عمران کو راولپنڈی سے کسی دور دراز جیل میں شفٹ کرنے کا امکان

 

 

عمران خان کے حامیوں کی جانب سے ہر ہفتے اڈیالہ جیل کے باہر جو ہنگامہ برپا کیا جاتا ہے اس نے اصل فیصلہ سازوں کی اس سوچ کو مزید پکا کر دیا ہے کہ عمران کو راولپنڈی سے کسی دور دراز جیل میں شفٹ کر دیا جائے تاکہ روز روز کا تماشہ بند ہو۔

 

معروف صحافی نصرت جاوید اپنے سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تحریک انصاف موروثی سیاست کو چاہے جتنا بھی ہدفِ تنقید بناتی رہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران یہ جماعت بتدریج اپنے بانی عمران خان کی بہنوں کی تیار کردہ حکمت عملی پر عمل پیرا نظر آ رہی ہے۔ نصرت جاوید کہتے ہیں کہ علیمہ خان کی رہنمائی میں تینوں بہنیں اپنے بھائی سے ملاقاتوں کے معاملے پر ایک نیا بیانیہ تشکیل دینے میں کامیاب رہی ہیں۔ ہر منگل کو پہلے علیمہ اور بعدازاں دیگر بہنیں اڈیالہ جیل میں قید بھائی سے ملنے کے لیے راولپنڈی پہنچتی رہیں۔ تاہم سیکیورٹی انتظامات کے باعث جیل تک رسائی مشکل ہونے پر بہنوں نے ملاقات کے مقررہ وقت گزرنے کے باوجود جیل کے باہر دھرنا دینا شروع کر دیا۔ ابتدا میں پولیس اندھیرا ہونے کے بعد انہیں وین میں بٹھا کر اسلام آباد اور لاہور کو ملانے والی موٹروے کے قریب مختلف مقامات، بالخصوص چکری کے اطراف، اتار دیتی تھی۔

 

نصرت جاوید کے مطابق جب بہنیں اپنی ملاقات کی ضد پر قائم رہیں تو پولیس نے روایتی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے تحریک انصاف کے کارکنوں کے خلاف کارروائیاں شروع کر دیں جو بہنوں کے لیے ’ڈھال‘ بنے ہوئے تھے۔ چند روز قبل ایک بہن کے ساتھ جان بوجھ کر ذلت آمیز سلوک بھی سامنے آیا۔ اس صورتحال کے بعد حکومتی بندوبست عمران خان کی ایک بہن سے ملاقات کروانے پر آمادہ ہوا۔ سینئیر صحافی کے مطابق عمران کی بہن کو ملاقات کی اجازت دیتے وقت اس پہلو کو بھی مدنظر رکھا گیا کہ افغان اور بھارتی میڈیا منظم انداز میں یہ فیک نیوز پھیلا رہا تھا کہ عمران خان قیدِ تنہائی میں سنگین طبی مسائل کا شکار ہو چکے ہیں، حتیٰ کہ بعض ایسی افواہیں بھی گردش میں تھیں جن کا ذکر کرنا بھی ناگوار ہے۔ ملاقات کے بعد بہن کی زبانی ان خبروں کی مؤثر تردید سامنے آئی۔

 

نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ ان کے طویل صحافتی تجربے کی بنیاد پر یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ملاقات تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان بیک ڈور رابطوں کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔ تاہم اس کے فوراً بعد لندن میں مقیم افغان نژاد اینکر یلدا حکیم کے شو میں علیمہ خان کی شرکت اور انکے بیانات نے ریاستی اداروں میں تشویش پیدا کی۔ اسی دوران عمران کے نام سے منسوب سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پیغام نے اس تشویش کو غصے میں بدل دیا، جس کا اظہار فوجی ترجمان کی سخت لب و لہجے کی پریس کانفرنس میں واضح طور پر نظر آیا۔ فوجی ترجمان نے عمران کی ٹویٹ کا جواب دیتے میں کہا کہ وہ خود ذہنی مریض ہیں۔ اس پریس کانفرنس کے بعد تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے کسی جامع مشاورت کے بجائے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے ہمراہ ایک نسبتاً محتاط پریس کانفرنس کی۔ اس کے اگلے روز خیبرپختونخوا کے نوجوان وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے پشاور کے پوش علاقے حیات آباد میں جلسے سے خطاب کیا، جہاں اشتعال انگیز نعروں اور تخت یا تختہ جیسے پیغامات سے گریز کیا گیا۔

 

نصرت جاوید لکھتے ہیں کہ یہ رویہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان کسی نئی مفاہمت کی راہ ہموار کر سکتا تھا، مگر منگل کے روز عمران خان کی بہنیں ایک بار پھر اڈیالہ روڈ پہنچ گئیں۔ پولیس کی جانب سے آگے بڑھنے سے روکے جانے پر انہوں نے دھرنا دے دیا، جس کی اطلاع سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلنے کے بعد تحریک انصاف کے جذباتی کارکن بھی وہاں جمع ہونا شروع ہو گئے۔ رات کے وقت پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کا فیصلہ کیا اور شدید سردی میں ٹھنڈے پانی کی بوچھاڑ کے ذریعے مظاہرین کو ہٹایا گیا۔ اس کارروائی کی تصاویر سامنے آنے پر عوامی اور صحافتی حلقوں میں افسوس اور تشویش کا اظہار کیا گیا۔

PTIکی کال پر عوام سڑکوں پر آنے سے انکاری کیوں؟

نصرت جاوید کے مطابق اڈیالہ روڈ پر مسلسل محاذ آرائی اور عمران خان کی بہن عظمیٰ خان کی گزشتہ ہفتے ملاقات کے بعد پیدا ہونے والی تلخی کے تناظر میں ریاست کے چند طاقتور حلقے سنجیدگی سے اس آپشن پر غور کر رہے ہیں کہ امن و امان یقینی بنانے کے نام پر عمران کو اڈیالہ جیل سے کسی اور جیل منتقل کر دیا جائے تاکہ یہ تماشا ختم ہو سکے۔ان کے مطابق اگر واقعی عمران خان کو کسی اور جیل منتقل کیا گیا تو تحریک انصاف کے دیرینہ اور مخلص حامی اس کا ذمہ دار علیمہ خان کی اپنائی گئی حکمت عملی کو ٹھہرائیں گے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جیل میں قید سیاسی رہنماؤں کے قریبی عزیز و اقارب کے جذباتی فیصلے ملکی سیاست میں معاملات کو مزید الجھانے کا باعث بنتے رہے ہیں۔

Back to top button