شیخ مجیب کو آئیڈیل سمجھنے والے عمران کی PTI مکتی باہنی کے راستے پر

 

 

 

شیخ مجیب کو اپنا آئیڈیل سمجھنے والے عمران خان کی پارٹی مکتی باہنی کے راستے پر گامزن دکھائی دیتی ہے۔ بیرون ملک عارف آجاکیا اور نسیم بلوچ جیسے ملک دشمن دہشتگرد عناصر کے ساتھ روابط، ریاست پاکستان کے خلاف بیانیہ سازی کی کوششیں اور سب سے بڑھ کر اندرون ملک رہائی فورس کے نام پر جتھوں کی تشکیل محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منصوبہ بندحکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتی ہیں تاکہ نفرت اور اضطراب کو ہتھیار بنا کر اپنی فورسز اور جتھوں کے ذریعے ریاست کے خلاف محاذ آرائی کی جا سکے مبصرین کے مطابق تحریک انصاف اپنی سیاسی جدوجہد کو محض احتجاج یا قانونی عمل تک محدود نہیں رکھنے کی بجائےطاقت اور خوف کے ذریعے اپنی مرضی تھوپنے کے لیے ایک متنازع راستہ اپناتی دکھائی دیتی ہے، ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی تحریک انصاف مکتی باہنی کی طرح اپنی ‘فورس’ کو سیاسی ہتھیار بنا کر ریاست کے خلاف استعمال کرنے جا رہی ہے؟ اور اگر ایسا ہے تو ریاست کب یکسو ہو کر اپنے تحفظ اور عوام کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے قدم اٹھائے گی؟

ناقدین کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ بیرونِ ملک، تحریک انصاف کی قیادت ایسے عناصر کے ساتھ مسلسل پیار کی پینگیں بڑھا رہی ہے جن کے پاکستان مخالف موقف واضح ہیں۔ عارف آجاکیا اور نسیم بلوچ جیسے افراد نہ صرف پاکستان کے خلاف بیانیہ سازی کرتے دکھائی دیتے ہیں بلکہ اس کی عسکری اور سیاسی حیثیت کو بھی نشانہ بنانے کا کوئی موقع ضائع کرتے نظر نہیں آتے۔ بلوچستان نیشنل موومنٹ سے وابستہ نسیم بلوچ کا ملک میں ہونے والے کئی دہشتگرد حملوں میں تعلق بھی سامنے آ چکا ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان ایسے ریاست دشمن عناصر کے ساتھ کیوں بیٹھے؟ اس فیصلے میں کس حد تک علم اور منصوبہ بندی شامل تھی؟

 

مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی کے معاملات بارے پاکستان میں بھی صورتحال کم پریشان کن نہیں۔ عمران خان کی رہائی کے لیے ‘ٹائیگر فورس’ کی تنظیمنو اور ریکروٹمنٹ جاری ہے، جس کے تحت نہ صرف ملک کی بجائے پارٹی سے وفاداری کے حلف اٹھائے جا رہے ہیں بلکہ ان جتھوں کو مخصوص اہداف کے لیے تربیت بھی دی جا رہی ہے۔ تاہم یہاں سوال یہ ہے کہ یہ رہائی فورس حقیقت میں کس مقصد کے لیے بنائی جا رہی ہے؟ کیا یہ سیاسی احتجاج کی بجائے ریاستی طاقت کے خلاف ایک متنازع ہتھیار ثابت ہوگی؟ مبصرین کے مطابق، تحریک انصاف نے نفرت کو اپنی سب سے بڑی قوت بنا لیا ہے، اور عوامی جذبات کو تحریک دینے کے لیے تخریب اور اضطراب کو حکمت عملی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

PTI کی اندرونی جنگ سے سہیل آفریدی کی کرسی خطرے میں

ناقدین کے بقول پی ٹی آئی کا معیشت کے میدان میں بھی ریاست دشمنی کا رجحان واضح ہے۔ تحریک انصاف نے پاکستان کے معاشی مسائل کو بھی سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے، جس میں آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات میں رکاوٹیں ڈالنا، مالیاتی رقوم کی ترسیل کو روکنا اور بیرونِ ملک پاکستانی رقوم پر اثر ڈالنا شامل ہے۔ اس سب کے نتیجے میں ریاست کے فیصلے پیچیدہ اور عوامی ردعمل شدید ہو سکتے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ان تمام عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئےسوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر تحریک انصاف کی منزل کیا ہے؟ کیا یہ پارٹی اپنی سیاسی جدوجہد کو محض قانونی یا احتجاجی طریقوں تک محدود رکھے گی یا نفرت اور خوف کی بنیاد پر ریاست کے خلاف ایک مؤثر فورس کو فعال کرنے جا رہی ہے؟ اور سب سے اہم یہ کہ، ریاست کب اس صورتِ حال کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے شہریوں اور اپنے اداروں کے تحفظ کے لیے یکسو ہو گی؟ مبصرین کے مطابق، تحریک انصاف ایک خطرناک راستے پر چل رہی ہے، جہاں ملک دشمن داخلی و خارجی عناصر کے ساتھ تعلقات، سیاسی نفرت کی بنیاد پر فورسز کی تنظیم، اور معیشت میں مداخلت جیسے اقدامات ملک کی سالمیت اور عوام کی سلامتی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔

 

Back to top button