عمران کی مسلسل ضد سے تحریک انصاف تباہی کے دہانے پر آن پہنچی

عمران خان کی مسلسل ضد اور انانیت نے نہ صرف انہیں بلکہ ان کی تحریک انصاف کو بھی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے لہٰذا آج صورت حال یہ ہے کہ ان کے پیچھے کھائی ہے اور آگے گڑھا ہے، فوجی اسٹیبلشمنٹ کو پہلے گالی گلوچ کرنے اور اس کے بعد ڈیل کی منتیں کرنے کے بعد عمران خان نے اپنی رہائی کے لیے احتجاجی تحریک کی کال دے رکھی ہے لیکن اس حوالے سے ابھی تک کوئی سرگرمی نظر نہیں آتی۔ اب یہ خبریں آ رہی ہیں کہ 5 اگست کی احتجاجی تحریک کو علامتی تحریک میں تبدیل کیا جا رہا ہے جو اسی روز چل کر ختم ہو جائے گی۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے کی بنیادی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کا ورکر اب مایوس ہو چکا ہے اور وہ احتجاج کے لیے سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اج تحریک انصاف جس المیے سے دوچار ہے اس کی بنیادی وجہ اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار عمران خان کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراؤ کی پالیسی تھی جو کہ ناکامی کا شکار ہو چکی ہے۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی نرسری میں پروان چڑھنے کے بعد 2018 کے دھاندلی زدہ الیکشن میں وزارت عظمی پر فائز ہونے والے عمران خان نہ صرف ناہل اور نالائق ثابت ہوئے بلکہ احسان فراموش بھی نکلے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ پاکستانی سیاسی تاریخ کے پہلے وزیراعظم بنے جسے پارلیمنٹ نے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے عہدے سے فارغ کیا۔

تحریک انصاف کے مرکزی قائدین کا بھی یہی کہنا ہے کہ آج پارٹی کی جو مخدوش صورتحال ہے اس کی بنیادی وجہ اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراؤ کی پالیسی تھی۔ عمران خان کی جانب سے حکومت کیساتھ سیاسی مذاکرات سے مسلسل انکار اور فوجی قیادت سے بات چیت پر اصرار کو اب خود ان کی پارٹی کے لوگ سنگین بحران کی وجہ قرار دے رہے ہیں، فوجی اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت کی بجائے مزاحمت کی پالیسی کے نتیجے میں پی ٹی آئی کے کئی سینئر رہنما جیلوں میں بند ہیں، جبکہ نسداد دہشتگردی کی عدالتوں سے 9 مئی کے کیسز میں پی ٹی آئی رہنماؤں کو سزائیں سنانے کا عمل تیز ہوتا جا رہا ہے۔ یوں پارٹی کی پوزیشن مزید کمزور ہوتی جا رہی ہے اور اسکی سٹریٹ پاور ختم ہوتی جا رہی ہے۔

سپریم کورٹ کی جانب سے نو مئی کے ملزمان کی سزاؤں کے فیصلے اٹھ اگست تک کرنے کے حکم کے بعد سے پی ٹی آئی کے 14 اراکین پارلیمنٹ کو 10 برس قید کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں جس کے بعد کئی نااہل ہو چکے ہیں اور کئی نااہلی کے انتظار میں ہیں۔ اگلے چند روز میں مزید ارکان اسمبلی، رہنماؤں اور کارکنوں کی سزائیں سنائے جانے کا امکان ہے۔۔یہ سزائیں ایسے وقت میں سنائی جا رہی ہیں جب پارٹی کے اندر سے، سزا یافتہ اور آزاد دونوں قسم کے رہنما، عمران خان کی جارحانہ سیاسی حکمتِ عملی پر تحفظات ظاہر کر رہے ہیں۔

عمران خان کی ان کے بیٹوں سے فون پر بات کروادی گئی

یاد رہے کہ پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے بارہا عمران خان پر زور دیا تھا کہ وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کی اجازت دیں تاکہ گرفتاریوں اور نااہلیوں سے بچا جا سکے۔ تاہم، عمران خان نے ہر تجویز مسترد کر دی اور واضح کیا کہ حکومت یا حکومتی اتحادیوں سے کوئی بات نہیں ہوگی۔ ان کا اصرار تھا کہ اگر بات ہوگی تو صرف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ چونکہ اصل فیصلہ ساز فوج ہے، نہ کہ موجودہ حکومت۔ شاہ محمود قریشی اور چار دیگر سینئر رہنماوں نے بھی خان کو ایک کھلا خط لکھا جس میں مذاکرات کو واحد قابلِ عمل راستہ قرار دیا گیا تھا، لیکن عمران نے ان کی اپیل بھی نظر انداز کر دی اور احتجاجی تحریک شروع۔کرنے پر اصرار کیا۔حالیہ ہفتوں میں پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے کئی ارکان نے خا  حکمت عملی پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ کچھ کو خدشہ ہے کہ عسکری قیادت پر عمران کی تنقید اور تصادم کی پالیسی ریاستی ردِعمل کو مزید سخت کر سکتی ہے۔ اندرونی اجلاسوں میں سینئر ارکان نے عمران کو خبردار کیا کہ سیاسی عمل سے دوری کی صورت میں پارٹی کو اجتماعی گرفتاریوں اور طویل المیعاد نااہلیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ان تمام وارننگز کے باوجود، عمران خان اپنے موقف پر قائم رہے، حکومت کے ساتھ کسی بھی سطح پر بات چیت کی اجازت نہ دی، اور صرف اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کی خواہش ظاہر کی، لیکن عسکری قیادت کی جانب سے مسلسل انکار کی وجہ سے سیاسی سطح پر کوئی مکالمہ نہیں ہو پایا، جس کا نتیجہ سزاؤں کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔

پارٹی کی سینئر قیادت کو سزائیں اور ارکان پارلیمنٹ کی نااہلیوں کے سبب تحریک انصاف شدید سیاسی بحران سے دوچار ہے۔ عمران خان کی تصادم پر مبنی حکمتِ عملی اور مذاکرات سے انکار نے پارٹی کو پہلے ہی بھاری نقصان پہنچایا ہے، اور آنے والے دنوں میں مزید عدالتی فیصلوں کے نتیجے میں پارٹی کو مزید دھچکے لگنے جا رہے ہیں۔

Back to top button