عمران کو اڈیالہ سے بلوچستان کی مچھ جیل شفٹ کرنے کا امکان

 

اسلام آباد میں ایک مرتبہ پھر افواہیں گردش کر رہی ہیں کہ عمران خان کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے کسی دوسری جیل میں شفٹ کرنے کی تیاریاں کی جا چکی ہیں اور اس سلسلے میں مختلف آپشنز زیر غور ہیں۔ باخبر ذرائع کے مطابق عمران خان کو بلوچستان کی مچھ جیل میں شفٹ کرنے کی آپشن بھی زیر غور ہے۔بیاد رہے کہ حکومت پہلے ہی اڈیالہ جیل میں عمران سے ہر قسم کی ملاقاتوں پر پابندی لگا چکی ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت اڈیالہ جیل کے باہر روز روز کے پھڈوں سے تنگ آ چکی ہے چنانچہ اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ انہیں ایسی جیل میں منتقل کر دیا جائے جہاں انکے خاندان کے لوگوں اور انکی جماعت کے کارکنوں کی رسائی مشکل ہو اور جیل کے آس پاس کا علاقہ بھی متاثر نہ ہو۔ ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو بلوچستان کی دور دراز مچھ جیل میں شفٹ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے لیکن اس حوالے سے مسئلہ یہ ہے کہ عمران کے مقدمات اسلام آباد کی حدود میں چل رہے ہیں اور ہر پیشی پر انہیں وفاقی دارالحکومت لانا آسان نہیں ہوگا۔ اس مسئلے کا ایک ممکنہ حل یہ تجویز کیا گیا ہے کہ متعلقہ عدالت میں انکی پیشی آن لائن ویڈیو سٹریمنگ کے ذریعے یقینی بنائی جائے۔

ذرائع کے مطابق دوسرا آپشن یہ ہے کہ عمران خان کو اسلام آباد یا اس کے اطراف کی کسی جیل یا کسی محفوظ مقام پر واحد قیدی کے طور پر رکھا جائے، جہاں کارکنوں کی رسائی ممکن نہ ہو۔ اس کے علاوہ بھی چند متبادل مقام زیر غور ہیں، جن پر حتمی فیصلہ آنے والے دنوں میں کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران کی اڈیالہ جیل سے ممکنہ منتقلی کا انحصار پی ٹی آئی کے رویے پر ہے۔ اگر اڈیالہ جیل کے باہر اب کوئی تصادم ہوتا ہے تو اس منصوبے پر فوری عمل درآمد کر دیا جائے گا۔ تاہم اگر پی ٹی آئی کی قیادت اڈیالہ جیل کے باہر اپنے روز روز کے ہنگاموں سے پیچھے ہٹتی ہے تو اس منصوبے پر نظرِ ثانی بھی کی جا سکتی ہے۔

یاد رہے عمران سے ملاقاتوں پر پابندی کا دفاع کرتے ہوئے حکومتی حلقوں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ 190 ملین پاؤنڈ کرپشن کیس میں سزا یافتہ عمران خان کو جیل میں اپنے خاندان، وکلا اور سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کی غیر معمولی سہولت دی جاتی رہی۔ مجموعی طور پر عمران خان کی اڈیالہ جیل میں 300 سے زائد ملاقاتیں ہوئیں، جن میں 189 ملاقاتیں صرف فیملی اراکین کے ساتھ تھیں جبکہ سیاسی رہنماؤں سے درجنوں ملاقاتیں اس کے علاوہ ہیں۔ اگر تعداد دیکھی جائے تو تقریباً ہر دوسرے روز ایک ملاقات بنتی ہے۔ حکومتی حلقوں کے مطابق یہ رعایت کسی اور سیاسی قیدی کو کبھی نہیں ملی۔ مگر ہر ملاقات کے بعد ریاست اور عسکری قیادت کے خلاف عمران کا جو بیانیہ سامنے آتا رہا، وہ ان کے اپنے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا ہے۔

سرکاری حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان پریزن رولز 1978 کے مطابق ایک سزا یافتہ قیدی کو کسی قسم کی سیاسی سرگرمی کی اجازت نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق عمران نے ہر ملاقات کو سیاسی بیانیہ بڑھانے کے لیے استعمال کیا، جس کی دنیا کے کسی ملک میں اجازت نہیں ہوتی۔ حکومت کا ماننا ہے کہ بانی پی ٹی آئی جیل کو سیاسی دفتر کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور اڈیالہ جیل میں خاندان اور پارٹی رہنماؤں سے ملاقاتوں کے ذریعے فوج مخالف بیانیہ آگے بڑھایا جا رہا ہے، جس سے ملک میں انتشار پھیل رہا ہے۔ دوسری جانب عمران خان کی بہنوں اور کارکنوں کی جانب سے اڈیالہ جیل کے باہر جمع ہونے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس ہجوم کو روکنے کے لیے ہی عمران خان کو کسی دوسری جیل میں منتقل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق خاص طور پر منگل کے روز اڈیالہ جیل کے قریب کارکنوں کی دوبارہ ہلڑ بازی اور عمران خان کی تینوں بہنوں کی وہاں موجودگی نے اس منصوبے کو عملی شکل دینے کے قریب تر کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل تقریباً ایک ماہ بعد عمران خان کی بہنوں کو اس شرط پر ملاقات کی اجازت دی گئی تھی کہ وہ بعد میں کسی قسم کی پریس کانفرنس یا سیاسی بیان نہیں دیں گی۔ تاہم ملاقات کے فوراً بعد عمران خان کی بہن نورین نیازی نے اس شرط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ بیانات دیے جنہوں نے پہلے سے موجود کشیدگی کو پوائنٹ آف نو ریٹرن تک پہنچا دیا۔ اس کے بعد نورین نیازی نے بھارت کے ایک ٹی وی چینل پر ایسا انٹرویو دیا جس نے صورتحال مزید بگاڑ دی۔ اسی ملاقات کے حوالے سے عمران خان نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جو عاصم منیر مخالف پوسٹ کی، اسے بھی بھارتی میڈیا نے نمایاں طور پر نشر کیا۔

ان واقعات کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا کہ اب عمران خان سے جیل میں کسی قسم کی ملاقات نہیں ہوگی اور انہیں اڈیالہ جیل سے کسی دوسرے صوبے میں شفٹ کر دیا جائے گا۔

Back to top button