اپنی چھٹی کا یقین ہونے کے بعد عمران کا سیاسی شہید بننے کا فیصلہ

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے چوہدری پرویز الہی کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنا کر مرکز میں اپنی حکومت بچانے سے انکار کی بنیادی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ انھیں دونوں صورتوں میں اپنی چھٹی یقینی نظر آ رہی ہے لہذا
انہوں نے آخری وقت تک لڑتے ہوئے جانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ سیاسی شہید کا درجہ حاصل کر سکیں۔
تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ قاف لیگ کو خود سے دور کر کے وزیر اعظم نے ایک بڑی سیاسی غلطی کی ہے کیونکہ اسکے نتیجے میں اب بلوچستان عوامی پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ بھی قاف لیگ کے ساتھ مل کر متفقہ لائحہ عمل بناتے ہوئے اپوزیشن سے ہاتھ ملانے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کا باقاعدہ اعلان اگلے چند روز میں کر دیا جائے گا۔ اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ کپتان کی تین بڑی اتحادی جماعتوں کے حزب اختلاف سے معاملات طے پا چکے ہیں اور اب صرف ایک حکمت عملی کے تحت باقاعدہ اعلان میں تاخیر کی جا رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جیسے ہی حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا اعلان کیا جائے گا، کپتان کی تین بڑی اتحادی جماعتیں اپوزیشن کے ساتھ ہاتھ ملانے کا اعلان کردیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مرکز میں عمران خان کی چھٹی کروانے کے بعد قاف لیگ کے ساتھ معاہدے کے مطابق پنجاب میں بھی وزیر اعلی عثمان بزدار کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جائے گی اور پرویز الٰہی کو وزارت اعلی سونپ دی جائے گی۔ لہذا وزیر اعظم کے علاوہ اب وزیرِ اعلٰی عثمان بزدار کو بھی اپنی بقا کا چیلنج درپیش ہے۔
حکمراں جماعت تحریک انصاف کے منحرف دھڑے ترین گروپ نے عثمان بزدار کو فارغ کرنے کا مطالبہ کر رکھا ہے تو وہیں عمران خان عثمان بزدار کو کام جاری رکھنے کی ہدایت کر چکے ہیں۔ ایسے میں پنجاب کی سیاست بھی اہم موڑ پر آ گئی ہے اور لاہور شہر بھی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنا ہوا ہے۔ عمران خان کے قریبی ساتھی جہانگیر ترین کے بعد علیم خان بھی عثمان بزدار کی تبدیلی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
رہے کہ 2018 کے الیکشن سے پہلے علیم خان کو وزارت اعلی دینے کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن الیکشن کے بعد کپتان اپنے وعدے سے پھر گئے اور بشریٰ بی بی کے کہنے پر عثمان بزدار کو وزیر اعلی بنا دیا۔ پنجاب میں میں علیم خان اعر عثمان بزدار کے اختلافات کی کہانی اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب 2018 کے انتخابات میں پنجاب میں مسلم لیگ (ن) سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی، لیکن اسے تحریکِ انصاف کے مقابلے میں صرف چند ووٹوں کی ہی برتری تھی جسے جہانگیر ترین اور علیم خان نے ختم کیا اور آزاد اراکین کو ساتھ ملایا جس کی بدولت تحریکِ انصاف کی حکومت بنی۔
لیکن جب ایک ویڈیو پیغام میں وزیرِ اعظم عمران خان نے سردار عثمان بزدار کو وزیرِ اعلٰی نامزد کیا تو ترین اور علیم سمیت تحریکِ انصاف کے کئی مرکزی رہنما بھی ہکا بکا رہ گئے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ تحریکِ انصاف کے ساتھ منسلک رہنماؤں کو عثمان بزدار کی نامزدگی ایک آنکھ نہیں بھائی۔ ان رہنماؤں میں جہانگیر ترین اور علیم خان بھی شامل تھے۔ علیم خان کے خلاف نیب کیسز نے اُن کے وزیرِ اعلٰی بننے کی اُمید کو اور مدہم کر دیا تو اُنہوں نے پارٹی سرگرمیوں سے کنارہ کشی کر لی۔ لیکن اب علیم خان اور عثمان بزدار آمنے سامنے ہیں اور علیم خان نے کھل کر اس بات کا اظہار کر دیا ہے کہ عثمان بزدار کے ہوتے ہوئے وہ پارٹی قیادت سے مزید کوئی بات نہیں کریں گے۔
جب سے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہوئی ہے پنجاب میں حکمران جماعت کے منحرف اراکین بھی کھل کر سامنے آ گئے ہیں اور بزدار کی فراغت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اپنی تمام تر کوششیں اور وسائل بروئے کار لانے کے باوجود تحریکِ انصاف، مسلم لیگ (ن) کو نیچا نہیں دکھا سکی۔
اوآئی سی اجلاس، پاکستان پریڈ کیلئے سیکیورٹی بڑھانے کا حکم
تحریکِ انصاف پنجاب کے رہنماؤں کی بے چینی اس لیے بھی بڑھ رہی ہے کیوں کہ عثمان بزدار کی گورننس کے بعد انتخابات میں جانا وہ گھاٹے کا سودا سمجھتے ہیں۔ لہذٰا پنجاب میں اُن کی نظریں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر ہیں۔ عثمان بزدار کی کارکردگی سے نہ پارٹی مطمئن ہے، نہ عوام مطمئن ہیں ۔ اُن کے بقول سوائے عمران خان کے عثمان بزدار کی کامیابیاں کسی کو نظر نہیں آتیں۔
سینئر صحافی اور تجزیہ کار نسیم زہرہ کا پنجاب کے حوالے سے کہنا ہے کہ وہاں اتنے دھڑے بن گئے ہیں کہ اب کسی ایک دھڑے کو دوسرے دھڑے پر فوقیت حاصل نہیں اور یوں لگ ہے کہ حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں میں وہ لوگ واپس آ رہے ہیں جن کو عمران خان نے جھنڈی دکھائی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ جب حکمران جماعت کے اندر ہی اتحاد نہیں ہے تو پھر عثمان بزدار کس طرح اپنا اقتدار بچا پائیں گے۔ ویسے بھی اگر مسلم لیگ نواز چوہدری پرویز الہی کو وزیراعلیٰ نامزد کرنے پر آمادہ ہو جاتی ہے تو عثمان بزدار کا بچنا ناممکن ہو جائے گا۔ تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ شاید وزیراعظم عمران خان بھی پنجاب کی صورت حال بن چکے ہیں اور یہ جان گئے ہیں کہ عثمان بزدار کو بچانا ممکن نہیں لہٰذا انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ لڑتے ہوئے اقتدار سے باہر ہوں گے تاکہ سیاسی شہید کا درجہ حاصل کر سکیں۔
