زرداری کو بندوق کے نشانے پر لینے والے عمران کا بھٹو کارڈ

معروف صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا ہے کہ آصف علی زرداری کو اپنی بندوق کے نشانے پر رکھنے والے وزیراعظم عمران خان کا خفیہ ٹرمپ کارڈ بالآخر ذوالفقار علی بھٹو کی صورت میں سامنے آ چکا ہے جس سے ان کی سیاسی بصیرت کا اندازہ لگانا کوئی مشکل نہیں۔ یاد رہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نہ صرف بے نظیر بھٹو کے والد تھے بلکہ آصف علی زرداری کے سسر اور بلاول بھٹو کے والد ہیں جن کو عمران خان نے بھی اپنا سیاسی ہیرو قرار دے دیا ہے۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں مظہر عباس کہتے ہیں کہ 27 مارچ کو پریڈ گراؤنڈ اسلام آباد میں اپنا ٹرمپ کارڈ پبلک کرتے ہوئے عمران خان نے خود کو بھٹو ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی اور ایک نام نہاد دھمکی آمیز خط بھرے مجمعے میں لہرا دیا۔ انکی اس حرکت نے 1977ءکے راجہ بازار کی یاد تازہ کر دی جب بھٹو نے اسی طرح کا ایک خط لہرایا تھا۔ مگر شاید تحریک انصاف کے کارکنان کسی اورسرپرائز کے منتظر تھے جو سامنے نہ آ سکا۔ عمران نے اپنی تقریر میں یہ تک کہہ ڈالا کہ بین الاقوامی طاقتیں انہیں ہٹانے کی سازش کر رہی ہیں اور عین ممکن ہے، یہی ان کا اگلا بیانیہ ہو آئندہ الیکشن میں۔

مظہر عباس کہتے ہیں کی عمران کی فراغت کا کھیل اب آخری مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس پورے عمل سے جمہوریت آگے بڑھے گی یا ہم پھر ’’زیرو پوائنٹ ‘‘ پر آگئے ہیں؟ یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ آخر عمران نے بھٹو کارڈ کیوں استعمال کیا۔ شاید اس کے بغیر سیاست نامکمل ہے، اگر بات بین الاقوامی سازش کی جائے تو مثال آپ اُسی کی دیتے ہیں جو مثال بنا۔ آج سے کئی سال پہلے میں نے اس امریکی سفارت کار کا انٹرویو کیا تھا جو اس تاریخی ملاقات کے وقت وہاں موجود تھا جو سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان ہوئی تھی، اس ملاقات میں اس نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو بند نہ کرنے کی صورت میں ذوالفقار علی بھٹو کو ’نشانِ عبرت‘ بنانے کی دھمکی دی تھی۔

ملاقات کے کچھ دنوں بعد بھٹو نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان مرحوم کو بلا کر کہا ایٹمی پروگرام جتنی جلدی ہو مکمل کرو۔ اس کے بعد جو ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ مظہر کے بقول ملک میں ضیا مارشل لا لگنے کے بعد بھی بھٹو کی مقبولیت میں کمی نہی آئی تھی، اس وجہ سے 90 روز میں الیکشن نہیں ہوئے اور بھٹو کو ایک عدالتی قتل کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ آخری وقت میں بھٹو کو بھی NRO کی آفر ہوئی مگر اُنہیں نے یہ کہہ کر پیشکش مسترد کر دی کہ ’’میں تاریخ کے ہاتھوں مرنا نہیں چاہتا‘‘۔ آج 43 سال بعد بھی پاکستانی سیاست بھٹو کے ذکر کے بغیر نامکمل ہے۔

مظہر کے بقول خان صاحب نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس اپنے خلاف عالمی سازش کے ثبوت ہیں۔ لیکن بقول ان کے وہ ملکی مفاد کے پیش نظر اس ثبوت کو پبلک نہیں کر سکتے، ویسے بھی ہماری قوم مفروضوں اور تاثر پر ہی اپنی رائے قائم کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں اگر کہیں عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو جاتی ہے تو خان کا آخری خطاب کیا اور کہاں ہو گا اور اگر ناکام ہو جاتی ہے تو کیا کبھی اس سازش سے پردہ اٹھے گا؟ عمران نے جلسے میں واضح اشارہ امریکہ کی طرف ہی کیا ہے اور عوام کو یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ بھٹوکی طرح انہیں بھی آزادانہ خارجہ پالیسی کی سزا دی جا رہی ہے۔

