خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں ہنگامہ آرائی،تلخ جملوں کا تبادلہ

پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں ہنگامہ آرائی کےباعث آئینی ترامیم بارےفیصلہ نہ ہوسکا۔ارکان میں تلخ جملوں کاتبادلہ بھی ہوا۔

حکومتی ذرائع کےمطابق سیدخورشید شاہ کی زیرصدارت خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہواجس میں وفاقی وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ،رانا تنویرحسین،سینیٹر عرفان صدیقی،پی پی رہنماسید نویدقمر،شیری رحمان ،راجہ پرویزاشرف ،علامہ ناصر عباس ،ایمل ولی خان ،خالد مگسی، اعجازالحق،کامل علی آغااور اپوزیشن لیڈر عمر ایوب شریک ہوئے۔

پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر،سربراہ سنی اتحاد کونسل حامد رضا اوراسد قیصر نے آن لائن اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کےدوران تمام جماعتوں کی جانب سے اپنے ڈرافٹ کمیٹی میں پیش کیےگئے۔

پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی میں تلخ جملوں کاتبادلہ

ذرائع کےمطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی اورپی ٹی آئی ارکان کےدرمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اورپی ٹی آئی ارکان نےتمام آئینی مسودوں پرمزید مشاورت کی تجویزدی جس پر راجہ پرویزاشرف نے کہا کہ ایسا اب نہیں ہوسکتا۔ہم نے پہلے ہی بہت تاخیر کر دی ہے۔اب ہم سب کو سنجیدگی دیکھاناہوگی مزید تاخیر بلا جواز ہے، تمام سیاسی جماعتوں کےمجوزہ مسودےآ گئےہیں۔یہ ترمیم کسی فردواحد یا کسی مخصوص جماعت کیلئےنہیں24کروڑعوام کیلئے ہے۔

پاکستان اور چین کےدرمیان مختلف شعبہ جات میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط

بعدازاں، کمیٹی نے مجوزہ مسودوں پر مزید مشاورت کےلیےوقت دینےکی تجویز مسترد کرتےہوئے تمام سیاسی جماعتوں کےمسودوں کا جائزہ لینا شروع کیا۔

اےاین پی نےاپناڈرافٹ شیئرکردیا

 اےاین پی کی جانب سے بھی آئینی ترامیم پرمجوزہ ڈرافٹ شیئر کیا گیا جس میں خیبر پختونخوا کےنام کی تبدیلی کی تجویزپیش کی گئی جس کےمطابق صوبہ خیبرپختونخوا سے’’ خیبر “نکالا جائے۔

مجوزہ ڈرافٹ کے مطابق قدرتی گیس اور معدنی تیل کے انتظامی امور ، ریگولیشن کا معاملہ وفاق اور صوبوں کو مساوی دیا جائے۔چیف جسٹس کی 3 سال کی میعاد آئینی خلاف ورزی ہے جو کہ قابل قبول نہیں، ہائیکورٹس کے برعکس ، سپریم کورٹ تمام ہائیکورٹس کےمقدمات کا بوجھ اٹھاتی ہے، اس لیے ایک وفاقی آئینی عدالت کا قیام جائز ہے۔

ڈرافٹ کے مطابق آئین میں سپریم کورٹ اور ایف سی سی دائرہ اختیار کی واضح شکلیں فراہم کرنے کی ضرورت ہے، کمیشن کی تشکیل کسی حد تک متوازن ہے۔

عمر ایوب اور ایمل ولی بھی لڑپڑے

اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور اے این پی کےسربراہ ایمل ولی میں بھی تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، ایمل ولی کا کہنا تھا کہ بیرسٹر گوہر کے علاوہ پی ٹی آئی کےسب ارکان وقت ضائع کر رہے ہیں۔

ایمل ولی کے ریمارکس پر عمر ایوب کی جانب سے شدیدردعمل کا اظہارکیا گیا اور انہوں نےکہا کہ اس بات کاکیا مطلب ہے؟آپ کون ہوتے ہیں یہ کہنےوالے؟جس پر ایمل ولی نےکہا کہ میں چیئر سے بات کر رہا ہوں،آپ بھی چیئرکومخاطب کریں۔عمر ایوب نےمکالمہ کیا کہ میں تو کبھی آپ سےبات ہی نہیں کرنا چاہتا، کون بات کر رہا ہے۔

ہنگامہ آرائی کےباعث خصوصی کمیٹی کااجلاس بےنتیجہ ختم ہوگیا جس کے بعد 8 واں ان کیمرہ اجلاس17 اکتوبرکوبلانے کا فیصلہ کیا گیا۔

Back to top button