اتنا لمبا عرصہ جیل میں رکھ کر طویل قانونی کارروائی میں کیوں الجھایا گیا۔ سچ جو بھی ہو، شاہ محمود قریشی کو بریت کے بعد کپتان کے ساتھیوں کی جانب سے غداری کے الزامات کا سامنا لازمی کرنا پڑے گا۔

Back to top button