مونس الٰہی نے اپنے باپ کو عمرانڈو کیسے بنایا؟

سابق وزیراعلٰی پنجاب چودھری پرویز الٰہی کے قریبی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پرویز الٰہی آخری وقت تک تحریک انصاف میں شمولیت پر آمادہ نہیں تھے تاہم بیٹے مونس الٰہی کے اصرار پر انھوں نے اپنی عزت اور خاندان کو قربان کر کے عمرانڈو ہونے کا فیصلہ کیا تاہم چودھری پرویز الٰہی کے عمرانڈو ہو جانے پر ناقدین کا کہنا ہے پرویز الہٰی اگر چوہدری شجاعت کا نہ ہو سکا وہ عمران خان کا کیا ہوگا؟ مونس الٰہی اور پرویز الٰہی نے پی ٹی آئی کی دم پکڑی ہوئی ہے اگر پی ٹی آئی پر برا وقت آیا تو یہ سب سے پہلے چھلانگ لگا کر نکل جائیں گے

دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت گجرات کی سیاست مونس الہٰی کے زیر اثر ہے اور وہی ہیں جنہوں نے اپنے والد کو عمران خان کی طرف لے جانے پر مجبور کیا۔ حالانکہ پرویز الٰہی بالکل اس پر تیار نہ تھے اور آخری لمحے تک وہ چوہدری شجاعت کو نہیں چھوڑنا چاہتے تھے۔ لیکن مونس الٰہی نے اپنے والد پر کئی ماہ سے دبائو ڈالا ہوا تھا۔ چنانچہ چوہدری پرویز الٰہی کو مجبوراً پی ٹی آئی میں شامل ہونا پڑا۔

چوہدریوں کے خاندان سے جڑے ہوئے قریبی ذرائع نے بتایا ہے کہ، چوہدری شجاعت کی سیاست اس وقت بھنور میں ہے اور وہ گجرات میں ق لیگ کے پلیٹ فارم سے الگ گروپ کے طور پر الیکشن میں حصہ لیں گے تو ان کے لیے جیت آسان نہیں ہوگی۔دراصل ق لیگ کو نقصان پہنچانے میں سب سے بڑا کردار مونس الٰہی کا ہے۔ مونس پہلے روز سے ہی اپنی من مرضی کرتے ہیں۔ وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ اگر ان کا کوئی مستقبل ہے، تو وہ پی ٹی آئی میں ہے۔ مسلم لیگ ن وغیرہ میں ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوگی۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنے والد کو مجبور کیا کہ وہ پی ٹی آئی میں جائیں۔

پرویز الٰہی کی آخری وقت تک یہ خواہش نہ تھی کہ وہ تحریک انصاف میں شامل ہوکر اپنی شناخت ختم کردیں۔ اب بھی پرویز الٰہی کی تمام سیاست مونس الٰہی کی خواہشات کے تابع ہے۔ مونس نے ہی اپنے والد کو پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے چیف منسٹر لگوایا تھا۔ جب کہ پرویز الٰہی نے کبھی یہ خواہش پی ٹی آئی کے پلیٹ فارم سے نہیں کی تھی۔ بلکہ وہ چوہدری شجاعت کی بات مان کر پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم کو استعمال کرنا چاہتے تھے۔ دیکھا جائے تو ان کی قریبی رشتہ داری ہے۔مونس کے گھر میں چوہدری شجاعت کی بیٹی ہے۔ قصہ وہاں سے شروع ہوا جب ق لیگ نے تحریک عدم اعتماد کے وقت وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے کا پلان بنایا۔ یہ نورا کشتی تھی کیوںکہ اس وقت بہت زیادہ کنفیوژن تھا کہ پی ڈی ایم کو حکومت مل رہی یا تحریک انصاف کو۔ دونوں کی پوزیشن مضبو ط تھی.لہٰذا ق لیگ کے آدھے ارکان ایک طرف ہوگئے اور آدھے دوسری جانب چلے گئے کہ جو بھی پارٹی حکمران بنے گی، ق لیگ بہرحال اس میں موجود رہے گی۔ اور وہی ہوا، وفاق میں بھی ق لیگ موجود رہی اور پنجاب تو خیر ویسے بھی انہیں تحریک انصاف کے توسط اقتدار مل گیا۔ لیکن اب صورت حال بالکل الگ ہوچکی ہے۔اب وہی اختلافات جو جان بوجھ کر پیدا کیے گئے تھے،حقیقت اور شدت اختیار کرگئے کیونکہ عوامی سطح پر بھی دو گروپ بن گئے ہیں۔ ایک شجاعت کی سپورٹ میں ہے تو دوسرا مونس اور پرویز الٰہی کو سپورٹ کررہا ہے۔ گجرات کی سیاست میں فی الحال مونس الٰہی کا زور چل رہا ہے۔وہاں پر زیادہ زور پہلے چوہدری وجاہت کا چلتا تھا، جو چوہدری شجاعت کے سگے بھائی ہیں اور پرویز الٰہی کے کزن ہیں۔ لیکن اب وہ بھی پرویز الٰہی کے گروپ میں شامل ہوگئے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ق لیگ کی صفوں میں یہ بات طے ہوچکی ہے کہ وہ کسی نہ کسی جماعت سے الائنس کرکے ہی الیکشن میں حصہ لیں گے اور زیادہ امکان یہی ہے کہ وہ مسلم لیگ ن سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کریں۔

