عمران کا بزدل اور بے وفا اراکین KP اسمبلی سے استعفے لینے کا حکم

تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے حالیہ جیل ملاقات میں اپنی ہمشیرہ علیمہ خان کو ہدایت کی ہے کہ پی ٹی آئی  خیبر پختون خواہ کے ان تمام بزدل اور بے وفا اراکین صوبائی اسمبلی سے استعفے لے لیے جائیں جو ان کی رہائی کے لیے اعلان کردہ حکومت مخالف احتجاجی تحریک میں حصہ لینے پر آمادہ نہیں ہیں۔

روزنامہ جنگ سے وابستہ سینیئر صحافی اعظم ملک اپنی خصوصی رپورٹ میں کہتے ہیں کہ تحریک انصاف، جو کبھی سڑکوں پر عوام کا سیلاب لا کر نظامِ کو ہلا دینے کی طاقت رکھتی تھی، آج ایک ایسے دو راہے پر کھڑی ہے جہاں نہ وہ پیچھے ہٹ سکتی ہے، اور نہ ہی اس میں آگے بڑھنے کا حوصلہ باقی رہا ہے۔ عمران خان کا اپنی رہائی کے لیے 5 اگست کا اعلان کردہ احتجاج حقیقت میں پارٹی کی اپنی بقا کی آخری کوشش قرار دیا جا رہا ہے جس کی ناکامی کی صورت میں تحریک انصاف اور زیادہ مشکلات کا شکار ہو جائے گی۔

فیملی ذرائع کے مطابق عمران خان نے حالیہ دنوں اپنی بہن علیمہ خان سے جیل میں ہونے والی ملاقات کے دوران شدید برہمی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خیبرپختونخوا کی حکومت اور اسمبلیوں میں بیٹھے ان کے منتخب ارکان ان کی رہائی کے لیے عملی اقدامات نہیں کر سکتے تو ان سے استعفے لے لیے جائیں۔ سینیئر صحافی اعظم ملک کا کہنا ہے کہ یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ وہ صدا ہے جو ایک لیڈر تب بلند کرتا ہے جب اسے اپنے ہی قریبی حلقوں کی خاموشی چبھنے لگے، جب وہ یہ محسوس کرے کہ قافلہ سالار کا کاررواں بکھر چکا ہے۔

سینئر صحافی کہتے ہیں کہ عمران خان کے اعلان کردہ 5 اگست کے مجوزہ احتجاج کا مقام لاہور کو بنایا گیا، ایک ایسا شہر جو تحریک انصاف کے لیے ماضی میں طاقت کا مظہر رہا ہے، مگر آج یہی شہر لاہور پارٹی کی آزمائش گاہ بننے والا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ احتجاج صرف عمران خان کی ناراضی کم کرنے کی ایک کوشش ہے؟ یا واقعی اس سے کچھ نتیجہ نکلنے کی امید بھی کی جا رہی ہے؟ اگر ماضی کی روشنی میں حال کا جائزہ لیں تو یہ کہنا مشکل نہیں کہ یہ احتجاج بھی ’’فیس سیونگ‘‘ کے لیے کیا جا رہا ہے، یعنی ایک ایسا احتجاج جو صرف یہ تاثر دینے کے لیے ہو گا کہ خان کی پارٹی آج بھی متحرک ہے، اور وہ اپنے موید چیئرمین کیساتھ کھڑی ہے۔

لیکن تجزیہ کاروں کے خیال میں یہ تحریک بھی حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے اتحاد پر خان کی رہائی کے لیے کوئی دباؤ ڈالنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ 26 نومبر کے اسلام اباد احتجاج کی ناکامی کے بعد عمران کی جانب سے پچھلے 8 ماہ میں دی گئی احتجاج کی چاروں کالز ناکامی کا شکار ہوئیں کیونکہ اب پارٹی ورکرز سڑکوں پر نکلنے کے لیے تیار نہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت اس وقت کئی دھڑوں میں بٹی ہوئی ہے اور مختلف سمتوں میں سفر کر رہی ہے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو اب بھی عمران کو دیوتا سمجھ کر پوجتے ہیں، اور دوسری طرف وہ لیڈرز ہیں جو یا تو مفاہمت کی کوشش میں لگے ہیں، یا مکمل خاموشی اختیار کر چکے ہیں تاکہ آنیوالے کسی ممکنہ سیاسی سیٹ اپ میں انکی جگہ بچی رہے۔

