عمران کی فوج پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ناکام، لمبی قید کاٹیں گے

عمران خان کی جانب سے فوج مخالف بیانیے کی شدت بڑھا کر طاقتور فیصلہ سازوں کو دباؤ میں لانے کی کوششیں مکمل طور پر ناکام ہوتی دکھائی دیتی ہیں، جس کے بعد اب مذاکرات کے دروازے عملاً بند نظر آ رہے ہیں۔ سیاسی حلقوں کے مطابق موجودہ حالات میں عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین کسی طرح کی بریک تھرو کے امکانات معدوم ہو چکے ہیں اور یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ عمران خان کو ایک طویل عرصے تک قید کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران کے ریاست مخالف بیانیے نے نہ صرف ان کی رہائی کے تمام ممکنہ راستے مسدود کر دیے ہیں بلکہ تحریک انصاف کی سٹریٹ پاور بھی بتدریج ختم کر دی ہے۔ سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو وزارتِ اعلیٰ سے ہٹائے جانے کے بعد اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف کے درمیان موجود محدود روابط بھی ختم ہو چکے ہیں، جبکہ پارٹی کے اندر بھی کوئی ایسا مؤثر رہنما دکھائی نہیں دیتا جو طاقتور فیصلہ سازوں کیساتھ مذاکرات کرنے کی پوزیشن میں ہو۔
ایسے میں تحریک انصاف سے علیحدگی اختیار کرنے والے چند سابق رہنما ایک مرتبہ پھر حکومت کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھلوانے اور عمران خان کی رہائی کی راہ ہموار کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کوششیں بہت لیٹ ہو چکی ہیں اور مذاکرات کی ٹرین پلیٹ فارم سے نکل چکی ہے۔
تاہم پی ٹی آئی کے اندر سے ایک نئی حکمتِ عملی پر غور کیا جا رہا ہے، جسے اڈیالہ جیل سے کوٹ لکھپت تک کا سفر قرار دیا جا رہا ہے۔ عمران خان 28 ماہ سے زائد عرصے سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ ان کی رہائی کے لیے انکی پارٹی کی جانب سے احتجاج، دھرنے، مذاکرات، استعفے اور دیگر سیاسی آپشنز آزمائے گئے، مگر کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔ حال ہی میں عمران خان نے مذاکرات کے لیے محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو نامزد کیا، تاہم چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان واضح کر چکے ہیں کہ مذاکرات کب، کس سے اور کن نکات پر ہوں گے، اس کا فیصلہ دونوں نامزد رہنما عمران خان سے ملاقات کے بعد ہی کریں گے، جو تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔
سینیئر صحافی انصار عباسی کے مطابق پی ٹی آئی کے سابق رہنما فواد چوہدری، عمران اسماعیل اور محمود مولوی نے ایک بار پھر سیاسی درجہ حرارت کم کرنے اور بالخصوص فوجی اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ ان کے مطابق تینوں رہنما ایک افسر اور حکومتی وزرا سے رابطے میں ہیں تاکہ کسی حد تک ریلیف حاصل کیا جا سکے۔ انصار عباسی کا کہنا ہے کہ ان رہنماؤں کی توجہ اڈیالہ جیل کے بجائے کوٹ لکھپت جیل پر مرکوز ہے، جہاں اس وقت پی ٹی آئی کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی، میاں محمود الرشید، اعجاز چوہدری، عمر چیمہ اور ڈاکٹر یاسمین راشد قید ہیں۔ یہ رہنما ماضی میں بھی مذاکرات کو واحد قابلِ عمل راستہ قرار دے چکے ہیں، تاہم عمران خان عوامی سطح پر کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق فواد چوہدری اور ان کے ساتھیوں کی حکمتِ عملی یہ ہے کہ پہلے کوٹ لکھپت جیل میں قید رہنماؤں کی رہائی کی راہ ہموار کی جائے تاکہ پارٹی کے اندر سے ایک ایسی قیادت سامنے آ سکے جو زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے نسبتاً معتدل اور عملی رویہ اختیار کر سکے۔ فواد چوہدری کے مطابق جب تک حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان مذاکرات پر آمادہ نہیں ہوتے، کوئی پیش رفت ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں اڈیالہ جیل سے کسی مثبت پیغام کی توقع مشکل ہے، تاہم کوٹ لکھپت جیل میں قید سینیئر رہنما مذاکرات کے حق میں ہیں اور عمران خان کو اسی راستے پر قائل کرنا ہوگا۔
جیل جانے کے باوجود عمران کی مقبولیت کم کیوں نہیں ہو رہی؟
فواد چوہدری کے مطابق حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے اندر بھی ایسے سنجیدہ عناصر موجود ہیں جو سیاسی کشیدگی میں کمی چاہتے ہیں، تاہم فی الحال کسی بڑے بریک تھرو کے آثار نظر نہیں آتے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ایک سنجیدہ کوشش ضرور ہے، لیکن مجموعی حالات اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ عمران خان اور تحریک انصاف کے لیے مذاکرات کا وقت شاید گزر چکا ہے۔
