عمران کا توشہ خانہ کیس نواز اور زرداری کیس سے زیادہ سنگین کیوں؟

سینئر صحافی اور کالم نگار رؤف کلاسرا نے کہا ھے کہ ہم انسانوں کی حرص کی کوئی حد نہیں۔ وہ جو بار بار کہتا تھا کہ میرے پاس اللہ کا دیا بہت کچھ ہے وہ عالمی منڈی میں سعودی تحائف بیچ کر کروڑوں روپے کما کر بڑی معصومیت سے یہ پوچھنا بھی نہیں بھولتا کہ صرف میرا ٹرائل ہی روزانہ کیوں ہو رہا ہے۔ عمران خان ٹھیک کہہ رہے ہیں، ان کا ٹرائل نہیں ہونا چاہئے تھا۔ ہم گیلانی زرداری اور نواز شریف سے توقع رکھتے تھے کہ وہ لٹ مچائیں گے عمران سے بھلا کون توقع رکھتا تھا کہ وہ بھی اسی فہرست میں جگہ پائیں گے کیونکہ بقول عمران ان کے پاس تو اللہ کا دیا بہت کچھ تھا، لہذا ان کا توشہ خانہ والا جرم زیادہ بڑا ہے۔ اپنے ایک کالم میں رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ
نواز شریف کی باتیں سنیں تو لگتا ہے وہ ابھی تک 28 مئی 1998ء اور 2017ء سے باہر نہیں نکلے۔ وہ ایٹمی دھماکوں کا کریڈٹ لینا نہیں بھولتے اور دوسرا 2017ء میں جب انہیں حکومت سے نکالا گیا تھا اس کا ذکر بھی ضرور کرتے ہیں ۔ لوگ پوچھتے ہیں نواز شریف کی پارٹی کا کیا منشور ہے تو جواب یہ ھے کہ ان کا منشور 1998ء اور 2017ء میں کہیں پھنس کر رہ گیا ہے۔ دوسری طرف عمران خان ہیں جو ابھی بھی اپنی غلطی ماننے کو تیار نہیں اور جب کوئی اپنی غلطی نہیں مانتا تو وہ اُسے دہراتا ہے۔ وہ ابھی بھی تو شہ خانہ کیس میں خود کو سچا سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک تحائف لے کر مارکیٹ میں بیچنا کون سا جرم ہے۔ عمران خان کہتے ہیں کہ ان کا توشہ خانے کا کیس تو بڑی تیزی سے چل رہ ہے لیکن نواز شریف گیلانی اور زرداری کے توشہ خانے والے مقدمے برسوں سے نہیں چل رہے۔ صرف انہی پر یہ مہربانی کیوں کہ روز کیس کی سماعت ہو رہی ہے؟
رؤف کلاسرا کے مطابق دیکھا جائے تو عمران خان کی شکایت جائز ہے کہ روز ان کے توشہ خانہ کیس کی سماعت ہو رہی ہے جبکہ زرداری گیلانی اور نواز شریف کو کوئی نہیں پوچھتا۔ اگر چہ عمران خان اور ان کے حامی جانتے ہیں کہ ان کے ساتھ یہ سلوک کیوں ہورہا ہے لیکن ایک اہم سوال ہے جس پر عمران خان کو غور کرنے کی ضرورت ہے کہ انہوں نے یہ صورتحال
پیدا ہی کیوں ہونے دی کہ ان پر ہاتھ ڈالا جاتا۔ انہوں نے کیوں وہ کمزوری دکھائی جس کی وجہ سے آج وہ تو شہ خانہ ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں؟ انسان کو زندگی میں بہت سے موقعوں پر حرص کا سامنا کرنا ہڑتا ہے۔ سونا ہیرے جواہرات کی کشش کو مستر د کرنا آسان نہیں ہوتا۔ عمران خان بھی اسی کا شکار ہوا حالانکہ وہ کہتا تھا کہ میرے پاس اللہ کا دیا بہت کچھ ہے۔ اس کے پاس اگر کسی چیز کی کوئی کمی نہ تھی تو پھر ان تحائف کی اسے کیا ضرورت تھی۔ اگر رکھ بھی لیے تھے تو انہیں بیچ کر کروڑوں روپے کمانے کی کیا پڑی تھی۔ بات وہی ہے کہ امیر آدمی کو غریبوں سے زیادہ پیسوں کی
ضرورت ہوتی ہے۔ غریب پیسے کے بغیر گزارہ کر سکتا ہے کیونکہ اُسے علم ہی نہیں کہ پیسے
سے کیا کچھ خریدا جا سکتا ہے یا زندگی میں کیسے عیاشی کی جاسکتی ہے۔ امیر آدمی کو علم ہوتا ہے ، وہ پیسے کی کرامات دیکھ چکا ہوتا ہے لہذا پیسے کا لالچ ان لوگوں پر جلدی اثر کرتا ہے جن کے بقول ان کے پاس اللہ کا دیا بہت کچھ ہے۔ اب وہی عمران خان اڈیالہ جیل
میں تو شہ خانہ کیس کے سرکاری وکیلوں سے لڑ رہے ہیں، بحث مباحثہ کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ عمران خان کی ان تکلیفوں کا ذمہ دار کون ہے؟ مان لیا کہ شہر کے لوگ بھی ظالم ہیں لیکن خود عمران کا اپنا بھی اس میں بڑا ہاتھ ہے۔
رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ ہم انسان مانتے تو نہیں لیکن ہماری
مشکلات کی وجہ ہمارے اپنے فیصلے ہی ہوتے ہیں۔ عمران خان اگر اُس وقت سوچ لیتے کہ میں
نے زرداری گیلانی یا نواز شریف کی طرح تو شہ خانے کے تحائف بیچنا تو دور کی بات ھے یہ اپنے پاس رکھنے بھی نہیں تو آج وہ اڈیالہ جیل میں اس کیس کا سامنا نہ کر رہے ہوتے۔ عمران کو تو شہ خانہ کے تحائف کے بارے اس لیے زیادہ احتیاط کی ضرورت تھی کہ وہ اپنے جلسوں میں یوسف رضا گیلانی دور میں ترک خاتون اول کے ہیرے کے ہار کا بار بار ذکر کرتے تھےجو مسز گیلانی نے رکھ لیا تھا۔ انہیں زرداری کی دبئی سے تو شہ خانے کے ذریعے نکلوائی گئی
بی ایم ڈبلیو گاڑیوں کا بھی علم تھا۔ نواز شریف کے تحائف پر بننے والے مقدمات سے بھی
وہ آگاہ تھے کیونکہ اپنے جلسوں میں اکثر ذکر کرتے تھے۔ تو پھر ایسا کیا ہوا کہ جب وہ
گیلانی اور نواز شریف کی کرسی پر بیٹھے تو ان کی اپنی آنکھیں ہیرے جواہرات دیکھ کر
چندھیا گئیں۔ آج کل عمران اڈیالہ جیل میں پوچھتے پھرتے ہیں کہ صرف میرا ٹرائل ہی کیوں؟ بالکل ویسے ہی جیسے نواز شریف کہتے تھے کہ مجھے کیوں نکالا۔ آخر میں رؤف کلاسرا کہتے ہی کہ عمران خان کی بھی ویسے کمال معصومیت ہے۔ انہیں ابھی بھی پتہ نہیں کہ ان کا ٹرائل کیوں ہو رہا ہے۔
