عمران کی احتجاجی تحریک شروع ہونے سے پہلے ہی ناکامی کا شکار

جیل میں قید عمران خان کی جانب سے بغیر کسی مشورے کے اپنی رہائی کے لیے حکومت مخالف احتجاجی تحریک شروع کرنے کے اعلان کے بعد تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نہ صرف کنفیوژن بلکہ پریشانی کا شکار ہو گئی ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ تحریک چلانے کے لیے ورکرز کو سڑکوں پر کیسے لایا جائے کیونکہ ماضی میں دی گئی چار احتجاجی کالز مکمل طور پر ناکامی کا شکار ہوئی ہیں۔
عمران خان نے علیمہ خان کے ذریعے احتجاجی کال دینے سے پہلے کسی اور سے مشورہ اس لیے نہیں کیا چونکہ ان کی باجی نے انہیں یقین دلا دیا ہے کہ اگر انکے بیٹے سلیمان خان اور قاسم خان پاکستان آ کر احتجاجی تحریک کی قیادت کرتے ہیں تو عوام کا سمندر سڑکوں پر امڈ آئے گا اور پھر انقلاب کا راستہ کوئی نہیں روک پائے گا۔ ایسا ہی ایک خواب بشری بی بی نے بھی خان صاحب کو دکھایا تھا جسکا اختتام اسلام آباد کے دھرنے سے جوتیاں اٹھا کر بھاگنے پر منتج ہوا تھا، یہی وہ دن تھا جب تحریک انصاف کی سٹریٹ پاور کا خاتمہ ہو گیا اور اس کے بعد سے کوئی احتجاجی کال کامیاب نہیں ہو پائی۔
عمران کی جانب سے اپنے بیٹوں کو حکومت مخالف احتجاجی تحریک کی قیادت کرانے کے اعلان نے پارٹی میں رخنے ڈال دیے ہیں حالانکہ اطلاعات یہی ہیں کہ سلمان اور قاسم کے پاکستان آنے کے امکانات ایک فیصد سے بھی کم ہیں۔ ان کی والدہ جمائمہ خان ایک ٹویٹ میں پاکستان آمد پر اپنے بیٹوں کی ممکنہ گرفتاری کے حکومتی عزائم بارے آگاہ کر چکی ہیں، لیکن اسکے باوجود پارٹی کے مرکزی قائدین کے خیال میں بشری بی بی اور علیمہ خان کے بعد سلیمان اور قاسم کو آگے لانے کی سوچ ظاہر کرتی ہے کہ عمران خان تحریک انصاف کو بھی ایک موروثی جماعت بنانے کا عزم کر چکے ہیں۔
علیمہ خان کی جانب سے تحریک انصاف کا مکمل کنٹرول حاصل کر لینے کے بعد پی ٹی آئی کے مرکزی قائدین پہلے ہی شناخت کے بحران کا شکار ہیں چونکہ نہ تو انہیں کوئی اہمیت دی جاتی ہے اور نہ ہی فیصلہ سازی میں مشورہ کیا جاتا ہے۔ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان سے لے کر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف عمر ایوب خان سب ڈمی ہو چکے ہیں۔ پارٹی کے سینیئر وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے حال ہی میں عمران خان کو ایک خط میں حکومت سے مذاکرات کا مشورہ دیا تھا، لیکن اسے تجویز کو سختی سے رد کرتے ہوئے خان صاحب نے احتجاجی تحریک شروع کرانے اور اپنے بیٹوں کو اسکی قیادت سونپنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ باسی کڑھی میں اُبال کی طرح تحریک انصاف نئے پوسٹر بوائز کے ساتھ احتجاجی سیاست کی طرف لوٹنے کہا سوچ تو رہی ہے لیکن اس مشن کی کامیابی ممکن نظر نہیں آتی۔ اس بار احتجاج کے لیے اگست کا مہینہ چُنا گیا ہے جس میں قیام پاکستان کا جشن منایا جاتا ہے۔ خان کو امید ہے کہ اس برس وہ بھی اپنی آزادی کا جشن منا پائیں گے۔ عمران خان کے اعلان کے بعد سے تحریک انصاف کی قیادت پر واضح نہیں ہے کہ اس مرتبہ وہ ڈی چوک جا کر احتجاج کریں گے یا سپریم کورٹ کے جنگلے پر قمیض شلواریں دھو دھو کر لٹکائیں گے، یہ بھی واضح نہیں کیا کہ ان کا رخ دوبارہ لاہور میں بانی پاکستان کی رہائشگاہ جناح ہاؤس کی جانب ہوگا یا جی ایچ کیو کی طرف مارچ کیا جائے گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اگر عمران خان کے بیٹے پاکستان آ جائیں تو انہیں ایک محفوظ مقام پر احتجاجی تحریک کی قیادت کرنے کے لیے خیبرپختونخوا میں جوشیلی تقاریر کرکے اپنا غصہ نکالنے کا موقع دیا جائے تاکہ ان کی گرفتاری کا امکان ہی نہ رہے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے نعرے کس کے خلاف لگائے جائیں گے یہ بات بھی نہیں بتائی گئی۔ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ تحریک انصاف حکومت کو خاطر میں لاتی ہی نہیں، یقیناً یہ احتجاج حکومت کے خلاف نہیں بلکہ فوجی قیادت کے خلاف ہو گا، کیونکہ اصل فیصلہ ساز سویلینز نہیں بلکہ عسکری قیادت ہے۔ خان کا جرم بھی یہی ہے کہ اس نے 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر حملوں کا منصوبہ تیار کیا جس کا مقصد بغاوت کروانا تھا۔ ایک اور سوال یہ بھی ہے کہ اگر عمران کے بیٹے واقعی پاکستان نہیں آتے تو پھر اس احتجاج کی قیادت کون کرے گا، یہ سوال جواب طلب اس لیے ہے کہ پی ٹی آئی میں قیادت کا بحران ہے، ہر شخص خود کو طرم خان سمجھتا ہے۔
تاہم تحریک انصاف والوں کا کہنا ہے کہ پارٹی میں قیادت کے بحران سے نمٹنے کے لیے ہی عمران خان نے اپنے بیٹوں کو تحریک کی قیادت سونپنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ لازمی پاکستان آئیں گے۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ برطانیہ میں پلے بڑھے دونوں جوان بیٹے ایک حالیہ انٹرویو میں تسلیم کر چکے ہیں کہ اب عمران کی رہائی کے لیے پاکستان میں کوئی موثر آواز باقی نہیں بچی، پارٹی کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وابستہ امیدیں ٹوٹ جانے کے بعد اب عالمی میڈیا کا فوکس بھی عمران خان سے ہٹ چکا ہے۔
ایسے میں سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کا ایک مرتبہ پھر احتجاج کا منصوبہ دوبارہ ناکامی سے دوچار ہوگا۔ اس بارے قیاس کرنا مشکل نہیں کہ اگر ایسا کوئی احتجاج ہوا بھی تو اس میں کتنے لوگ شریک ہوں گے۔ وجہ یہ ہےکہ واشنگٹن میں پی ٹی آئی کے حالیہ مظاہرے میں شریک افراد کی تعداد سے واضح ہے کہ امریکا میں بھی پارٹی کارکنوں کا جذبہ ماند پڑچکا۔ مسلم لیگ (ن) کی اتحادی حکومت کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ پی ٹی آئی اس عرصے میں کسی بھی عوامی ایشو پر بڑے احتجاج کی کال دینے میں ناکام رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے باہر نکالو کی تحریک نہ پہلے کامیاب ہوئی نہ اب کامیاب ہونے کا کوئی امکان ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ آرمی چیف سے فیلڈ مارشل بن جانے والے سید عاصم منیر کی غیرمعمولی منصوبہ بندی سے بھارت کے ساتھ حالیہ جنگ میں جس طرح ملکی دفاع مضبوط ہوا اور بھارت کو ناکوں چنے چبوائے گئے، بہتر یہ ہوتا کہ اگست کا مہینہ تاریخی جشن کے طورپر منایا جاتا نہ کہ تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج کی کال دی جاتی۔ عالمی منظرنامہ ویسے ہی بدلا ہوا ہے، پی ٹی آئی کو جس امریکا پر بھروسہ تھا وہ پتے بھی ہوا دے چکے ہیں۔ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ٹیمی بروس نے تو عمران خان سے متعلق امریکا کا سرکاری موقف دینے سے انکار کردیا ہے۔ جنہیں اس معاملے کی زیادہ فکر ستارہی ہو، انہیں وائٹ ہاؤس سے رجوع کرنے کا مشورہ دے دیا گیا ہے۔
صدر زرداری کو ہٹانے کی افواہیں کون سے سازشی اڑا رہے ہیں؟
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ شہباز حکومت کی تعریفوں کے پل باندھتے نظر آتے ہیں۔ جوابا شہباز حکومت پہلے ہی نوبیل کمیٹی کو خط لکھ چکی یے کہ مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے اور جنوب ایشیا میں قیام امن کے لیے غیرمعمولی اقدام پر صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام دیا جائے۔ تاہم دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے علاوہ اسرائیل وہ واحد ملک ہے جس نے صدر ٹرمپ کو نوبل امن انعام دینے کی سفارش کی ہو۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے حقیقت پسندانہ رویہ اپنایا جائے تو یہ وقت ہے کہ وہ ان مچانوں پر واپس لوٹ جائیں جہاں سے کبھی انہوں نے عمران خان کا چڑھتا سورج دیکھ کر اڑانیں بھری تھیں۔
