عمرانڈو یوٹیوبر میجر عادل راجہ لندن میں دیوالیہ ہونے کے قریب

تحریک انصاف سے وابستہ یوٹیوبر اور بھگوڑا میجر ریٹائرڈ عادل راجا کو تب ایک بڑا جھٹکا لگا جب لندن ہائی کورٹ نے اسے بریگیڈئیر ریٹائرڈ راشد نصیر کے خلاف سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا کرنے پر 13 کروڑ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔ اتنے بھاری جرمانے کی سزا عائد ہونے کے بعد عادل راجہ دیوالیہ پن کا شکار ہونے جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ دو برس طویل عدالتی کارروائی کے بعد لندن ہائی کورٹ نے عادل راجا کے تمام تر الزامات کو حتمی طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اس پر 50 ہزار پاؤنڈز ہرجانہ اور مجموعی طور پر 3 لاکھ 10 ہزار پاؤنڈ جرمانے و عدالتی اخراجات کی ادائیگی لازم قرار دے دی ہے۔ عدالت نے مزید حکم دیا ہے کہ عادل راجا آئی ایس آئی کے سابق بریگیڈیئر راشد نصیر سے باقاعدہ عوامی معافی مانگے گا جو اسے اپنے یوٹیوب، فیس بک پیجز، ایکس اکاؤنٹ اور ویب سائٹ پر 28 دن تک نمایاں طور پر آویزاں رکھنی ہو گی۔ ہائی کورٹ کے جج رچرڈ اسپئیر مین نے فیصلہ سناتے ہوئے عادل راجا کی اپیل کی درخواست بھی مکمل طور پر مسترد کر دی۔
یاد رہے کہ میجر (ر) عادل راجا اپریل 2022 میں پاکستان سے مفرور ہو کر لندن پہنچا تھا جہاں اس نے سیاسی پناہ مانگ لی تھی، عادل راجہ وہاں سے اپنے یوٹیوب چینل اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے آئی ایس آئی پنجاب کے سابق سیکٹر کمانڈر بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کیخلاف سنگین الزامات لگاتے رہا۔ اس دوران راجہ نے یہ جھوٹا دعوی بھی کیا کہ بریگیڈیئر نصیر نے اُسکے قتل کی سازش تیار کی، لاہور ہائی کورٹ میں اپنے من پسند ججز تعینات کروائے اور 2024 کے الیکشن میں دھاندلی کی منصوبہ بندی کی۔ عادل راجا نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ آئی ایس آئی افسر نے آصف زرداری سے خفیہ ملاقاتیں کر کے انتخابی عمل کو متاثر کیا۔
لندن ہائی کورٹ کے عدالتی کاغذات کے مطابق عادل راجا نے 14 جون 2022 کو راشد نصیر کے خلاف سوشل میڈیا مہم کا آغاز کیا۔ اس کے بعد 19 جون کو اس نے مزید الزامات گھڑے اور دعویٰ کیا کہ الیکشن میں ہیرا پھیری آئی ایس آئی کی نگرانی میں کی گئی۔ اسی دوران اس نے سینئر صحافی ارشد شریف کے قتل سے متعلق بھی سنگین دعویٰ کیا کہ وہ پاکستانی خفیہ اداروں کے کہنے پر قتل کروائے گئے۔ عدالت نے ان تمام دعوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا اور انہیں غیر معتبر، مبالغہ آمیز اور مکمل طور پر جھوٹ پر مبنی قرار دے دیا۔
درخواست گزار اور ان کے وکلا نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ عادل راجا نے جان بوجھ کر ایک منظم مہم چلائی جس میں ویڈیوز، ٹوئٹس اور پوسٹس کے ذریعے بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر اور آئی ایس آئی کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ عدالت میں پیش کردہ ڈیجیٹل شواہد سے ثابت ہوا کہ عادل راجا کی سوشل میڈیا پوسٹس لاکھوں افراد تک پہنچیں، جس سے نہ صرف ایک سینیئر آرمی آفیسر کی ذاتی ساکھ خراب ہوئی بلکہ ادارے کی کریڈیبلیٹی کو بھی دھچکا لگا۔ ہائی کورٹ کے جج نے فیصلے میں لکھا کہ عادل راجا کسی بھی الزام کے حق میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔ اس کے برعکس، ان کے بیانات اور ویڈیوز نے درخواست گزار کی شہرت کو بھاری نقصان پہنچایا۔ عدالت نے قرار دیا کہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ عادل راجا نے جھوٹ، غلط بیانی اور بدنیتی پر مبنی مواد کے ذریعے ایک افسر کی عزت اور ریاستی ادارے کی ساکھ کو ٹھیس پہنچائی۔
فوجی ترجمان کو پاگل عمران کے الزامات کا جواب کیوں دینا پڑا؟
عدالتی فیصلے کے مطابق عادل راجا کو 22 دسمبر تک 50 ہزار پاؤنڈ ہرجانہ اور 2 لاکھ 60 ہزار پاؤنڈ عدالتی اخراجات ادا کرنا ہوں گے، جبکہ اضافی عدالتی اخراجات کا تخمینہ بعد میں طے کیا جائے گا۔ عدالت نے راجہ کو ایک حکم امتناعی کے تحت پابند کیا ہے کہ وہ آئندہ راشد نصیر یا آئی ایس آئی کے خلاف کوئی ہتک آمیز بیان نہیں دے گا۔ مزید برآں، عادل راجا کو بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر سے عوامی سطح پر معافی مانگنی ہوگی، جس کا اعلان اسے اپنے سوشل میڈیا صفحات پر نمایاں طور پر برقرار رکھنا ہوگا۔ کیس کی کارروائی کے دوران راجا ایک بار بھی عدالت میں خود پیش نہیں ہوا اور صرف ویڈیو لنک کے ذریعے کارروائی میں شامل ہوا، جبکہ بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر باقاعدگی سے سماعتوں میں موجود رہے۔ فیصلے کے بعد عادل راجا کے وکیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے، جبکہ عادل راجا نے بھی کہا کہ وہ ہائی کورٹ کے اس حکم کو چیلنج کریں گے۔ تاہم قانونی ماہرین کے مطابق عدالت کے فیصلے میں شواہد اور دلائل اتنے مضبوط ہیں کہ اپیل کے کامیاب ہونے کے امکانات کم ہیں۔
دو برس جاری رہنے والے اس مقدمے کے بعد برطانوی عدالت کے سخت فیصلے نے عادل راجا کو دیوالیہ پن کے قریب پہنچا دیا ہے، جبکہ بریگیڈیئر راشد نصیر کی ساکھ بحال ہو گئی ہے۔
