مذاکرات سے عمران کو رعایت تو مل سکتی ہے لیکن رہائی کا امکان نہیں

مذاکرات کے ذریعے بانی پی ٹی آئی عمران خان یا ان کے حواریوں کی رہائی تو ممکن نہیں تاہم یوتھیے رہنماؤں کی جانب سے زبان بندی کی یقین دہانی پر تحریک انصاف کو کچھ رعایتیں ضرور مل سکتی ہیں۔تاہم اگر عمران خان اپنی زبان درازی، بیان بازی اور الزام تراشی سے باز نہ آئے تو آنے والی دنوں میں ان پر شکنجہ مزید کسا جا سکتا ہے۔ مبصرین کے مطابق ملکی معاشی و سیاسی استحکام کے حوالے سے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہے اور انتشار و بدامنی پھیلانےاور ریاستی مفادات کو زک پہنچانے والے عناصر کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے کا متفقہ فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ اس لئے مذاکراتی عمل کے ذریعے پی ٹی آئی کو کچھ رعایتیں تو مل سکتی ہیں تاہم مذاکرات کے نام پر بانی پی ٹی آئی سمیت 9 مئی کے ملزمان کی معافی کا کوئی امکان نہیں۔
خیال رہے کہ قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق نے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کے لیے تیسرا اجلاس 16 جنوری کو طلب کر لیا ہے۔یہ اجلاس پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی کی خواہش پر عمران خان سے ملاقات اور ان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈز کیس کا فیصلہ ایک مرتبہ پھر موخر ہونے کے بعد بلایا گیا ہے۔دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ یہ اجلاس جو پچھلے کئی دنوں سے زیر التوا چلا آرہا تھا، جو پی ٹی آئی کی ایک نئی ڈیڈ لائن کے بعد بلایا گیا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر 31 جنوری تک جوڈیشل کمیشن نہ بنا تو مذاکرات آگے نہیں چلیں گے۔
تاہم یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ پی ٹی آئی جو پہلے حکومت کے ساتھ مذاکرات توہین سمجھتی تھی اور حکومت کوتسلیم نہ کرتے ہوئے کن کن القابات سے نوازتی تھی اچانک اسی حکومت کو تسلیم کرتے ہوئے مذاکرات پرکیوں تیار ہوئی تو اس کا آسان جواب یہ ہے کہ سرتوڑ کوششوں کے بعد جب اسٹیبلشمنٹ نے سیاسی معاملات میں شامل ہونے سے انکارکیا تو پی ٹی آئی نے بانی کی ہدایت یا مشورےپر یہ ناقابل عمل مطالبات پیش کئے ۔ دراصل بانی کی اوورسیز پاکستانیوں سے اپیل یا سول نافرمانی کی تحریک کہ وہ پاکستان زرمبادلہ نہ بھیجیں وہ اوورسیز پاکستانیوں نے یکسر مسترد کردی بلکہ پہلے سے زیادہ زرمبادلہ بھیجا۔ اس کال کے پٹ جانےسے بانی پی ٹی آئی کے سول نافرمانی تحریک کا غبارہ پھٹ گیا۔اب بانی پی ٹی آئی کی طرف سےان کے بعض قریبی لوگ جو مرضی رنگ برنگے بیانات دیں یہ حکومت سمیت پوری قوم کو معلوم ہے کہ دفاعی تنصیبات پر حملوں، شہداء کی یادگاروں کی بے حرمتی،26نومبر کو اسلام آباد پر چڑھائی اورسول نافرمانی کی ناکام کال کے بعد اب ان کا دامن بالکل خالی ہے اب ان کاواحد آسرا20جنوری ہے۔ 31جنوری تک مذاکرات کی ڈیڈ لائن کے پیچھے بھی یہی امید کارفرما ہے کہ20جنوری کو امریکی صدر ٹرمپ حلف اٹھانے کے فوراً بعد پاکستان کو پیغام بھیجیں گے کہ بانی پی ٹی آئی کو فوری رہا کیا جائے اور پاکستان بلاچوں چرا کئے اس حکم کی تعمیل کرے گا۔ فوری نہیں تو چلیں31جنوری تک تویہ پیغام آہی جائے گا۔ لیکن ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے، یہ خواہش کبھی بھی پوری نہیں ہوسکے گی کیونکہ وہ راستہ بند ہوچکا ہے۔بانی پی آٹی اور مختلف جرائم میں ملوث ان کے ساتھیوں کو ہر صورت قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بانی پی ٹی آئی سیاسی قیدی نہیں ہیں کہ کوئی بھی ان کو ایگزیکٹوآرڈر کے ذریعے رہا کرسکے۔ انکی سزا یا رہائی کا فیصلہ قانون کے مطابق عدالتوں کے ذریعے ہوگا۔ ناقدین کے مطابق عمران خان کی رہائی کے معاملات اتنے آسان نہیں جتنا یوتھیے سمجھتے ہیں یا پی ٹی آئی کے بعض لوگ عمران خان کو خوش کرنے اورآسرا دینے کیلئے انکے سامنے پیش کرتے ہیں اوربانی ان خوش فہمی پر مبنی باتوں کو آسرا بنالیتے ہیں۔ جن کا حقیقت سے دور کابھی واسطہ نہیں ہوتا۔
تاہم غیر جانبدار مبصرین دونوں فریقین یعنی حکومت اور اپوزیشن کے رویوں کو مذاکرات کے نتائج کے حوالے سے حوصلہ افزا نہیں سمجھتے، اور ان کے خیال میں اب تک کے حالات و واقعات کسی بڑے بریک تھرو کا اشارہ نہیں دیتے۔تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت مذاکرات پر پیشرفت بارے ہچکچاہٹ کا شکار ہے جبکہ پی ٹی آئی کا رویہ حالات کے سازگار ہونے میں رکاوٹ ہے۔خاص کر پی ٹی آئی کی طرف سے 9 مئی کے 19 ملزمان کی رہائی کا جشن منانے اور عمران خان کے فوج مخالف ٹوئٹ کی وجہ سے بھی معاملات خراب ہوئے ہیں۔’لگتا نہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ابھی عمران خان کو رہا کرنے پر تیار ہے، ان کو کچھ رعایتیں تو مل سکتی ہیں۔ لیکن مکمل رہائی ابھی نظر نہیں آتی۔‘
کیا پاکستان ٹرمپ فیور سے بچ پائے گا؟
بعض مبصرین کے مطابق اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ اصل مذاکرات عمران خان کے کسی انتہائی بااعتماد ساتھی کے ساتھ درپردہ ہو رہے ہوں اور ان کے نتائج بعد میں سامنے آئیں۔ لیکن جب تک ان کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ملتی اس وقت تک کوئی حتمی رائے قائم نہیں ہو سکتی۔’ تاہم ناقدین کے مطابق پی ٹی آئی سیاست کو ’ممکنات کا کھیل‘ نہیں مانتی اور صرف سخت مطالبات پر یقین رکھتی ہے۔ ’اس سے تو یہی لگ رہا ہے کہ عمران خان کی فوری رہائی ممکن نہیں جیسا کہ پی ٹی آئی چاہتی ہے۔‘
