عمران کے دونوں بیٹےامریکی گارنٹی کے بغیر پاکستان آنے سے انکاری

پی ٹی آئی کی مقامی قیادت کے دعوؤں اور بیانات کے برعکس عمران خان کے دونوں بیٹوں قاسم اور سلمان نے کسی بین الاقوامی سیکیورٹی گارنٹی کے بغیر پاکستان آنے سے انکار کر دیا ہے جبکہ جمائما خان نے بھی بظاہر اب تک اپنے بچوں کو پاکستان آنے کی اجازت نہیں دی، جس کے بعد قاسم اور سلیمان تحریک انصاف کی 5 اگست کی احتجاجی تحریک میں شرکت کے امکانات معدوم ہو گئے ہیں۔
پی ٹی آئی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کے دونوں بیٹے تب تک پاکستان نہیں آئیں گے جب تک انہیں کسی بڑی عالمی طاقت خاص طور پر امریکہ کی طرف سے سیکیورٹی کی واضح یقین دہانی نہیں ملتی۔ تاہم مبصرین کے مطابق یہاں قابل غور بات یہ بھی ہے کہ ماضی میں سابقہ وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو جیسے قد آور رہنما کو بھی سیکیورٹی کی یقین دہانی امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے دی تھی، مگر پھر بھی وہ راولپنڈی میں قاتلانہ حملے کا شکار ہو گئیں۔ ایسے میں اگر قاسم و سلمان امریکہ سے یقین دہانی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ امریکہ کی سیکیورٹی گارنٹی بھی ماضی میں جان کی ضمانت ثابت نہیں ہوئی تھی۔ موجودہ حالات میں عمران خان کے دونوں بیٹوں کی پاکستان آمد کسی خطرے سے خالی نہیں ہو گی۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ عمران خان کے دنوں بیٹوں نے والدہ کی مخالفت کے باوجود سیکورٹی گارنٹی کے حصول کیلئے امریکہ کا دورہ بھی کیا اور انھوں نے اس حوالے سے امریکی صدر ٹرمپ اور دیگر بااثر حلقوں سے رابطے کی کوشش بھی کی، لیکن ان کی تمام کوششیں رائیگاں گئیں اور ان کی کسی بااثر شخصیت سے ملاقات نہ ہو سکی۔ جن امریکی رہنماؤں سے قاسم اور سلیمان کی ملاقات ہوئی بھی انھوں نے بھی دونوں کو تسلیاں دے کر روانہ کر دیا۔ جس کے بعد جمائما خان نے فوری دونوں بیٹوں کو امریکہ سے واپس لندن بلا لیا۔ مبصرین کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ فی الوقت نہ عمران خان کو سنجیدہ لے رہے ہیں اور نہ ہی ان کی رہائی یا بیٹوں کی واپسی کے معاملے میں کوئی دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کا فوکس اس وقت عمران خان کو بچانے کو بجائے صرف "مودی کو ذلیل” کرنے پر ہے۔جو اس بات کا اشارہ ہے کہ ٹرمپ کو پاکستانی حکومت سے فی الحال کوئی مسئلہ نہیں اور وہ موجودہ ریلیشن شپ برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق عمران خان کے بیٹوں کی پاکستان آمد کا معاملہ درحقیقت سیکیورٹی کی ضمانت سے زیادہ سیاسی موبلائزیشن کی ایک ناکام کوشش ثابت ہو رہا ہے۔ پی ٹی آئی نے قاسم اور سلمان کی وطن واپسی کی خبروں کو کارکنوں میں نیا جوش بھرنے اور تحریک کو زندہ رکھنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی، مگر جلد ہی یہ معاملہ خود پارٹی کے اندرونی حلقوں میں بھی مشکوک سمجھا جانے لگا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ سیکیورٹی کی وہ بین الاقوامی ضمانتیں جو بظاہر لی جا رہی ہیں، نہ صرف غیر یقینی ہیں بلکہ ان کی نظیر بے نظیر بھٹو کے قتل کی صورت میں ایک خونی باب کی شکل میں تاریخ میں لکھی جا چکی ہے۔ اس حقیقت کو بھی جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ پی ٹی آئی بانی کے بیٹے امریکہ میں سیکیورٹی ضمانت کے لیے سرگرم ضرور رہے، لیکن وہاں بھی ان کی سننے والا کوئی نہیں نکلا۔
خیال رہے کہ کچھ روز قبل سوشل میڈیا اور پی ٹی آئی کے قریبی ذرائع کی طرف سے یہ دعویٰ سامنے آیا کہ عمران خان کے بیٹے قاسم اور سلمان اپنے والد کی سیاسی احتجاجی تحریک میں عملی کردار ادا کرنے پاکستان آرہے ہیں۔ پارٹی کے کچھ ورکرز اور عام حامیوں میں اس خبر نے وقتی طور پر جوش پیدا کیا، لیکن جلد ہی مختلف حلقوں سے یہ خبر سامنے آنے لگی کہ بیٹوں کی آمد کا کوئی باقاعدہ شیڈول موجود نہیں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر موجود مذہبی حلقے بھی قاسم و سلمان کی واپسی کے خلاف نظر آتے ہیں۔ مذہبی رجحان رکھنے والے بعض رہنماؤں نے ان پر "ختمِ نبوت” کے مخالف حلقوں سے تعلق رکھنے کا الزام لگایا، جس کے باعث اندرونی مخالفت مزید شدت اختیار کر گئی۔ دوسری جانب قاسم اور سلیمان کی پاکستان آمد بارے زمان پارک سے بھی کوئی خاص تیاری یا سیکیورٹی انتظامات کی خبریں سامنے نہیں آئیں، جو اس بات کو مزید تقویت دیتی ہیں کہ عمران خان کے بیٹوں کی پاکستان آمد محض ایک سیاسی شوشہ تھا، اس حوالے سے کوئی بھی عملی منصوبہ موجود نہیں تھا۔
ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی قیادت نے عمران خان کے بیٹوں کی پاکستان آمد بارے سیاسی شوشہ محض کارکنوں میں تحرک پید کرنے کیلئے چھوڑا۔ تاہم اس شوشے سے پارٹی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا جبکہ یوتھیوں کی طرف سے بھی اس پر کوئی پرجوش رد عمل دیکھنے میں نہیں آیا۔ جس کے بعد قاسم اور سلیمان کی پاکستان آمد کا چیپٹر مکمل کلوز کر دیا ہے۔ اسی وجہ سے تاحال عمران خان کے بیٹوں کی پاکستان آمد کے حوالے سے زمان پارک سے بھی کوئی خاص تیاری یا سیکیورٹی انتظامات کی خبریں سامنے نہیں آئیں، جو اس تاثر کو مزید مضبوط بناتی ہے کہ عمران خان کے بیٹوں کی آمد محض ایک سیاسی بیانیہ تھا کیونکہ اگر قاسم اور سلیمان واقعی پاکستان آ رہے ہوتے تو پارٹی کو ان کی سیکیورٹی، رہائش اور کردار سے متعلق واضح ہدایات دی جا چکی ہوتیں جو تاحال نہیں دی گئیں۔۔مبصرین کا ماننا ہے کہ قاسم اور سلیمان کے پاکستان آنے کے امکانات معدوم ہو چکے ہیں کیونکہ جب تک ٹرمپ جیسی سطح سے مضبوط گارنٹی نہیں ملتی۔ تب تک جمائما اپنے بیٹوں کو پاکستان بھیجنے کا رسک نہیں لیں گی اور نہ ہی عمران خان اپنے بیٹوں کو پاکستان آنے کی اجازت دینگے۔
