عمران کی بہنیں پنکی پیرنی کیخلاف میدان میں آ گئیں؟

سابقہ خاتون اول بشری بی بی المعروف پنکی پیرنی کے برعکس عمران خان کی بہنیں علیمہ خان اور عظمیٰ خان اپنے بھائی کو یہ سمجھانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ وہ تباہی کا راستہ ترک کر کے خود کو اور پارٹی کوبچالیں۔ اور ان لوگوں کے مشوروں پر عمل کرناچھوڑ دیں، جنہوں نے انہیں اور پارٹی کو آج اس مقام پر پہنچادیا ہے۔ تاہم مبصرین کے مطابق عمران خان اس حد تک پنکی پیرنی کے زیر تسلط آ چکے ہیں کہ وہ کسی بھی صورت  بشری بی بی کی حکم عدولی نہیں کرینگے اور لگتا یہی ہے کہ آنے والا وقت تحریک انصاف کے لئے مزید سخت ہو گا۔

روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق اس معاملے سے آگاہ ذرائع نے بتایا کہ علیمہ خان اور عظمیٰ خان اسی لئے عمران خان سے ملاقات کے لئے بےتاب تھیں کہ وہ ان تک اپنا یہ پیغام پہنچادیں کہ وہ انتشار کی سیاست ترک کر کے صلح جوئی کی طرف لوٹ آئیں۔ واقفان حال کے بقول عمران خان کو در پیش ان کٹھن حالات میں سوائے بہنوں اور بیرون ملک مقیم ان کے بچوں کے کوئی دوسرا ان سے مخلص نہیں۔عمران خان کے قریبی زیادہ تر لوگوں کی نظریں اس پر ہیں کہ پارٹی کو کیسے ہائی جیک کیا جائے۔صرف بہنیں اور بیٹے ہیں جن کی کوشش ہے کہ کسی طرح عمران خان کو بچالیں ، وہ بچ گئے تو پارٹی خود بخود بچ جائے گی۔

واضح رہے کہ پانچ اگست کو عمران خان کے جیل جانے کے بعد سے دونوں بہنیں علیمہ خان اور عظمیٰ خان ان سے ملاقات کی مسلسل کوششیں کر رہی تھیں ۔ اس دوران دونوں ایک بار ملاقات کے لئے ایک جیل بھی گئی تھیں۔ تاہم سپر نٹنڈنٹ نے انہیں واپس بھیج دیا تھا۔ بعد ازاں دونوں نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا ۔ہائیکورٹ نے دونوں بہنوں سے عمران خان کی ملاقات کرانے کا حکم جاری کردیا تھا۔ تاہم ان کی ملاقات ممکن نہیں ہو پارہی تھی ۔ جس پر دونوں بہنوں نے اٹک جیل کے باہر دھرنادینے کی دھمکی دی تھی۔ اس سے قبل بھی قریبا پانچ روز پہلے دونوں کی اٹک جیل میں عمران خان سے ملاقات ہوگئی۔ لیکن اس ملاقات میں عمران خان کی اہلیہ بشری بی بی کے علاوہ پارٹی کی چار رکنی قانونی ٹیم بھی موجود تھی۔ جب علیمہ خان اور عظمیٰ خان اٹک جیل پہنچیں تو بشری بی بی کی عمران خان سے ملاقات جاری تھی جس کی وجہ سے وہ اپنے بھائی سے کوئی رازوں نہ کر سکیں۔

ذرائع کے مطابق علیمہ خان اور عظمی خان اپنے بھائی عمران خان سے تنہائی میں ملاقات کر کے اپنا مشورہ دینا چاہتی تھیں۔ مگر تنہائی میں ملاقات میسر نہ ہونے کے سبب شاید وہ دل کی بات نہیں کر سکیں۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ فی الحال اس بارے میں کوئی مصدقہ اطلاعات سامنے نہیں آئیں کہ علیمہ خان اور عظمیٰ خان اپنے بھائی کو پارٹی اور خود کو بچانے کا مشورہ دینے میں کامیاب ہو ئیں یا نہیں؟ زیادہ امکان یہی ہے کہ بشری بی بی اور قانونی ٹیم کی موجودگی میں انہیں موقع نہیں مل سکا ہوگا اور شاید اب اگلی ملاقات میں وہ یہ پیغام دینے کی کوشش کریں گی۔ تاہم یہ حقیقت ہے کہ دونوں بہنیں سمجھتی ہیں کہ عمران خان کو غلط راستے پر ڈال کر موجودہ حالات تک پہنچانے والوں نے ابھی بھی ان کا پیچھا نہیں چھوڑا ہے۔ ان میں ان کے قریبی مشیر سرفہرست تھے۔ جن میں سے کئی انہیں چھوڑ کر جاچکے جن میں شیریں مزاری اور فواد چودھری قابل ذکر ہیں۔جنہوں نے عمران خان کو ڈٹ جانے کا مشورہ دیا اور اس کے نتیجے میں نا صرف 9مئی جیسا سانحہ ہوا، بلکہ عمران خان بھی بندگلی میں پہنچ گئے۔ ذرائع نے بتایا کہ عظمیٰ خان اور علیمہ خان اپنے بھائی عمران خان سے تنہائی میں ملاقات کر کے انہیں سمجھانا چاہتی ہیں کہ وہ جس راستے پر چلے اور اب بھی چل رہے ہیں، یہ سراسر تباہی کا راستہ ہے۔ اگر انہوں نے اس راستے کو ترک نہیں کیا تو نہ وہ بچ سکیں گے اور نہ پارٹی بچے گی۔ لہذا سب سے پہلے انہیں ان لوگوں سے پیچھا چھڑانا چاہئے جنہوں نے انہیں اس حال تک پہنچایا۔ ان میں کئی پہلے ہی عمران خان کو چھوڑ کر جاچکے ہیں۔

