عمران کی احتجاجی کال PTI کے تابوت کا آخری کیل بن گئی

عمران خان کی جانب سے اپنی گرفتاری کے دو سال مکمل پر دی گئی احتجاجی کال کا جو حشر نشر ہوا ہے وہ نہ صرف شرمناک ہے بلکہ عبرت ناک بھی ہے، اس سے پہلے بانی پی ٹی آئی کی کسی احتجاجی کال کی اتنی مٹی پلید نہیں ہوئی تھی جتنی 5 اگست کو ہوئی، اس ناکام احتجاج نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ اب تحریک انصاف کی سٹریٹ پاور مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔
معروف لکھاری اور تجزیہ کار سینیٹر عرفان صدیقی روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں کہتے ہیں کہ پی۔ٹی۔آئی کے قائدین اور اڈیالہ جیل سے جاری ہونے والے آتشیں اعلانات کے مطابق ’ 5 اگست‘ کو اس احتجاجی تحریک کا آغاز ہونا تھا جسے ’’ہم نہیں یا تم نہیں‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔ لیکن افسوس کہ اس بار تحریک آغاز سے پہلے ہی انجام سے دوچار ہو گئی۔ کپتان کی جانب سے اِس طرح کی ’’فائنل کالز‘‘ پہلے بھی دی جاتی رہیں لیکن جس طرح اب اس کے پُرزے اُڑے ویسا منظر پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔
آخری معرکہ نومبر 2024 میں اسلام آباد کے جناح ایونیو پر لڑا گیا۔ مارگلہ کی پہاڑیوں سے اُتری سرد شام، رات کا آنچل اوڑھنے کو تھی کہ میلہ اجڑ گیا۔ انقلاب کے گنڈاپور نامی سالار، ایک سکیورٹی ایجنسی کے چھاتے تلے، گاڑی میں بیٹھ کر پشاور فرار ہو گئے اور ساتھ میں اپنے کپتان کی تیسری اہلیہ کو بھی لے اڑے۔ اسکے بعد فرار کی خفت مٹانے کے لیے ’’گولی کیوں چلائی‘‘؟ کا جھوٹا بیانیہ تخلیق کیا گیا۔ سینکڑوں لاشیں گرنے کا واویلا اٹھا۔
لیکن جب ان سینکڑوں لاشوں کے نام پتے پوچھے گئے تو بیانیہ سازی کے بادشاہ ایک دوسرے کا مُنہ دیکھنے لگے۔ تاثر دیاگیا کہ ’’پاکباز شہدا‘‘ کی ’’مقدس روحیں‘‘، آسمان کی رفعتوں کو پرواز کرتے ہوئے، اپنا اپنا جسدِ خاکی بھی ساتھ لے گئیں۔ یہاں تک کہ کسی سڑک پر ایک قطرۂِ خوں تک باقی نہ رہنے دیا۔ پی۔ٹی۔آئی کی عمر اَب تیس برس ہونے کو ہے۔ آغازِ سفر میں ہی ایک آمر کا حلقہ بگوش ہونے، لیلائے اقتدار کی تلاش میں برسوں دشت پیمائی کرنے، فوجی اسٹیبلشمنٹ سے فیض یاب ہونے، پونے چار برس اقتدارِ کُلِّی کی لذتیں سمیٹنے اور پھر یکایک مکافاتِ عمل کا شکار ہونے کے بعد بھی، عمران خان نہیں سمجھ پائے کہ سیاست کا خمیر کن اجزا سے اٹھتا ہے؟ جمہوری اقدار کے تقاضے کیا ہیں؟ افہام وتفہیم کسے کہتے ہیں؟ زمینی حقیقتوں کا شعور کس بلا کا نام ہے؟ اور اُفتاد آ پڑے تو گھنے جنگل سے راستہ کس طرح نکالا جاتا ہے؟
عرفان صدیقی کہتے ہیں کہ اپریل 2022ءسے آج تک پی۔ٹی۔آئی صحرا کا بگولہ بنی ہوئی ہے جس کا سبب صرف ایک ہی ہے یعنی عمران کی تلخ مزاجی۔ باقی ساری تحریکِ انصاف اِس بے چہرہ مدار کا بے سمت سیارہ بنی ہوئی ہے۔ اِن دنوں،9 مئی 2023 کے مقدمات کے فیصلے آنے شروع ہوگئے ہیں۔ سوا دو سال سے تعطل کا شکار اِن مقدمات کے فیصلوں کی نوبت 8 اپریل کو جاری کئے گئے سپریم کورٹ کے اس حکم نامے کے بعد آئی کہ چار ماہ کے اندر اندر 9 مئی کے مقدمات کو نبٹا دیا جائے۔ یہ میعاد بھی تین دِن بعد ختم ہوجانے کو ہے لیکن بہت سے مقدمات ابھی فیصلہ طلب پڑے ہیں۔ اب تک کے فیصلوں کے مطابق پی۔ٹی۔آئی کے درجنوں قائدین اور ارکان پارلیمنٹ کو سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔ سزا یافتگان میں سے کسی کا نام نوازشریف نہیں کہ اُسکا مقدمہ سپریم کورٹ سے شروع ہوکر سپریم کورٹ میں ہی ختم ہوجائے۔ نہ اپیل نہ وکیل نہ دلیل۔ شاید اُس کا جُرم، 9 مئی کی بغاوت وسرکشی سے زیادہ قبیح تھا کہ اُس نے اپنے بیٹے کی کمپنی کا ملازم ہوتے ہوئے اُس سے تنخواہ نہیں لی ۔ لیکن 9 مئی کے ملزمان کو سنائی جانیوالی سزائیں حرفِ آخر نہیں، یہ سلسلہ ابھی آگے بڑھے گا۔ اپیلیں ہائی کورٹس میں جائیں گی۔ ضرورت پڑی تو سپریم کورٹ تک پہنچیں گی۔ پھر بھی تسلی نہ ہوئی تو نظرثانی اپیلیں دائر ہوں گی۔
