فوج سے ڈیل مارنےکےخواہش مندعمران کی دوغلی پالیسی برقرار

امریکی وفد کی پاکستان آمد کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر یوتھیوں نے فوجی اسٹیبلشمنٹ سےڈیل اور مذاکرات بارے بڑے بڑے دعوے کر کے پیالی میں طوفان برپا کررکھا تھا تاہم امریکی وفد کی جانب سے پی ٹی آئی کو گھاس نہ ڈالنے اور امریکہ واپس لوٹنے کے بعد اب بانی پی ٹی آئی عمران خان نے مایوس ہو کر جیل سے بیان داغ دیا ہے کہ انھوں نے کسی پارٹی رہنما کو اسٹیبلشمنٹ سے نہ تو مذاکرات کی کوئی اجازت دی ہے اور نہ ہی وہ کسی کے ساتھ کوئی ڈیل کرینگے۔ عمران خان کے حالیہ دعوے بارے مبصرین کا کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اپنے کارکنان کو مطمئن کرنے کیلئے ڈیل اور مذاکرات سے انکار بارے بیانات داغ رہے ہیں تاکہ وہ پارٹی اراکین کے سامنے ثابت کر سکیں کہ ابھی تک ڈٹ کر کھڑا ہے کپتان۔ مبصرین کے بقول حقیقت یہ ہے کہ لمبی جیل یاترا کی وجہ سے عمران خان سخت مایوسی کا شکار ہو چکے ہیں اور ڈیل اور مذاکرات سے انکار کے بیانات دے کر خود کو مطمئن کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ بانی پی ٹی آئی سے اصل پوچھا جانے والا سوال تو یہ ہے کہ انھیں کس نے مذاکرات یا ڈیل کی پیشکش کی ہے جس سے وہ انکار کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان مسلسل اپنی دوغلی پالیسی پر عمل پیرا ہیں پہلے وہ اعظم سواتی جیسے اپنے حواریوں کے ذریعے مذاکرات اور ڈیل کیلئے ترلے کرتے ہیں جبکہ بعد میں خود ہی ایسے عمل سے انکاری ہو جاتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی اسی دوغلی پالیسی کی وجہ سے مقتدر حلقےبانی پی ٹی آئی پر اعتماد کرنے سے انکاری ہیں۔

دوسری جانب سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کے حالیہ بیانات کے بعد تحریک انصاف کی سیاست اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کے گرد گھومتی نظر آ رہی تھی اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی متضاد بیان بازی کی وجہ سے اسکا کوئی سرا ہاتھ نہیں آ رہا تھاتاہم اب بانی پی ٹی آئی نے اپنے اس بیان کے ذریعے کہ نہ کسی کو مذاکرات کی اجازت دی ہے اور نہ ہی کسی کو کسی قسم کی ڈیل کرنے کا اختیار دیا ہے۔ عمران خان کے تازہ بیان نے مذاکرات کے سارے عمل کو اڑا کر رکھ دیا ہے۔ جس کے بعد یوتھیوں کی جانب سے اس حوالے سےبرپا طوفان بھی تھمتا دکھائی دیتا ہے۔

تاہم یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر عمران خان نے اسٹیبلشمنٹ سے کسی قسم کے مذاکرات کی اجازت نہیں دی تھی تو اعظم سواتی کس ایجنڈے پر سرگرم تھے؟ اعظم سواتی کے اس حوالے سے کئے جانے والے دعووں کی حقیقت کیا ہے؟ عمران خان کے حالیہ بیان کے بعد یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی پی ٹی آئی مفاہمتی عمل آگے بڑھانے کی خواہاں نہیں؟ کیا بانی پی ٹی آئی نے پاکستان کے دورہ پر آنے والے امریکی وفد سے لگائی جانے والی توقعات پوری نہ ہونے پر مایوسی میں یہ بیان داغا ہے۔

