عراق میں 100نومولود بچوں کانام ‘نصراللہ’ رکھ دیا گیا

عراق میں حسن نصراللہ کی شہادت کےبعدملک بھرمیں تقریباً100نومولودبچوں کا’نصراللہ’رجسٹرڈ ہواہے۔
لبنان کےشہربیروت میں اسرائیلی فضائی حملےمیں حزب اللہ کےسربراہ حسن نصر اللہ کی شہادت کےبعدعراق میں ان کےاعزازمیں نومولود بچوں کےنام رکھنے کی تعداد میں اضافہ ہوگیاہے۔
27ستمبر کو لبنان کےدارالحکومت بیروت میں ہونےوالےاسرائیلی حملےمیں حزب اللہ کےسربراہ حسن نصراللہ شہیدہوگئےتھے۔
حسن نصراللہ تین دہائیوں سےزیادہ عرصےتک حزب اللہ کےسربراہ تھے،وہ اسرائیلی اور مغربی اثر و رسوخ کےخلاف مزاحمت کی علامت کےطورپرجانےجاتےتھے۔عراق میں بھی ان کے کافی پیروکار تھے۔
یہی وجہ ہےکہ ان کی شہادت کےبعد عراق کےدارالحکومت بغداد اور دیگر شہروں میں بڑےپیمانےپرمظاہرے شروع ہوئے۔مظاہرین نےاسرائیل کے اقدامات کی مذمت کی اور اسےبین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔
حسن نصراللہ کی شہادت کےبعدعراق میں کئی نومولودبچوں کانام حزب اللہ کے سربراہ کےاعزاز میں نصراللہ رکھ دیا گیا۔
حسن نصراللہ اپنےپیشرو عباس الموسوی کےاسرائیلی گن شپ ہیلی کاپٹر سے قتل کے بعد 1992 میں صرف32سال کی عمر میں حزب اللہ کےسیکرٹری جنرل منتخب ہوئے تھے۔انہوں نےعراق کےشہرنجف میں تین سال تک سیاست اورقرآن کی تعلیم حاصل کی، یہیں ان کی ملاقات لبنانی امل ملیشیا کےرہنماسیدعباس موسوی سےہوئی۔1978 میں حسن نصراللہ کوعراق سےبےدخل کردیا گیا۔
لبنان کےخانہ جنگی کی لپیٹ میں آنےکےبعدحسن نصراللہ نےامل تحریک میں شمولیت اختیار کر لی۔انھیں وادی بقاع میں امل ملیشیا کاسیاسی نمائندہ مقرر کیا گیا۔
اسرائیلی فوج کے1982 میں بیروت پر حملےکےبعد حسن نصراللہ، امل سے علیحدہ ہوکرحزب اللہ میں شامل ہوئے۔
اسرائیلی جنگی طیاروں کا بیروت پرحملہ،9افراد جاں بحق
حسن نصراللہ کی قیادت میں حزب اللہ اسرائیل کی ایک اہم مخالف تنظیم کے طورپرابھری، حسن نصر اللہ کا اصرارہےکہ اسرائیل بدستورایک حقیقی خطرہ ہے۔