لیکن پی۔ٹی۔آئی نے اپنی روایتی ہُنرکاری سے کام لیتے ہوئے ’سزائوں‘ کو حکومتی جبر اور عدالتی ناانصافی تک محدود کردیا ہے۔ سو اخبارات اور ٹی۔وی چینلز پر بھی ساری بحث ’ظلم وناانصافی‘ کے اِسی بیانیے تک سمٹ کر رہ گئی ہے۔ کوئی پیچھے پلٹ کر یہ دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کر رہا کہ ہماری تقویم میں 9 مئی کا دِن بھی آیا تھا۔ وہ دِن جب دو سو پچاس سے زائد دفاعی تنصیبات پر منظم حملے ہوئے، جب ارضِ پاک کے تحفظ ودفاع کیلئے جانیں نچھاور کرنے والے شہدا کی یادگاریں تاراج کر دی گئیں، جب ہوائی اڈوں پر کھڑے پاک فضائیہ کے طیارے نذرِ آتش کر دیے گئے، کوئٹہ سے چکدرہ چھائونی تک ہونے والی یہ غارت گری کیا جائز تھی۔ کیا ایسے فسادیوں کو کسی باز پُرس، قانونی وعدالتی عمل اور سزا کے بغیر چھوڑ دیا جاتا؟ اگست 1947 سے اگست 2025 تک، 78 برس کے دوران بہت سی تحریکیں چلیں، سیاسی احتجاج ہوئے۔ بہت سے ہنگامے ہوئے۔ لیکن کوئی پاکستانی اپنے دِل پر ہاتھ رکھ کر، 9 مئی 2023 جیسی کسی غارت گری کی نشاندہی کرسکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔ اسلئے کہ 9 مئی تو کہاں، اِس سے دُور دُور کا رشتہ وتعلق رکھنے والا کوئی واقعہ بھی ’رونما‘ نہیں ہوا۔
عرفان صدیقی کے بقول ٹھوس شواہد نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ بغاوت بپا کرنے کی سازش تھی جس کا نشانہ آرمی چیف سید عاصم منیر تھے۔ سپہ سالار کا تختہ اُلٹ کر، اپنے ڈھب کے کسی وردی پوش کو اس مسند پر بٹھا کر، پھر سے حکومت پر قبضہ جمانا اور اسلام آباد کو 1857ءکی جنگ آزادی کے بعد کی دِلّی بنا دینا تھا جہاں ہر چوک پر صلیبیں گڑی ہوں اور پھندوں میں لٹکی سیاسی حریفوں کی لاشیں انقلابِ نو کی نوید دے رہی ہوں۔ منصوبہ یہ تھا کہ ایک ساتھ پاکستان کے طول وعرض میں بلوائیوں کا نشانہ بننے والی سینکڑوں فوجی تنصیبات سے آگ کے شعلے اٹھیں گے تو فوج مشتعل ہوکر گولی چلائے گی۔ سینکڑوں مردو زَن کے سینے چھلنی ہوجائیں گے۔ فوج کے اندر بڑے ریکٹرا سکیل کا زلزلہ آئے گا۔ بڑے بڑے بُرج زمین بوس ہوجائیں گے۔ لیکن فوج کی بالغ نظر قیادت نے بَروقت سازش کو بھانپ لیا۔ وہ باغیوں کے جال میں نہ پھنسی۔ لاشیں گریں، نہ سڑکوں پہ خون کی ندیاں بہیں نہ فوج کے کڑے نظم وضبط میں کوئی دراڑ ڈالی جاسکی۔ سازش بِن کھِلے مرجھا گئی۔ بغاوت بُری طرح ناکام ہوگئی۔
تاریخ یہ بتاتی ہے کہ بغاوت کامیاب ہوجائے تو اپنے اہداف مدمقابل اور مخالفین کو عبرت کا نشانہ بنادیتی ہے۔ ناکام ہوجائے تو خود بے رحمانہ عتاب وانتقام کا نشانہ بن کر نمونۂِ عبرت بن جاتی ہے۔ حالیہ تاریخ میں اس کی نظیر ترکی میں ملتی ہے جب جولائی 2016میں فتح اللہ گولن تحریک، فوج، پولیس اور بیوروکریسی کے کچھ عناصر اور انقلابی دانشوروں نے طیب اردوان کا تختہ اُلٹنے کی سازش کی۔ طیب اردوان کی اپیل پر عوام سڑکوں پر نکل آئے اور بغاوت ناکام ہوگئی۔ اس کے فوراً بعد باغیوں اور سازشیوں پر جو قیامت ٹوٹی، وہ عبرت کی ایک ہولناک کہانی ہے۔ لیکن پاکستان میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔ میری تاریخ میں 9 مئی 2023ء کا ایک سیاہ دِن آیا تھا۔ میں نے اُس دِن ٹی۔وی چینلز پر کچھ کرداروں کو متحرک بھی دیکھا تھا۔ کسی معصوم وبے گناہ کو سزا میرے لئے خوشی کا باعث نہیں لیکن میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ سوا دو برس سے کسی سرد خانے میں پڑی، 9 مئی کی لاش کو، لاوارث قرار دیکر کسی دُور افتادہ گورستان کے گوشۂِ گُم نام میں دفنا دیا جائے۔
