عمران کے بیٹے نےپاکستان مخالف عناصرسےمدد مانگ لی

سابق وزیر اعظم عمران خان کے بییٹوں نے سیاسی مفادات کے حصول کیلئے ملک دشمن عناصر سے روابط بڑھانے شروع کر دئیے ہیں جس نے اندرونی اختلافات کا شکار پی ٹی آئی کو ایک بار پھر دفاعی پوزیشن پر لاکھڑا کیا ہے،ناقدین کے مطابق قاسم خان کا جنیوا میں بلوچ نیشنل موومنٹ کے رہنما نسیم بلوچ کے ہمراہ خطاب اور دیگر متنازع شخصیات سے تعلقات واضح کرتے ہیں کہ وہ اپنے ذاتی یا سیاسی ایجنڈے کو ملک کے مفاد پر ترجیح دے رہے ہیں اور اپنے سیاسی مفادات کے حصول کیلئے گدھے کو بھی باپ بنانے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ ناقدین کے مطابق یہ رویہ نہ صرف پارٹی کے اندرونی استحکام کو کمزور کر رہا ہے بلکہ پاکستان کی عالمی ساکھ، سفارتی مفادات اور قومی مفاد پر بھی براہِ راست دھچکا پہنچا سکتا ہے۔ ایسے اقدامات سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ بعض پی ٹی آئی حلقے ذاتی مفادات کے لیے ملک کی سلامتی اور وقار کو خطرے میں ڈالنے سے گریز نہیں کرتے۔

خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے سائیڈ ایونٹ میں بلوچ نیشنل موومنٹ (بی این ایم) کے رہنما نسیم بلوچ کے ساتھ نہ صرف مشترکہ خطاب کیا بلکہ مختلف موضوعات پر ان کی کھلے عام تائید بھی کی۔ سوشل میڈیا پر منظرعام پر آنے والی ویڈیوز اور معلومات کے مطابق، قاسم خان نے اس ایونٹ میں پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پر سخت تنقید کی اور اپنے والد کی قید کو مرکزی بحث کا موضوع بنایا۔ یہ پیشرفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب قاسم خان کی متنازع شخصیات سے ملاقاتیں پہلے بھی خبروں میں رہ چکی ہیں، خصوصاً ماضی قریب میں ان کی عارف آجاکیا سے ملاقات کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ناقدین کے مطابق یہ ملاقاتیں اور جنیوا میں حالیہ خطاب محض اتفاق نہیں بلکہ ایک تسلسل کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ قاسم خان اپنے ذاتی اور سیاسی ایجنڈے کے لیے کھلے عام پاکستان مخالف حلقوں کے ساتھ روابط بڑھا رہے ہیں۔ ناقدین کے بقول  سابق بھارتی ایجنٹ اور متنازع شخصیت عارف آجاکیا سے ملاقات سمیت دیگر سرگرمیاں یہ واضح کرتی ہیں کہ عمران خان کے بیٹے بعض حلقوں کے ذریعے پاکستان کے خلاف بیانیہ کو بڑھاوا دینے میں شریک ہیں۔

مبصرین کے مطابق، ایک سابق وزیر اعظم کے بیٹے کا ایسے عناصر کے ساتھ بین الاقوامی فورمز پر بیٹھنا اور ملک کے خلاف مؤقف اختیار کرنا محض ذاتی سیاسی آزادی نہیں بلکہ ایک سفارتی اور معاشی خطرے کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس پر سخت ردعمل آ رہا ہے، جہاں کچھ صارفین اسے “پاکستان مخالف لابنگ” قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما سینیٹر عابد شیر علی نے بھی الزام عائد کیا ہے کہ قاسم خان کی پاکستان دشمنوں سے ملاقاتیں اور ایونٹ میں شرکت بھارت کے ایجنٹس اور پاکستان مخالف عناصر کے زیر اثر ہیں۔ایسے لوگ نوجوانوں کے ذہنوں کو متاثر کر کے ملک کے داخلی استحکام اور قومی بیانیے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ زلفی بخاری نے اس ملاقات میں سہولت فراہم کی جبکہ ایونٹ کا آرگنائزر اور بھارتی ایجنٹ عارف ماضی میں پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے اور گلگت بلتستان کو بھارت کا حصہ بنانے کے بیانیے کو فروغ دیتا ہے، جبکہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں انتشار پھیلانے کی سازشیں بھی کرتا رہتا ہے۔

بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں جاری سیاسی حساسیت کے پیش نظرقاسم خان اور نسیم بلوچ کی ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر موجودگی ناقدین کے لیے تشویش کا سبب بن رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس نوعیت کی سرگرمیاں نہ صرف پاکستان کے داخلی سیاسی ماحول کو متاثر کر سکتی ہیں بلکہ ملک کی بین الاقوامی ساکھ اور مفادات پر بھی اثر ڈال سکتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان کو معاشی اور سفارتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ناقدین کے بقول قاسم خان کی ملک دشمن عناصر سے ملاقاتوں کے حوالے سے یہ کہنا بجا ہوگا کہ اگر پاکستان کے قومی مفادات اور بین الاقوامی ساکھ کو مقدم رکھا جائے تو ایسے رویے ناقابل قبول ہیں۔ ایک سابق وزیر اعظم کے بیٹوں کی غیر ملکی عناصر سے ملاقاتیں اور پاکستان کے خلاف بیانیہ میں شریک ہونا نہ صرف سیاسی بے احتیاطی ہے بلکہ یہ ملک کے لیے سیکورٹی اور سفارتی لحاظ سے خطرہ بھی پیدا کر سکتی ہیں۔ مبصرین کے مطابق مجموعی طور پر یہ منظرنامہ ظاہر کرتا ہے کہ عمران خان کے بیٹوں کی بین الاقوامی سرگرمیاں اور ان کے سیاسی روابط پاکستانی مفاد کے لیے خطرے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اگر مستقبل میں ایسے اقدامات کی روک تھام نہ کی گئی تو یہ نہ صرف داخلی سیاسی استحکام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں بلکہ پاکستان کے لئے عالمی سطح پر بھی ایک چیلنج بن سکتے ہیں۔

Back to top button