عمران کا اپنا فوج مخالف سوشل میڈیا بریگیڈ سائیڈ لائن کرنے کا فیصلہ؟

عمران خان کو جیل سے باہر نکالنے کی کوششوں میں مصروف امریکی ڈاکٹرز اور تاجروں کے مشورے پر بانی پی ٹی آئی نے بیرون ملک سے پارٹی کا فوج مخالف سوشل میڈیا بریگیڈ چلانے والی ٹیم کو سائیڈ لائن کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، تاہم یہ کام آہستہ آہستہ کیا جائے گا تا کہ پارٹی کی صفوں میں اضطراب نہ پیدا ہو۔ پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے پہلے مرحلے میں سوشل میڈیا ٹیم کے لوگوں کو پارٹی کمیٹیوں کے اہم اجلاسوں سے باہر کیا جائے گا جبکہ دوسرے مرحلے میں انہیں کمیٹیوں سے ہی فارغ کر دیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دو روز پہلے عمران سے پارٹی رہنماوں کی جیل میں ہوئی ملاقات کے دوران کئی حساس اُمور پر تبادلہ خیال کیا گیا جس میں بیرون ملک سوشل میڈیا بریگیڈ کے معاملات بھی شامل تھے۔ امریکا میں مقیم پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بریگیڈ چلانے والوں کے بارے میں عمران نے بیرسٹر گوہر خان کو کہا ہے کہ انہیں پارٹی کی سیاسی اور کور کمیٹیوں سے باضابطہ طورپر ہٹانے سے ورکرز کو غلط پیغام جائے گا۔ اس لیے پہلے مرحلے میں ان لوگوں کو کمیٹیوں کے اجلاسوں میں مدعو کرنا بند کر دیا جائے۔ اگلے مرحلے میں پارٹی کی کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کی تشکیل نو کی جائے گی اور ایسے لوگوں کو دوبارہ شامل نہیں کیا جائے گا۔
تاہم دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جن لوگوں کو پارٹی کی سیاسی اور کور کمیٹی سے نکالنے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے وہ پہلے ہی کچھ عرصے سے ان فورمز سے غیر حاضر ہیں۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان لوگوں کو معلوم ہے کہ انہیں خان صاحب کی جانب سے قربانی کے بکرے بنا کر کمیٹیوں سے ہٹانے پر غور کیا جا رہا ہے لہذا وہ پہلے ہی سائیڈ پر تو ہو گئے ہیں لیکن انہوں نے اپنا فوج مخالف زہریلا پروپگینڈا بھی تیز تر کر دیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کا سوشل میڈیا بریگیڈ اب ان کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے جسے وہ نہ تو اگل سکتے ہیں اور نہ ہی نگل سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستانی نژاد امریکی ڈاکٹرز اور تاجروں کے ایک گروپ سے جیل میں ملاقات کے بعد سے عمران اپنی جماعت کے سوشل میڈیا بریگیڈ کو کنٹرول کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں کیونکہ وہ فوجی قیادت پر آخری حد تک جا کر تنقید کر رہا ہے۔ بانی پی ٹی آئی کو یہ احساس دلایا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کی وجہ سے ان کی دشمنیاں بڑھتی ہی چلی جا رہی ہیں جو ان کی رہائی میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہورہی ہیں۔ اب پی ٹی آئی کیلئے وہ صورتحال بن چکی ہے کہ آگے فوج ہے تو پیچھے انکا سوشل میڈیا بریگیڈ ہے۔ لہذا اگر وہ جیل سے باہر آنا چاہتے ہیں تو انہیں اپنے سوشل میڈیا برگیڈ کو لگام ڈالنا ہو گی، چنانچہ اب فوج مخالف زریلہ پروپگنڈا کرنے والوں کو آہستہ آہستہ سائیڈ لائن کرنے کا فیصلہ ہو گیا ہے۔
خیال رہے کہ دو ہفتے پہلے چند طاقتور امریکی پاکستانیوں نے اعلیٰ عسکری قیادت سے ملاقات اس کے بعد اڈیالہ جیل میں عمران سے بات چیت کی تھی اور انہیں اپنی پارٹی پالیسی پر نظر ثانی کا مشورہ دیا تھا۔ بتایا گیا کہ پہلی بار عسکری قیادت نے عمران کے ایشو پر کچھ لچک دکھائی۔ اس معاملے کو آگے بڑھانے سے پہلے کہا گیا کہ جو کچھ پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کر رہی ہے اس کو روکا جائے۔
مولانا فضل الرحمن اس وقت عمران سے ہاتھ کیوں نہیں ملانا چاہتے ؟
عمران نے اس حوالے سے مثبت رد عمل تو دیا ہے لیکن وہ کھل کر اپنے سوشل میڈیا بریگیڈ کے خلاف کسی کاروائی سے انکاری ہیں۔ ایسے میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا خان صاحب واقعی ذہنی طور پر اپنی سوشل میڈیا کی طاقت کو کم کرنے کے لیے تیار ہیں خصوصا جبکہ وہ سوشل میڈیا کو اپنی اصل طاقت سمجھتے ہیں اور اسے مخالفین کے خلاف ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے آئے ہیں۔ اگر آپ خان صاحب کا پیٹرن سمجھیں تو انہوں نے ہر اس بندے‘ ادارے یا مخالف کے خلاف سوشل میڈیا کو استعمال کیا جو اُن کے ایجنڈے پر نہیں چلا یا نہیں چلنا چاہتا تھا۔ آپ دیکھ لیں جج ہو‘ سرکاری افسر ہو‘ صحافی‘ مخالف سیاستدان یا عسکری قیادت انہوں نے کھل کر اس فورم کو استعمال کیا اور وہ کامیاب رہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اب یہی سوشل میڈیا عمران خان کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے۔