سینئر صحافی سلمان غنی کے مطابق یرسٹر گوہر اور اعظم سواتی کے بانی پی ٹی آئی عمران خان بارے مزاکرات کی اجازت دینے بارے بیانات نے سب کو ہی پریشان کر دیا تھا۔ ان بیانات کے بعد اپوزیشن کی دیگر جماعتوں میں بھی مایوسی پیدا ہوئی تھی کہ تحریک انصاف ایک طرف حکومت مخالف تحریک کی بات کر رہی یے اور دوسری جانب یہ اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کے راستے ڈھونڈ رہے ہیں۔ تاہم اب جہاں تک بانی پی ٹی آئی کی جانب سے کسی ڈیل کے امکانات کو رد کرنے کا سوال ہے تو پہلے تو یہ دیکھنا ہوگا کہ بانی سے ڈیل کیلئے کوشاں کون ہے؟ سلمان غنی کے مطابق پی ٹی آئی ایک عجب پریشانی کی کیفیت سے دوچار ہے اور اس پر طاری نفسیاتی کیفیت خود ووٹرز اور پارٹی ذمہ داران کو بھی پریشان کر رہی ہے ۔ماہرین کا تو کہنا ہے کہ بانی پی ٹی آئی جب تک اپنے طرز عمل اور طریقہ کار کو ملکی سیاست اورز مینی حقائق سے ہم آہنگ نہیں کرتے تب تک ان کیلئے ریلیف ممکن نہیں۔

سلمان غنی کے مطابق جہاں تک پی ٹی آئی کی اپوزیشن اتحاد کیلئے کوششوں کا تعلق ہے تو یہ سلسلہ تب تک کارگر نہیں ہوگا جب تک پی ٹی آئی اندرونی طور پر یکسوئی اور سنجیدگی اختیار نہ کرے۔ تاہم اگر پی ٹی آئی کی اندرونی کیفیت پر نظر دوڑائی جائے تو ہر بڑا ذمہ دار از خود ہی اپنے کسی ایجنڈا پر گامزن نظر آتا ہے اور موجودہ لیڈر شپ کی نہ تو پارٹی پر کوئی گرپ نظر آ رہی ہے اور نہ ہی وہ ڈسپلن قائم کرنے میں کامیاب ہوتے نظر آتے ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ جیل سے باہر کی قیادت میں سے کوئی ایسانظر نہیں آتا جو ایشوز پر پارٹی موقف کے حوالے سے یکسو ہو بلکہ اب تو پارٹی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے درمیان بھی اختلافی بیانات میڈیا کی زینت بن چکے ہیں لہذا اب دیکھنا یہ ہوگا کہ بانی کی جانب سے مذاکرات اور ڈیل بارے بیانات کے خود جماعتی سیاست پر کیا اثرات ہونگے اور کیا پی ٹی آئی اندرونی اختلافات اور ایک دوسرے کیخلاف بیانات کے رحجان پر قابوپا سکے گی۔ سلمان غنی کے مطابق عمران خان کے مذاکراتی عمل سے انکار کے بعد ابھی تو خود اعظم سواتی کا ردعمل بھی آنا ہے اور انہیں بتانا پڑے گا کہ وہ کن کے کہنے پر اور کس بنیاد پر مذاکرات کیلئے سرگرم تھے اور کیا اب بھی وہ اپنی کاوش جاری رکھیں گے۔ سلمان غنی کا مزید کہنا ہے کہ پی ٹی آئی رہنما اب دعوے کرتے نظر آ رہے ہیں کہ عمران خان اس وقت کسی قسم کی ڈیل یا مذاکرات کے موڈ میں نہیں ہیں۔ تاہم اگر مستقبل میں پی ٹی آئی کو کسی سے مذاکرات کی ضرورت ہو گی تو بات چیت کسی پی ٹی آئی رہنما کے ذریعے نہیں ہو گی بلکہ خود بانی پی ٹی آئی بتائیں گے کہ مذاکرات کس سے کیسے اور کس طرح ہونگے۔

Back to top button