عمران کی جانب سے سول نافرمانی کی کال واپس لینے کا امکان

تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ عمران خان کو 14 دسمبر سے سول نافرمانی کی تحریک چلانے کا اعلان واپس لینے کا مشورہ دیا جا رہا ہے تاکہ پارٹی کی رہی سہی ساکھ بچائی جا سکے۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام اباد احتجاج کی ناکامی کے بعد عمران خان نے فرسٹریٹ ہو کر سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان تو کر دیا ہے لیکن اس کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں لہذا انہیں یہ مشورہ دیا جا رہا ہے کہ اس کال کو وقتی طور پر واپس لے لیا جائے۔
تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے سول نافرمانی کی تازہ ترین کال پارٹی قیادت کے لیے حیران کن ہے۔ زیادہ تر پارٹی رہنماؤں نے اپنے داخلی وٹس ایپ گروپ میں بات کرتے ہوئے سول نافرمانی پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے خیال میں یہ کال نہ تو قابل عمل ہے اورنہ ہی بروقت ہے اور اس سے عمران خان اور ان کی جماعت کو فائدے کی بجائے مزید نقصان ہو گا۔
سینیئر صحافی انصار عباسی کے مطابق پی ٹی آئی ذرائع نے بتایا ہے کہ عمران خان کو کال واپس لینے کا مشورہ بھیجا گیا ہے اور کچھ مرکزی پارٹی رہنما ان سے جیل میں ملاقات کر کے اس حوالے سے انہیں راضی کرنے کی کوشش بھی کریں گے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا یے کہ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، علی امین گنڈاپور اور اسد قیصر کو عمران خان کی سول نافرمانی کی کال بارے ایکس پر عمران خان کی پوسٹ سے پتہ چلا اور اس حوالے سے ان سے کوئی مشورہ نہیں کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے اسلام اباد کی احتجاج کی کال بھی پارٹی قیادت سے مشورے کے بغیر دی تھی جس کا اعلان ان کی بہن علیمہ خان نے کیا تھا اور پھر احتجاجی جلوس کی قیادت ان کی اہلیہ بشری بی بی نے کی لہذا اس کا نتیجہ بھی ناکامی کی صورت میں سامنے ایا اور مظاہرین کو جوتیاں اٹھا کر ڈی چوک سے فرار ہونا پڑا۔ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کا یہ موقف ہے کہ سوال نافرمانی کی کال قابل عمل نہیں ہے کیونکہ نہ تو بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے اہل خانہ کو رقم بھجوانا بند کریں گے اور نہ ہی وہ بجلی اور گیس کے بلوں کی ادائیگی بند کر سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ پی ٹی آئی کے رہنما بھی ایسا نہیں کر پائیں گے کیونکہ بطور رکن پارلیمنٹ سول نافرمانی میں حصہ لینے سے وہ نااہل ہوجائیں گے۔
سوشل میڈیا پر بے لگام عمرانڈوز کے خلاف ایکشن تیز کرنے کا فیصلہ
ذرائے نے یاد دلوایا کہ 2014 کے دھرنے کے وقت بھی عمران خان نے سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان کرتے ہوئے بجلی کے بل جمع نہ کروانے کا اعلان کیا تھا لیکن جب ان کے اپنے زمان پارک والے گھر کی بجلی کٹی تو انہوں نے سب سے پہلے بل جمع کروایا تھا۔ پی ٹی آئی کے ایک سینئیر رہنما کا کہنا تھا کہ جو شخص بھی عمران خان کو ایسے الٹے مشورے دے رہا ہے وہ پارٹی اور بانی کا نقصان کر رہا ہے۔
اس حوالے سے جب پی ٹی آئی کے سینئر رہنما علی محمد خان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت اس حوالے سے مزید ہدایات کے حصول کےلیے بانی چیئرمین سے ملاقات کرے گی۔
علی محمد خان نے کہا کہ اسی اثنا میں عمران خان کی تشکیل دی گئی کمیٹی اپنا کام کرنا شروع کردے گی۔ انہوں نے کہا کہ سول نافرمانی کی تحریک ملتوی کرنے کا اعلان صرف عمران خان ہی کر سکتے ہیں۔