دونوں بہنوں کے خیال میں اب بھی چند لوگ عمران کو غلط مشورہ دینے کے لئے موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق اگرچہ دونوں بہنوں نے ان لوگوں کے نام افشا نہیں کئے اور وہ اس کا ذکر صرف عمران خان سے کرنا چاہتی ہیں۔ تاہم یہ خارج از امکان نہیں کہ ان لوگوں میں بشری بی بی بھی شامل ہوں۔ ذرائع کا دعوی ہے کہ بشری بی بی اور عمران  خان کی دونوں بہنیں ایک پیچ پر نہیں ہیں ۔ آپس میں اعتماد کا شدید فقدان ہے۔ بشریٰ بی بی نے عمران خان کو ان حالات سے نکالنے کے لئے اپنی حکمت عملی وضع کر رکھی ہے اور دونوں بہنیں اپنے طریقہ کار کو بروئے کار لانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ ذرائع کے مطابق اگر چہ بشری بی بی سے سرد مہری پر مبنی تعلقات کی علیمہ خان اور عظمیٰ خان دونوں تردید کرتی ہیں۔ لیکن اصل حقائق یہی ہیں کہ ان کے تعلقات خاص طور پر عمران خان کے جیل جانے کے بعد سے سرد مہری کا شکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عدالتوں میں پیشیوں اور عمران خان سے جیل میں ملاقات کے موقع پر بھی یہ ایک ساتھ دکھائی نہیں دیتیں نہ بشری بی بی کی عدالت میں حاضری پر دونوں بہنیں ان کے ساتھ نظر آتی ہیں اور نہ دونوں بہنوں کی عدالت میں پیشی پر بشری بی بی ان کے ساتھ ہوتی ہیں۔پانچ روز پہلے عمران خان سے ہونیوالی ملاقات میں بھی یہ الگ الگ اٹک جیل پہنچیں۔اور دونوں بہنوں کی آمد سے قبل ہی بشری بی بی کی عمران خان سے ملاقات شروع ہو چکی تھی ۔ عمران خان سے بشری بی بی کی یہ تیسری ملاقات تھی جو ایک گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہی۔ جبکہ علیمہ خان اور عظمیٰ خان اب تک صرف ایک بار ملاقات کر سکی ہیں۔

علیمہ خان اور عظمیٰ خان اپنے بھائی اور پارٹی کو بچانے کے لئے جو بھی مشورہ دینا چاہتی ہیں اس پر عمران خان کتنا عمل کرتے ہیں؟ یہ ملین ڈالر کا سوال ہے۔ کیونکہ قریبی لوگوں کے بقول شادی کے بعد سے لے کر اب تک عمران خان پر سب سے زیادہ اثر ورسوخ رکھنے والی شخصیت بشری بی بی کی ہے۔ ذرائع کے بقول اس تناظر میں یہ مشکل ہے کہ بشریٰ بی بی کے مشوروں پر عمران خان اپنی بہنوں کی رائے کو ترجیح دیں۔ لیکن پھر بھی علیمہ خان اور عظمیٰ خان ایک موہوم امید کے ساتھ اپنی بات عمران خان کو سمجھانا چاہتی ہیں۔ ذرائع کے بقول دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ بالفرض محال عمران خان اگر اپنی بہنوں کے مشورے پر عمل کر لیتے ہیں تو  اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ عمران خان کی سنگین خطاؤں کومعاف کر دیا جائے گا۔ ان ذرائع کے مطابق خاص طور پر سانحہ 9 مئی کے بعد یہ ممکن دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ اب پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے علیمہ خان اور عظمیٰ خان اگر 9 مئی جیسے واقعات سے پہلے یہی مشورہ عمران خان کو دے دیتیں اور وہ اس پر عمل بھی کر لیتے تو شاید بات بن جاتی۔ موجودہ حالات میں یہ کوشش زیادہ موثر دکھائی نہیں دے رہی۔

تاہم دوسری جانب پی ٹی آئی ذرائع دعوی کرتے رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کی ملک میں عام انتخابات سے قبل جیل سے رہائی اور انہیں اپنی پارٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لینے کیلئے تمام مواقع فراہم کرنے کے مطالبے کو بیرون ممالک سے ’’حمایت‘‘ ملنے کا امکان ہے اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی اٹک جیل میں ان سے ملاقاتوں کے سلسلے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے جو دوران ملاقات اپنے اسیر شوہر سے پیغامات کا تبادلہ اور ہدایت حاصل کرنے کیلئے مسلسل رابطے کر رہی ہیں اور صرف اگست کے مہینے میں چار ملاقاتیں کر چکی ہیں۔

یاد رہےکہ گزشتہ ماہ کے اوائل میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کو ریلیف دلانے کیلئے پی ٹی آئی کی سینئر قیادت نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بعض اہم مغربی ممالک کے سفیروں اور ہائی کمشنرز سے ملاقات کی تھی جس کا اہتمام پاکستان میں متعین آسٹریلیا کے ہائی کمشنر نے اپنی رہائش گاہ پر کیا تھا جس میں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، انڈونیشیا اور ناروے کے سفیر اور ہائی کمشنر شامل تھے۔

Back to top button