فوج کو مذاکرات پر مجبور کرنے کی عمران کی پالیسی بیک فائر

اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کی  جانب سے فوجی قیادت کو اپنے ساتھ بیک چینل مذاکرات پر مجبور کرنے کے لیے اپنائی گئی جارحانہ سوشل میڈیا مہم الٹا بیک فائر کر گئی ہے، فوجی قیادت عمران کی ہدایت پر چلائی گئی تازہ شر انگیز مہم کے بعد بھی اس موقف پر قائم ہے کہ فوج ایک غیر سیاسی ادارہ ہے اور اگر کسی سیاستدان نے مذاکرات کرنے ہیں تو حکومت وقت کے ساتھ کرے۔ یاد رہے کہ عمران کی جانب سے آرمی چیف کو لکھے گئے تین خطوط کے جواب میں بھی جنرل عاصم منیر نے یہی موقف اپنایا تھا کہ انہیں ایسا کوئی خط نہیں پہنچا اور اگر ملا بھی تو وہ اسے وزیراعظم ہاؤس روانہ کر دیں گے۔

سینیئر صحافی انصار عباسی کے مطابق بیک چینل مذاکرات بحال کرانے کی کوششوں میں مصروف تحریک انصاف کے رہنما پارٹی کی جانب سے آرمی چیف کے خلاف چلائی گئی سوشل میڈیا مہم اور پی ٹی آئی کے آفیشل ایکس اکائونٹ پر  جنرل عاصم منیر کیخلاف ڈالے جانے والے جارحانہ بیانات پر مایوس نظر آتے ہیں۔ پارٹی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال تحریک انصاف کی جیل سے باہر موجود قیادت کیلئے ایک دھچکے سے کم نہیں کیونکہ ایک طرف عمران خان انہیں فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات چیت کا کہتے ہیں اور دوسری طرف فوج کیخلاف مخالف مہم چلاتے آرمی چیف پر ذاتی حملے کیے جا رہے ہیں۔

پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان یہ سمجھتے ہیں کہ سوشل میڈیا مہم کے ذریعے وہ فوجی قیادت کو مذاکرات پر مجبور کر لیں گے تو ایسا نہیں ہو گا بلکہ اس کا الٹ رد عمل آئے گا اور ان پر سختی میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ اس صورتحال پر پارٹی کے ایسے رہنما زیادہ پریشان ہیں جو عمران خان کی رضامندی سے اب بھی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ غیر رسمی بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں اور اپنے کپتان کی رہائی کے لیے کوئی راستہ نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور اور پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر ماضی میں بھی عمران خان کے ایما پر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بیک چینل بات چیت کی کوشش کرہے ہیں اور اب بھی ان رابطوں کی نئی کوششیں کر رہے ہیں۔  تاہم ان لوگوں کو اعتراض ہے کہ اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کرتے ہوئے اسکے ساتھ بات چیت کرنے کی دوہری پالیسی کامیاب ثابت نہیں ہو گی۔ پارٹی قیادت کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈا پور اور بیرسٹر گوہر خان نے جیل میں بانی کیساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں انہیں قائل کرنے کی کوشش کی کہ سوشل میڈیا پر اسٹیبلشمنٹ کیخلاف لب و لہجہ نرم رکھا جائے؛ تاہم انہوں نے وعدے کے باوجود ایسا نہیں کیا۔

انصار عباسی کے مطابق پی ٹی آئی کے کئی رہنما فوج سے تصادم کی حکمت عملی سے متفق نہیں تاہم اس پالیسی میں تبدیلی لانے کے معاملے میں وہ بے بس نظر آتے ہیں۔ پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ہم فوجی قیادت پر مسلسل تنقید کرتے ہوئے اس سے کسی ریلیف کی امید نہیں رکھ سکتے۔ اسی لیے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے حال بھی عمران خان کی جانب سے خط موصول ہونے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر انہیں ایسا کوئی خط آیا بھی تو وہ اسے خود پڑھنے کے بجائے وزیر اعظم ہاوس بھیج دیں گے۔

سازشوں کے شہر اسلام آباد میں آج کل کون سی کھچڑی پک رہی ہے ؟

آرمی چیف کا یہ بیان تب آیا جب عمران خان نے آرمی چیف کو اپنا تیسرا کھلا خط لکھا تھا۔ یاد رہے کہ کچھ عرصہ پہلے پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈا پور اور بیرسٹر گوہر خان نے جنرل عاصم منیر سے ملاقات کی تھی جس سے ممکنہ سیاسی بات چیت کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔ تاہم، سرکاری اور سیکیورٹی ذرائع کا اصرار تھا کہ ملاقات غیر طے شدہ تھی اور اس میں صرف سیکورٹی امور پر بات ہوئی۔  عمران نے اس ملاقات کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات چیت کا آغاز سمجھا، تاہم بیرسٹر گوہر محتاط رہے اور میڈیا کو بتایا کہ صرف سکیورٹی امور پر بات ہوئی۔ کچھ میڈیا رپورٹس میں پی ٹی آئی کے نمائندوں اور اسٹیبلشمنٹ کی شخصیات کے درمیان فالو اپ میٹنگ کا اشارہ ملا تھا لیکن ایسی کسی بات چیت کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔ اس ملاقات کے بعد عمران نے ایک مرتبہ پھر ان دونوں رہنماؤں کو یہ ٹاسک دیا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کا دروازہ کھولا جائے، لیکن ان کی اپنی جارحانہ پالیسی کی وجہ سے ایسا ممکن نظر نہیں آتا۔

Back to top button