عمران کی عوامی مقبولیت میں کمی: PTI پنجاب سے فارغ ہونے لگی

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ عمران خان کی تحریک انصاف نے پے درپے تحریکیں، جلسے اور مارچ کر کے اپنی مقبولیت کو خود بے اثر کردیا ہے۔ سٹریٹ پاور اور ووٹرز پاور دو مختلف چیزیں ہوتی ہیں۔ عمران خان اور انکی جماعت کی ووٹرز پاور ایک حقیقت ہے مگر دوسری طرف تحریک کی سٹریٹ پاور کا نہ ہونا بھی اب ایک تلخ حقیقت ہے جسے ہم سب کو تسلیم کرنا ہو گا۔ یہ بھی تسلیم کیجئے کہ پورے پنجاب سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کیلئے پی ٹی آئی کا ایک بھی ووٹر یا سپورٹر نہیں نکلا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ تحریک انصاف کی اپنے ووٹرز پر گرفت بہت کمزور چکی ہے۔
سہیل وڑائچ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ میں تو دو برس سے مصالحت، مذاکرات اور صلح صفائی کیلئے دونوں فریقین کی منت سماجت کرتا رہا ہوں، لیکن کسی فریق کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ دونوں اطراف اپنی اپنی جھوٹی انا کے گھوڑوں پر سوار دوسروں کو کچلنا چاہتی تھیں۔ آج جو صورتحال بنی ہوئی ہے، وہ اسی احمقانہ جوش کا نتیجہ ہے۔ آج ریاست اپنے زخم سہلا رہی ہے جو اسکی ساکھ پر لگ گئے ہیں۔ تحریک انصاف اپنے زخموں پر پھاہے رکھ رہی ہے، یہ زخم پے درپے شکستوں کا نتیجہ ہیں۔
سہیل وڑائچ کے مطابق حکومت بھی تکلیف میں ہے کہ تحریک انصاف کی انتشاری سیاست اور اس کے معیشت پر منفی اثرات کی وجہ سے دور رس منصوبہ بندی نہیں ہو پا رہی۔ لیکن سب سے زیادہ مشکل میں عوام ہیں جن میں اس لڑائی کی وجہ سے نا امیدی بڑھ رہی ہے۔ عوام کو ابھی مستقبل کا کوئی راستہ سجھائی نہیں دے رہا۔ غرضیکہ اس لڑائی نے پاکستان کو پوائنٹ آف نو ریٹرن تک پہنچا دیا ہے۔ تحریک انصاف نے اپنے اسلام اباد مارچ کی ناکامی کے بعد فوجی اسٹیبلشمنٹ کی بجائے حکومت سے مذاکرات کی خواہش کا اظہار ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب پلوں کے نیچے سے بہت سارا پانی گزر چکا۔ اگر یہ کام پہلے کیا جاتا تو پی ٹی آئی کو ریلیف مل سکتی تھی، لیکن اب اس کا امکان بہت کم ہو گیا ہے۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ 8 فروری کے انتخابات کے بعد فوج دبائو میں تھی، کیونکہ اسے تحریک انصاف کی مقبولیت کا خوف تھا اور مصالحت نہ ہونے کی صورت میں اندیشہ تھا کہ اس کا تشکیل کردہ سیٹ اپ چل نہیں پائے گا۔ فیصلہ ساز تب عمران خان کو رہا کرکے نظر بند کرنے پر بھی تیار تھے۔ وہ دھاندلی کمیشن بنانے پر بھی تیار تھے۔ لیکن عمران خان کی احتجاجی سیاست کی ناکامی کے بعد اب صورتحال یکسر بدل چکی ہے۔ فوج کو اب تحریک انصاف سے کوئی خوف نہیں رہا۔ اسے تو اب یہ اندیشہ بھی نہیں رہا کہ یہ سیٹ اپ ذیادہ عرصہ چل نہیں پائے گا۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ فروری 2024 کے الیکشن تک فوج کے اندر پی ٹی آئی کے حامی موجود تھے۔ لیکن اب پوری فوج یکسو ہو کر عمران مخالف بیانیے کو ریاست کا بیانیہ سمجھتی رہی ہے، فوج کے طاقتور ترین لوگوں کا ایمان کی حد تک یقین ہے کہ عمران کسی کے اشارے پر ریاستی فوج کے خلاف اور اس کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے چنانچہ وہ اسے روکنے کیلئے آخری حد تک جانے کو تیار ہیں۔ دوسری جانب تحریک انصاف نے پے درپے تحریکیں، جلسے اور مارچ کرکے اپنی مقبولیت کو خود بے اثر کردیا ہے۔ سٹریٹ پاور اور چیز ہے اور ووٹ پاور اور چیز۔ تحریک انصاف کی ووٹ پاور ایک حقیقت ہے مگر دوسری طرف تحریک انصاف کی سٹریٹ پاور کا نہ ہونا بھی ایک تلخ حقیقت ہے پورے پنجاب سے لانگ مارچ کیلئے ایک بندے بشر کا بھی نہ نکلنا یہ ثابت کرتا ہے کہ تحریک انصاف کی اپنے ووٹرز پر گرفت بہت کمزور ہورہی ہے۔ ایسے میں اب فوج یک جان ہو چکی ہے، حکومت مخالف عدلیہ بے جان ہو چکی ہے، مقبولیت کی جان نکل چکی ہے، سوشل میڈیا بریگیڈ کی کی گالیاں بے اثر ہو چکی ہیں، پاکستان کی مالیاتی مشکلات کم ہو چکی ہیں اور ڈیفالٹ کا خطرہ بھی نہیں رہا۔ ہماری سٹاک مارکیٹ اوپر سے اوپر جا رہی ہے، شرح سود کم ہو رہی ہے، مہنگائی میں مجموعی طور پر کمی آئی ہے ۔ظاہر ہے ان علامات و واقعات سے فوج اور حکومت زیادہ مضبوط ہوئے ہیں،
دوسری جانب پی ٹی آئی اس وقت کمزور ترین پوزیشن پر ہے۔ اس کا بغیر شرط کے مذاکرات پر آمادہ ہونا بھی یہی ظاہر کرتا ہے کہ پی ٹی آئی سول نافرمانی تحریک کی طرف نہیں جانا چاہتی کیونکہ جیل سےباہر کی قیادت کو یقین ہے کہ ایسی تحریک کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں۔ فی الحال مذاکرات کی عدم سنجیدگی کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی نے سول نافرمانی کی کال دے رکھی ہے اور دوسری طرف حکومت نے کسی ایک قیدی تک کو رہا نہیں کیا۔ اگر مذاکرا ت سنجیدہ ہوتے تو تحریک انصاف سول نافرمانی کی کال واپس لیتی اور حکومت اعتماد سازی کیلئے کچھ نہ کچھ قیدی رہا کرتی۔ اس لئے فی الحال مذاکرات کی بات بنتی ہوئی نظر نہیں آتی۔
سہیل وڑائچ کے مطابق تحریک انصاف کے مخالفوں کو اب پتہ چل چکا ہے کہ یہ جماعت اب پنجاب سے بندے نکالنے کی پوزیشن میں نہیں رہی۔ تحریک انصاف جتنا بھی زور لگالے اس کے اپنے لوگ بھی بجلی، پانی یا گیس کے بل دینا بند نہیں کریں گے۔ ابھی ریاست نہ تو اس قدر کمزور ہوئی ہے کہ سول نافرمانی آسان ہو گئی ہو اور نہ تحریک انصاف اس قدر مضبوط ہے کہ لوگ پارٹی وفاداری کی بنیاد پر ریاست سے براہ راست متصادم ہو جائیں۔
سینیئر صحافی کا کہنا ہے کہ مذاکرات، مصالحت اور پھر حتمی طور پر قومی حکومت کی تجاویز میں سب سے بڑی رکاوٹ بے اعتباری ہے۔ حکومت کو آج بھی شک ہے کہ خان واقعی مذاکرات کے لیے خواہشمند ہیں یا نہیں؟حکومت کو بے یقینی ہے کہ مذاکرات کو عمران خان کسی بھی دن سبوتاژ کر سکتے ہیں، وہ مذاکراتی کمیٹی کو بھی چارج شیٹ کرسکتے ہیں۔ دوسری طرف تحریک انصاف کو بھی مکمل یقین نہیں ہے کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں اسے کوئی ریلیف ملے گا وہ تو چاہتی تھی کہ فوج سے براہ راست مذاکرات کرے مگر مقتدرہ کے مسلسل انکار سے تحریک انصاف کی مایوسی میں اضافہ ہو گیا ہے۔ تحریک انصاف کو اعتبار قائم کرنا ہوگا اور حکومت کو اسےاعتماد دینا ہو گا تبھی کچھ پیشرفت ممکن ہے وگرنہ نتیجہ صفر جمع صفر ہی نکلے گا…..
لیکن سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ حکومت کوئی بیوقوف تو نہیں جو اپنی سرپرست فوج کو چھوڑ کر یا ناراض کرکے تحریک انصاف سے کوئی معاہدہ کر لے۔ حکومت پہلے فوج سے مشورہ کرے گی اور پھر مذاکرات پر آمادہ ہوگی۔ حکومت کا فائدہ دراصل تحریک انصاف کا نقصان ہے اور تحریک انصاف کا فائدہ حکومت کا نقصان ہے، خصوصا جب تک فوج مائل بہ کرم نہیں ہوتی، اور مقبولیت کو قبولیت کا گرین سگنل نہیں ملتا، تحریک انصاف اور حکومت کے مابین بامعنی مذاکرات نہیں ہو سکتے۔
ٹرمپ کے مشیر کی تعیناتی پر عاشقان عمران کی شادمانی
سینیئر صحافی کہتے ہیں بامعنی مذاکرات تب ہونگے جب معقولیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تحریک انصاف فوج اور پارلیمان کے موجودہ سیٹ اپ کو تسلیم نہیں کرلیتی اور 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر حملوں کے واقعات پر معافی نہیں مانگتی۔ گو یا مذاکرات میں مقبولیت کارڈ نہیں بلکہ معقولیت کارڈ چلانا پڑے گا وگرنہ قبولیت کا گیٹ عبور نہیں ہو گا۔
