عمران میڈیا کے غیض و غضب کا سامنا کرنے کو تیار ہو جائیں

چند ماہ پہلے تک وزیراعظم عمران خان کی شان میں قصیدے پڑھنے والے معروف اینکر پرسن کامران خان نے پیکا کے ترمیمی آرڈیننس کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے عمران خان کو مخاطب کیاہے اور کہا ہے کہ خان صاحب، پیکا آرڈیننس فوری واپس لیں، ورنہ میڈیا کے غیض وغضب کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کامران خان نے وزیراعظم کے نام اپنے پیغام میں لکھا کہ عمران خان برسر اقتدار آنے کے بعد تمام تقاریر وعدے دعوے بھول گئے۔ اب چند نام نہاد انتہائی اہم شخصیات کے بچاؤ کیلئے میڈیا آزادی کو قید کرنے کے لیے پیکا ترمیمی آرڈیننس جاری کر دیا ہے۔کامران خان نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ اس ڈریکونین قانون نے صحافیوں، ایڈیٹرز، میڈیا مالکان اور انسانی حقوق کی تنظیموں کو حکومت کیخلاف متحد کر دیا ہے۔ خان صاحب یہ آرڈیننس فوری واپس لیں، ورنہ میڈیا کے غیض وغضب کا نشانہ بننے کا انتظار کریں۔
یاد رہے کہ کپتان کے اقتدار کی کشتی ڈولنے کے بعد کامران خان مسلسل ان پر تنقید کر رہے ہیں حالانکہ پچھلے ساڑھے تین برس وہ اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ کر اندھا دھند وزیراعظم عمران خان اور انکی حکومت کی حمایت کرتے رہے ہیں۔ کامران خان کا تازہ موقف یہ یے کہ عمران حکومت کی جانب سے میڈیا کا گلا گھونٹنے کے لیے جو کالے قوانین لائے جا رہے ہیں، ماضی کی حکومتیں بھی اپنے آخری دنوں میں اسی طرح کی حرکتیں کرتی رہی ہیں لہذا اب خان صاحب کا جانا طے ہو چکا ہے۔
بشریٰ بی بی کا بیٹا شراب برآمدگی کے بعد جھگڑے پر گرفتار ہوا
خیال رہے کہ صدر عارف علوی نے وزیراعظم عمران خان کے ایماء پر میڈیا کے خلاف ریاستی شکنجہ مزید تنگ کرنے کے لئے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ترمیمی آرڈیننس جاری کیا یے جس کے تحت اب کوئی بھی کمپنی، ایسوسی ایشن، ادارہ یا اتھارٹی، فیک نیوز چلانے یا کردار کشی کرنے کے الزام کی آڑ میں کس درج کرانے کا مجاز ہوگا، یہ جرم ناقابل ضمانت ہوگا جبکہ پاداش میں قید کی سزا 3 سے بڑھا کر 5 سال تک کر دی گئی ہے۔
اس صدارتی آرڈیننس کے مطابق شکایت درج کرانے والا متاثرہ فریق، اس کا نمائندہ یا گارڈین ہو گا، جرم کو قابل دست اندازی قرار دے دیا گیا ہے جو ناقابل ضمانت ہو گا۔ ترمیمی آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ چھ ماہ کے اندر کیس کا فیصلہ کرے گی اور ہر ماہ کیس کی تفصیلات ہائی کورٹ کو جمع کرائے گی۔
آرڈیننس کے مطابق ہائی کورٹ کو اگر لگے کہ کیس جلد نمٹانے میں رکاوٹیں ہیں تو رکاوٹیں دور کرنے کا کہے گی۔ آرڈیننس کے مطابق وفاقی و صوبائی حکومتیں اور افسران کو رکاوٹیں دور کرنے کا کہا جائے گا۔ ہر ہائی کورٹ کا چیف جسٹس ایک جج اور افسران کو ان کیسز کے لیے نامزد کرے گا۔
تاہم 22 فروری کے روز پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی جانب سے ترمیمی آرڈیننس چیلنج کیے جانے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ایف آئی اے کو ہدایت کی ہے کہ ترمیمی آرڈیننس کے تحت تب تک کوئی گرفتاری نہیں ہوگی جب تک اس پٹیشن کا فیصلہ نہ ہو جائے۔
