پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ عوام پر کلسٹر بم کا حملہ قرار

 

 

 

پاکستانی عوام نے وفاقی حکومت کی جانب سے ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کو کلسٹر بم سے بھی بڑا معاشی حملہ قرار دیتے ہوئے سختی کے ساتھ مسترد کر دیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف ناقابلِ برداشت ہے بلکہ اس کے نتیجے میں روزمرہ استعمال کی ہر شے کی قیمت دو سے تین گنا تک بڑھنے کا خدشہ ہے، جس کے بعد عام آدمی کے لیے باعزت زندگی گزارنا تقریباً ناممکن ہو جائے گا۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یہ اضافہ فوری طور پر واپس لے ورنہ اسے شدید عوامی احتجاج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 

وفاقی حکومت نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کو جواز بناتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کیا ہے۔ جمعرات کی شب وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 137 روپے 23 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے 49 پیسے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہو چکا ہے۔ اس اضافے کے بعد پیٹرول کی قیمت 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر تک جا پہنچی ہے، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطحوں میں شمار کی جا رہی ہے۔

 

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربہ اضافے کے خلاف عوامی ردعمل شدید تر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف، جو گزشتہ تین ہفتوں سے مسلسل یہ دعویٰ کر رہے تھے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا، انہوں نے ایک ہی جھٹکے میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا۔ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ ایک ماہ کے دوران یہ دوسری مرتبہ اضافہ کیا گیا ہے۔ اس سے قبل 4 مارچ کو بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55، 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا۔ یوں ایک ماہ میں پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 192 روپے 23 پیسے یعنی (77 فیصد) جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 239 روپے 49 پیسے یعنی (87 فیصد) اضافہ ہو چکا ہے۔

 

حکومتی مؤقف کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل و گیس کی ترسیل شدید متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ ملک کے پاس وسائل محدود ہیں اور جنگ کے خاتمے کے آثار فی الحال نظر نہیں آ رہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تیل کی ترسیل بڑی حد تک آبنائے ہرمز سے جڑی ہوئی ہے جبکہ دیگر ممالک میں بھی توانائی ایمرجنسی نافذ کی جا چکی ہے۔ وزیر خزانہ اورنگزیب نے بھی محدود وسائل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ایک حد تک ہی عوام کو ریلیف دے سکتی ہے اور تمام فیصلے اعلیٰ قیادت کی منظوری سے کیے جا رہے ہیں۔ تاہم انہوں نے کمزور طبقوں کے لیے محدود سبسڈی پیکج کا اعلان کیا، جس کے تحت موٹرسائیکل سواروں کو ماہانہ 20 لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر سبسڈی، انٹرسٹی پبلک ٹرانسپورٹ اور بسوں کے لیے مالی معاونت، ٹرکنگ سیکٹر کے لیے سبسڈی اور ریلوے کے کرایوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے حکومتی مدد شامل ہے۔

 

دوسری جانب عوامی حلقے اس سبسڈی کو ناکافی قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اتنے بڑے اضافے کے مقابلے میں یہ اقدامات اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کی نئی لہر نہ صرف اشیائے خورد و نوش بلکہ ٹرانسپورٹ، بجلی اور دیگر بنیادی ضروریات کو بھی شدید متاثر کرے گی۔

عمران خان پر اقتدار کے دروازے ہمیشہ کیلئے بند کیوں؟

سوشل میڈیا پر بھی حکومتی فیصلے کے خلاف شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ صارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر پاکستان کو آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل جاری ہے تو پھر قیمتوں میں اتنا بڑا اضافہ کیوں کیا گیا۔ کئی صارفین نے اسے حکومت کی ناقص حکمت عملی قرار دیا جبکہ بعض نے اسے عوام پر معاشی بوجھ ڈالنے کا ظالمانہ اقدام کہا۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران اربوں روپے کا مالی بوجھ برداشت کر کے عوام کو ریلیف دیتی رہی ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اچانک اور غیر معمولی اضافہ اس دعوے کی نفی کرتا ہے۔ معاشی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر قیمتوں میں یہ رجحان برقرار رہا تو مہنگائی کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے پہلے ہی مشکلات کا شکار عوام کے لیے حالات مزید سنگین ہو جائیں گے۔ اس وقت خیبر سے کراچی تک عوامی مطالبہ واضح ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ فوری طور پر واپس لیا جائے ورنہ ملک بھر میں شدید احتجاج شروع ہو سکتا ہے۔

Back to top button