9 مئی کے حملوں پر عمران کا ملٹری ٹرائل یقینی ہے: نجم سیٹھی

انگریزی روزنامہ دی فرائیڈے ٹائمز کے سابق ایڈیٹر نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ فوج میں بغاوت کی سازش کے الزام پر عمران خان کا ملٹری ٹرائل یقینی ہے لہٰذا دیکھنا یہ ہے کہ جنرل فیض حمید ان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بنے گا یا نہیں؟۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف نواب محمد احمد خان قصوری کے مقدمہ قتل میں فیڈرل سیکیورٹی فورس کے سربراہ مسعود محمود وعدہ معاف گواہ بن گئے تھے جسکی بنیاد پر سابق وزیراعظم کو پھانسی دے دی گئی تھی حالانکہ انکے خلاف درج کیس جھوٹا تھا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے پچھلے برس ذوالفقار علی بھٹو کے کیس کو ری اوپن کرتے ہوئے انہیں ملک کی اعلی ترین عدالت کی جانب سے دی گئی پھانسی کی سزا کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔
دنیا ٹی وی پر اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ یہ پاکستانی سیاسی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ ملک کی طاقتور ترین خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ کو کورٹ مارشل کے بعد 14 برس قید با مشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب یہ اطلاعات ہیں کہ 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر حملوں کے الزام میں عمران خان کا ملٹری ٹرائل بھی ہونے جا رہا ہے جس میں فیض حمید ان کے خلاف گواہی دے سکتے ہیں ورنہ انہیں ایک اور کورٹ مارشل کا سامنا ہوگا۔ ایک سوال کے جواب میں نجم سیٹھی نے کہا کہ توشہ خانہ ٹو کرپشن ریفرنس میں 17 برس کی سزا کے فیصلے سے عمران خان کی سیاست کو کوئی فرق نہیں پڑے گا، انکے مطابق عمران خان کو جو سزا ملی ہے اس کی پہلے سے توقع کی جا رہی تھی، انہوں نے کہا کہ اب تک عمران خان اور بشری بی بی کو سول عدالتوں سے سزائیں ہورہی ہیں، اگلے مرحلے میں ان سزاؤں کے خلاف اپیلوں پر اپیل ہو گی، لیکن اصلی چیز کورٹ مارشل ہے ،جس کا اشارہ جنرل فیض حمید کی سزا کے حکمنامے میں دے دیا گیا ہے۔
نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملوں کے الزام میں عمران خان کا ملٹری ٹرائل اب زیادہ دور نہیں۔ یہ ایک بہت ہی خطرناک اور سیریس کیس ہے، ان کا کہنا تھا کہ 190 ملین پائونڈز کیس میں عمران خان کو پہلے ہی سزا ملی چکی ہے، ان سزاؤں کے خلاف اپیلوں کو جلدی لگانے کا حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو کوئی فائدہ نہیں، عمران خان جیل میں بیٹھے ہیں،جتنی دیر چاہیں ان کو کھینچ لیں، وہ اپیل ڈالیں گے تو سال دو سال ججز اپیل ہی سنیں گے، یہ سب سیاسی سزائیں ہیں جن میں قانون کا خیال نہیں رکھا گیا، ہمارے ملک میں سیاستدانوں کو کرپشن کیسز پر جو سزائیں ہوتی ہیں وہ بالآخر کمپرومائز ہو جاتی ہیں اور وزیراعظم ہاؤس سے جیل پہنچ جانے والے سیاستدان وقت بدلنے پر پھر اقتدار میں آ جاتے ہیں، لہذا عمران خان بھی تب تک ہی جیل میں رہیں گے جب تک انکے مسئلے کا کوئی سیاسی حل نہیں نکلتا۔
نجم سیٹھی نے کہا کہ توشہ خانہ کرپشن ریفرنس ٹو میں 17 برس کی سزا ملنے کے بعد عمران خان نے جیل سے پیغام بھیجا ہے کہ لڑنے کیلئے تیار ہو جاؤ، ایک طرف عمران خان لڑائی لڑنے کا کہہ رہے ہیں، تو دوسری طرف کوٹ لکھپت جیل میں بند تحریک انصاف کے رہنما بشمول شاہ محمود قریشی کہہ رہے ہیں کہ بھائی لوگوں سے مذاکرات کرو، لیکن نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ مجھے مذاکرات کا کوئی ماحول نظر نہیں آرہا، انکا کہنا تھا کہ ویسے بھی عمران خان کی سٹریٹ پاور ختم ہو جانے کے بعد فیصلہ سازوں کو پی ٹی آئی سے مذاکرات کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔
صادق اور امین قرار پانے والے عمران لالچی اور کرپٹ کیوں ہو گئے؟
نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود اگر سہیل آفریدی کی عمران خان سے ملاقات ہو جاتی ہے اور وہ انہیں اسلام آباد پر چڑھائی کا حکم دیتے ہیں تو ملک ایک مرتبہ پھر افراتفری کا شکار ہو سکتا ہے حالانکہ حالات بہت نازک ہیں، ایک طرف دہشت گردی کا بازار گرم ہے، دوسری طرف اگر پی ٹی آئی والے پھر سے اسلام آباد پر چڑھائی کی کوشش کرتے ہیں تو سیاسی ٹینشن بڑھ جائے گی، انکا کہنا تھا کہ ملک دشمن عناصر چاہیں گے کہ ملک میں افراتفری ہو اور لوگ لڑیں مریں ہو،آپس میں مریں، اس لئے حکومت احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ ایسے میں دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا پابندیوں کے باوجود تحریک انصاف احتجاج کر پاتی ہے یا نہیں کیونکہ ماضی قریب میں کی ہے احتجاج کی تمام کالیں ناکام ہوئی ہیں۔