چوہدری پرویز الٰہی کی پی ٹی آئی کے ساتھ سیاسی اننگز شروع کرنے کے فیصلے کو ماہرین مختلف نظر سے دیکھ رہے ہیں۔کیا پرویز الہٰی نے کسی جانب سے ‘اشارہ’ ملنے پر تحریکِ انصاف میں ضم ہونے کا اعلان کیا یا یہ اُن کا ذاتی فیصلہ ہے؟ پنجاب کی سیاست پر اس فیصلے کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ کیا چوہدری پرویز الہٰی عمران خان کے ساتھ چل سکیں گے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو اس اہم سیاسی پیش رفت کے بعد اُٹھائے جا رہے ہیں۔بعض ماہرین اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جانے والے چوہدری پرویز الہٰی کی فی الحال اسٹیبلشمنٹ سے دُور عمران خان سے قربتوں پر بھی سوال بھی اُٹھا رہے ہیں۔

سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ یہ بظاہر چوہدری پرویز الٰہی کا ذاتی فیصلہ ہے کیوں کہ اسٹیبلشمنٹ اس وقت عمران خان سے دُور ہے۔ سہیل وڑائچ نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ چوہدری پرویز الٰہی کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں اور اگر وہ پارٹی کے صدر بنتے ہیں تو وہ چاہیں گے کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ پی ٹی آئی کے تعلقات بہتر ہوں۔

سابق وزیرِاعظم عمران خان اور پرویز الٰہی کےماضی میں تعلقات اتنے خوش گوار نہیں رہے۔سابق صدر پرویز مشرف کےد ورِ حکومت میں جب پرویز الہٰی پنجاب کے وزیرِ اعلٰی تھے تو عمران خان انہیں پنجاب کا سب سے بڑا ‘ڈاکو’ قرار دیتے رہے ہیں۔دوسری جانب عمران خان کے دورِ اقتدار کے دوران ایک انٹرویو میں پرویز الٰہی نے کہا تھا کہ عمران خان کی حکومت کو اسٹیبلشمنٹ چلا رہی تھی۔

ماضی کے الزامات اور اختلافات کے بعد اب دونوں سیاست ‘ایک پیج’ پر ہیں لیکن سہیل وڑائچ کے خیال میں عمران خان اور چوہدری پرویز الٰہی کی طرزِ سیاست میں بہت فرق ہے۔اُن کے بقول عمران خان پاپولر سیاست کرتے ہیں جب کہ چوہدری پرویز الہٰی ‘ڈرائنگ روم’ کی سیاست کرتے ہیں۔

سینئر تجزیہ کار سلمان غنی کہتے ہیں کہ گو کہ چوہدری پرویز الٰہی کے پاس کوئی بڑی سیاسی جماعت نہیں تھی، لیکن اُن کی خاندانی سیاست بہت مضبوط تھی۔ سلمان غنی کا کہنا تھا کہ چوہدری پرویز الہٰی ایک قد آور سیاسی شخصیت کے علاوہ پنجاب کے وزیرِاعلٰی رہ چکے ہیں۔ لہٰذا یہ تحریکِ انصاف کے لیے تو اچھا ہے، لیکن پرویز الہٰی کے لیے ایک بہت بڑا فیصلہ ہے کیوں کہ اب یہ دیکھنا ہو گا کہ آیا تحریکِ انصاف کے لوگ چوہدری پرویز الہٰی کو ‘ہضم’ کر پائیں گے۔

جنرل باجوہ نے حمزہ شہباز سے  وزارت ِاعلیٰ کیوں چھینی؟

Back to top button