لیکن بقول مظہر عباس، بھٹو کی حمایت میں تو آدھی اسلامی دنیا کھڑی ہوگئی تھی۔ شاہ فیصل سے لے کر کرنل قدافی اور یاسر عرفات سے لے کر حافظ اسد تک، اب دیکھتے ہیں خان صاحب کو دی جانے والی دھمکی کتنی سنجیدہ ہے اور کیا وہ اس سازش کو اپنے دوست ممالک سے شیئر کریں گے؟ بھٹو کو سزا امریکی معاہدوں سیٹو اور سینٹوسے نکلنے، غیر جانبدار تحریک کا حصہ بننے، تیسری دنیا اور اسلامک بلاک بنانے اور امریکی مخالفت کے باوجود اسلامی سربراہ کانفرنس منعقد کرنے اور سب سے بڑھ کر ایٹمی پروگرام شروع کرنے پر ملی۔ اس وقت کی اسلامی اور عرب دنیا اور آج کے سربراہوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ تب یہ بلاک روس کے ہونے کی وجہ سے بہت مضبوط تھا لیکن اب صورت حال مختلف ہے، اب تو اسرائیل سے دوستی بڑھ رہی ہے۔

بھٹو سے عمران تک ،ان پچاس برسوں میں جمہوریت پر بار بار حملے ہوئے۔ دو طویل دورانیے کے مارشل لا لگے دو مقبول لیڈر عدالتی قتل اور دہشت گردوں کا شکار بنے اور جمہوریت کی بساط کبھی آمروں کی جانب سےآئین میں ترمیم کی بھینٹ چڑھتی رہی تو کہیں سیاست کو اتنا کرپٹ کر دیا گیا کہ لوگ جمہوریت سے ہی دور ہوتے چلےگئے۔ بدقسمتی سے سیاسی جماعتوں نے بھی سبق نہ سیکھا، بلکہ مخالفوں کی حکومتیں گرانے میں ان جماعتوں نے سہولت کار کا کردار ادا کیا۔ مجھے لگتا نہیں کہ عدم اعتماد کی استحریک کی منظوری یا ناکامی سے سیاسی استحکام آئے گا۔ ماضی میں قبل از وقت حکومتوں کے خاتمے سے عدم استحکام بڑھا ہے کم نہیں ہوا۔

مظہر کہتے ہیں کہ ابھی تو جمہوریت کے تسلسل کے 15 سال مکمل ہونے میں ایک سال باقی تھا مگر جب سیاست ایوانوں سے میدانوں اور پھر بازاروں میں آجائے تو پھر سیاسی زبان بھی بازاری ہو جاتی ہے۔ لوگوں کو امربا لمعروف کا درس دیتے وقت اگر تربیت بھی دی گئی ہوتی تو سیاست میں مثبت رجحان سامنے آتا۔ دوسری طرف بلاول بھٹو ابھی جوان ہیں خون بھی گرم ہو گا مگر جو زبان وہ اب استعمال کر رہے ہیں وہ نہ ان کو فائدہ دے گی نہ ہی ان کے کارکنوں کو۔

سعید غنی کا وزیر اعظم کو توبہ کرنے کا مشورہ

پاکستان کی سیاست اور سیاسی جماعتیں مرہون منت رہتی ہیں، جماعتیں بنانے، توڑنے اور اس سب کے لئے احتساب کے استعمال نے صرف اور صرف کرپشن کو فروغ دیا ہے۔ ہماری سیاست میں کچھ غیر ملکی دوستوں کا کردار ہے۔ 2000ءکا NRO اور رہائی ہو یا 2007ءکا NRO ہو کوئی بھی خود اپنے بنائے ہوئے اصول پر کھڑا نہ رہ سکا۔ مظہر عباس کہتے ہیں کہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کے میچ میں اب آخری چند گیندوں کا کھیل باقی ہے، ایسے میں کپتان کے خلاف ٹیم میں ہی بغاوت ہو جائے تو مشکل تو کپتان کا کیا حال ہو گا۔ انکے بقول عمران سیاست میں کھیلوں کی دنیا سے آئے البتہ بھٹو کا سفر 35 برس کی عمر میں بحیثیت وکیل شروع ہوا جس میں انہوں نے عروج بھی دیکھا اور زوال بھی مگر جوڈیشل مرڈر نے انہیں امر کر دیا۔ لہذا کوئی تو وجہ ہو گی کہ آج کا وزیر اعظم بھی بھٹو مداح نکلا۔

Imran’s Bhutto card that targeted Zardari at gunpoint | video in Urdu

Back to top button