14 برس قید بھگتنے والے عمران کو مزید 186 کیسز کا سامنا

190 ملین پاؤنڈز کرپشن کیس میں 14 برس قید کی سزا کا سامنا کرنے والے عمران خان کی طرح ان کے سابق چیف منصوبہ ساز لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو بھی کورٹ مارشل کے بعد 14 برس کی سزا دی گئی ہے اور دونوں ممکنہ طور پر 2039 تک پابند سلاسل رہیں گے۔ لیکن عمران خان کے لیے مشکل یہ ہے کہ انہیں مختلف نوعیت کے 186 کریمنل کیسز کا سامنا ہے جن میں انہیں مزید سزائیں بھی سنائی جا سکتی ہیں۔
اسلام آباد میں باخبر حلقوں کے مطابق جہاں 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر حملوں کی سازش پر فیض حمید کے ایک اور کورٹ مارشل کا امکان ہے، وہیں دوسری جانب اس الزام میں عمران خان کو بھی شریکِ ملزم بنانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ یاد رہے کہ عمران کے خلاف مختلف شہروں میں 9 مئی کے حملوں کے 11 مقدمات درج ہیں۔ ان کے خلاف مختلف نوعیت کے درجنوں دیگر کیسز بھی مختلف عدالتوں میں زیرِ التوا ہیں۔ عمران کے خلاف ملک بھر میں مجموعی طور پر 186 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں، جن میں اکثریت کا تعلق 9 مئی 2023 کے حملوں اور 2022 کے لانگ مارچ اور مظاہروں سے ہے۔
پولیس اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹس کے مطابق عمران کے خلاف پنجاب میں 99، اسلام آباد میں 74، خیبر پختونخوا میں 2، ایف آئی اے کے پاس 7 جبکہ قومی احتساب بیورو کے پاس تین مقدمات درج ہیں۔ دسمبر 2024 میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق اب تک تقریباً 13 مقدمات ایسے ہیں جن میں عمران یا تو سزا یافتہ ہو چکے ہیں، بری ہو چکے ہیں، سزا معطل ہو چکی ہے یا ضمانت حاصل کر چکے ہیں۔
باقی مقدمات کی بڑی تعداد ایسے کیسز پر مشتمل ہے جن کا تعلق 2022 کے لانگ مارچ، 2023 کے احتجاجی مظاہروں اور مختلف شہروں میں ہونے والی توڑ پھوڑ سے ہے، جن میں عمران خان پر بالواسطہ یا اشتعال انگیزی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان مقدمات میں ان کی براہِ راست موجودگی یا عملی شرکت ثابت نہیں ہو سکی۔
بانی پی ٹی آئی کو 5 اگست 2023 کو توشہ خانہ کرپشن کیس میں 10 برس قید کی سزا سنائے جانے کے بعد جیل منتقل کیا گیا تھا۔ وہ اس وقت دو سال سے زائد عرصے سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں، جہاں ان کے خلاف کچھ مقدمات زیرِ سماعت، کچھ میں سزائیں معطل جبکہ کچھ میں ضمانت ہو چکی ہے۔ سائفر کیس اور عدت کیس جیسے معاملات ان کے خلاف ختم ہو چکے ہیں۔ عمران خان 190 ملین پاؤنڈز کرپشن کیس میں بھی سزا پانے کے بعد پابندِ سلاسل ہیں۔ اس مقدمے میں 17 جنوری 2025 کو انہیں 14 سال قید جبکہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
یہی وہ مقدمہ ہے جس میں 9 مئی 2023 کو رینجرز نے عمران خان کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے گرفتار کیا تھا۔ اس کیس میں عمران پر کرپشن اور اختیارات کے غلط استعمال کا الزام ہے۔ دیگر مقدمات میں ضمانت ملنے کے باوجود یہی کیس ان کی مسلسل قید کی بنیادی وجہ بنا ہوا ہے۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی نے اس مقدمے میں سزا معطلی کی درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔
لیکن عمران خان کے خلاف درج مقدمات میں سے زیادہ تر کیسز 9 مئی 2023 کے واقعات کے حوالے سے ہیں۔ اس روز فوجی تنصیبات پر حملوں کے بعد خان کے خلاف مختلف شہروں میں مقدمات درج کیے گئے، جن میں لاہور کور کمانڈر ہاؤس کے جلاؤ گھیراؤ کا مقدمہ بھی شامل ہے۔ ان مقدمات میں پہلے انسداد دہشت گردی عدالت اور لاہور ہائیکورٹ نے ضمانت مسترد کی، تاہم پھر سپریم کورٹ نے 9 مئی سے متعلق 8 مقدمات میں عمران خان کی ضمانت منظور کر لی۔
اس سے پہلے توشہ خانہ کیس کا آغاز الیکشن کمیشن سے ہوا، جب یہ الزام عائد کیا گیا کہ عمران خان نے سرکاری تحائف فروخت کر کے حاصل ہونے والی رقم کو اپنے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا۔ الیکشن کمیشن نے 21 اکتوبر 2022 کو انہیں نااہل قرار دیا، بعد ازاں نیب نے کرپشن ریفرنس دائر کیا۔ تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے 28 اگست 2023 کو اس مقدمے میں سزا معطل کر دی تھی۔ یہ کیس ابھی چل رہا ہے۔
کیا فیض حمید کے بعد جنرل باجوہ کی باری بھی آنے والی ہے
توشہ خانہ ٹو کیس ایف آئی اے نے عمران خان کے مئی 2021 کے سعودی عرب کے دورے سے متعلق درج کیا۔ اس دورے کے دوران سعودی حکومت نے بشریٰ بی بی کو قیمتی بلغاری جیولری تحفے میں دی تھی۔ نیب ریفرنس کے مطابق اس جیولری کو زیادہ قیمت پر فروخت کر کے سرکاری ریکارڈ میں کم قیمت ظاہر کی گئی، جس سے قومی خزانے کو ساڑھے تین کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے 31 جنوری 2024 کو اس مقدمے میں عمران خان کو 14 سال جبکہ بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی، تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے یکم اپریل 2024 کو سزائیں معطل کر دیں۔ یہ مقدمہ اس وقت سپیشل جج سنٹرل کے روبرو فیصلے کے آخری مراحل میں ہے۔