اعظم ملک کے بقول یہ وہی لوگ ہیں جو کل تک ہر سٹیج پر سب سے آگے کھڑے ہوتے تھے، اور اب گرفتاری کے خوف سے چھپے بیٹھے ہیں۔ انکی موجودہ پوزیشن واضح کرتی ہے کہ انکی سیاست اصولوں پر نہیں، بلکہ مصلحتوں پر مبنی ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت، جس سے عمران خان کی سب سے زیادہ امیدیں وابستہ تھیں، وہ بھی عملی طور پر مفلوج ہو چکی ہے۔ گنڈا پور کی حکومت نہ عوامی سطح پر متحرک ہے اور نہ ہی مرکز سے ٹکر لینے کی پوزیشن میں ہے۔ اب وہ ایک ایسی علاقائی حکومت بن چکی ہے جس کی تمام توانائیاں انتظامی معاملات اور اپنی بقا پر مرکوز ہیں۔ یہ حکومت عمران خان کے لیے کچھ نہیں کر سکی، اور اب احتجاج کا بوجھ بھی پنجاب پر ڈال دیا گیا ہے، جہاں پارٹی پہلے ہی زیرِ عتاب ہے۔

سینیئر صحافی کہتے ہیں حکومت مخالف احتجاجی تحریک کے لیے لاہور کا انتخاب اس تناظر میں دلچسپ ہے کہ جہاں پارٹی سب سے زیادہ کمزور ہے، وہیں سے احتجاج کی ابتدا کی جا رہی ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا یہ واقعی ایک سیاسی حکمت عملی ہے یا صرف ایک علامتی اعلان ہے جس کا مقصد صرف گونگلووں سے مٹی جھاڑنا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ پارٹی کی اندرونی حالت دن بدن خراب ہو رہی ہے۔ نظریاتی کارکنوں کو دیوار سے لگا دیا گیا ہے، اور فیصلہ سازی کے اختیارات علیمہ خان سمیت چند ہاتھوں میں سمٹ چکے ہیں، ایسے میں احتجاج کس بنیاد پر کیا جا رہا ہے، یہ ایک بڑا سوال ہے؟ نہ تو پارٹی کارکنان متحرک ہیں، نہ تنظیمی ڈھانچہ فعال ہے، اور نہ ہی کوئی بیانیہ باقی رہ گیا ہے جو عوام کو سڑک پر لا سکے۔

اعظم ملک کا کہنا ہے کہ اب سوشل میڈیا پر ہنگامہ خیز مہمات، فرضی انقلابی ترانے، اور ٹرینڈز سے عوام متاثر نہیں ہوتے۔ عوام اب زمینی حقیقت دیکھتے ہیں، نتائج مانگتے ہیں، اور سوال کرتے ہیں۔ وہ جان چکے ہیں کہ تحریک انصاف کی موجودہ قیادت صرف نعرے بازی تک محدود ہے۔ عوام کو یہ بھی معلوم ہے کہ احتجاج کی کال دینے والے خود کن کن محفوظ پناہ گاہوں میں بیٹھے ہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جو صرف اس وقت میدان میں آتا ہے جب سب کچھ محفوظ ہو۔ اور جب وقت آتا ہے قربانی دینے کا، تو کارکنوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے۔

سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج ایک اور وجہ سے بھی پارٹی کے لیے خطرہ ہے۔ اگر یہ ناکام ہوا، اور اگر لوگ باہر نہ نکلے، تو یہ عمران خان کی قیادت کے لیے بھی ایک چیلنج بن جائے گا۔ احتجاج دوبارہ ناکام ہونے کی صورت میں سوال اٹھایا جائے گا کہ کیا عمران خان واقعی سیاسی طور پر ختم ہو چکے ہیں،  یہی سوال پی ٹی آئی کے مستقبل کا تعین کرے گا۔ پانچ اگست کا احتجاج صرف ایک دن کی سرگرمی نہیں، یہ تحریک انصاف کی مجموعی ساکھ، اس کی سیاسی حکمت عملی، اور اس کے مستقبل کا امتحان ہے۔ اگر یہ تحریک بھی ناکام ہو گئی تو ’’نیا پاکستان‘‘ بنانے کا خواب بیچنے والے عمران خان کی جماعت بھی خاتمے کا شکار ہو سکتی ہے۔

Back to top button