عمران کا مذاکراتی عمل رکوا کر دوبارہ فوج کی شمولیت کا مطالبہ

اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کو مسئلے کی اصل جڑ قرار دینے والے عمران خان نے وفاقی حکومت سے مذاکرات شروع کرنے کے بعد اچانک ایک مرتبہ پھر فوجی اسٹیبلشمنٹ کو مذاکراتی عمل میں شامل کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی نے 2 جنوری کو طے شدہ پروگرام کے مطابق حکومتی مذاکراتی کمیٹی سے ملنے سے پرہیز کیا اور اب بھی آئیں بائیں شائیں کر رہی ہے۔
دوسری جانب مذاکراتی عمل میں اہم کردار ادا کرنے والے نون لیگی سینٹر عرفان صدیقی نے پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں یہ تاثر مل رہا ہے کہ تحریک انصاف حکومت سے مذاکرات میں سنجیدہ نہیں لہذا اگر مزید تاخیر کی گئی تو یہ حکومت اور تحریک انصاف کے مذاکرات کھٹائی میں پڑ جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکراتی عمل کا آغاز تحریک انصاف کی خواہش پر کیا گیا تھا لیکن اب وہ بلاوجہ نخرے دکھا رہی یے۔
اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ مذاکراتی عمل سے اصل مسئلہ اڈیالہ جیل میں بند عمران خان کو ہے۔ وہ پچھلے کئی مہینوں سے یہ رٹ لگائے ہوئے تھے کہ اگر تحریک انصاف مذاکرات کرے گی تو صرف فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کرے گی، تاہم فوجی ترجمان کی جانب سے واضح طور پر ان سے مذاکرات سے انکار کے بعد عمران خان اتحادی حکومت کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ ہو گئے تھے جس کے بعد 19 دسمبر مذاکراتی عمل کا آغاز ہوا تھا۔
مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ 2 جنوری کو منعقد ہونا تھا لیکن اس دوران اچانک عمران خان کو یہ خیال آ گیا کہ حکومت سے مذاکرات کا مطلب تو یہ ہوا کہ انہوں نے نہ صرف 8 فروری کے الیکشن نتائج کو تسلیم کر لیا ہے بلکہ شہباز حکومت کو بھی تسلیم کر لیا ہے، عمران کو یہ خدشہ بھی تھا کہ مذاکراتی عمل کے دوران انہیں سزا بھی سنائی جا سکتی ہے حالانکہ مذاکرات شروع کرنے کا بنیادی مقصد تو جیل سے رہائی ہے، لہذا حسب سابق ایک بڑا یوٹرن لیتے ہوئے عمران نے مذاکرات کاروں کو بات چیت آگے بڑھانے سے روکتے ہوئے یہ مطالبہ کر دیا ہے کہ اصل فیصلہ سازوں یعنی فوجی اسٹیبلشمنٹ کو بھی مذاکراتی عمل کا حصہ بنایا جائے۔
ڈان اخبار کے مطابق اسی وجہ سے اب حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات تعطل کی طرف بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ دو ہفتوں کے مذاکرات کے بعد عمران خان کی ہدایت پر پارٹی کی مذاکراتی ٹیم نے مطالبہ کر دیا ہے کہ معاہدے میں کسی بھی ابہام سے بچنے کے لیے حکومت مذاکراتی عمل میں اصل فیصلہ سازوں کو شامل کرے۔ پی ٹی آئی کے رہنما اور مذاکراتی کمیٹی کے رکن اسد قیصر نے بھی واضح طور پر اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے حکومت سے بتا دیا ہے کہ وہ مذاکرات میں ’اصل سٹیک ہولڈرز‘ کو شامل کرے کیونکہ ’جن کے پاس فیصلہ سازی کے حقیقی اختیارات ہیں ان کی سوچ ابھی تک نظر نہیں آئی‘۔
اسد قیصر نے کہا کہ اصل میں تو فیصلے اس نے کرنے ہیں جسں نے یہ حکومت بنائی ہے، پی ٹی آئی نے حکومت کو اس بارے مشاورت کے لیے وقت بھی دے دیا ہے۔ تاہم پی ٹی آئی رہنما کا یہ موقف نیا نہیں ہے، ان مذاکرات سے قبل پی ٹی آئی نے بار بار حکومت کی مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ’فارم 47 حکومت‘ کے بجائے اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کرے گی۔ اسد قیصر نے یہ دھمکی بھی دی کہ اگر حکومت نے پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی کو پارٹی چیئرمین عمران خان تک بلا تعطل رسائی فراہم نہ کی تو وہ مذاکرات سے واک آؤٹ کرجائیں گے۔
دوسری جانب حکومتی کمیٹی کے ترجمان عرفان صدیقی کے مطابق پی ٹی آئی نے اپنے مطالبات تحریری طور پر حکومتی کمیٹی کے ساتھ شیئر کرنے کا وعدہ کرنے کے باوجود ایسا نہیں کیا جس سے مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ادھر اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ’پی ٹی آئی کمیٹی صرف سہولت کار کا کردار ادا کر رہی ہے اور کسی بھی معاہدے پر حتمی فیصلہ صرف عمران خان ہی کریں گے‘، انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے عمران خان اور جیل میں بند دیگر رہنماؤں کے ساتھ ان کی ملاقاتوں میں سہولت فراہم نہیں کی تو اپوزیشن جماعت مذاکراتی کمیٹی تحلیل کر دے گی۔
جنرل باجوہ کا فیض حمید کے حق میں بطور دفاعی گواہ پیش ہونے کا امکان
مذاکرات میں اصل فیصلہ سازوں کی شمولیت کے مطالبے کے جواب میں حکومتی کمیٹی کے رکن اور پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ کمیٹی اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے کو تیار ہے کیونکہ پی ٹی آئی کے کچھ مطالبات بشمول 9 مئی کے واقعات، اس سے متعلق ہیں، انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر فوج کے ساتھ بات چیت کی جائے گی۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا حکومتی ٹیم فوج سے بات کرے گی یا وہ مذاکرات میں اپنے نمائندے کو شامل کریں گے تو انہوں نے کہا کہ فوجی ترجمان پہلے ہی بڑے واضح الفاظ میں بتا چکے ہیں کہ فوج غیر سیاسی ہے لہذا اگر تحریک انصاف کو مذاکرات کرنے ہیں تو حکومت کے ساتھ کرے۔
