بلوچستان کے حملوں میں انڈیا اور افغانستان نے معاونت کی

معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات ایک طویل اور منظم جنگ کا تسلسل ہیں جو ہمارے دشمن ہمسایہ ممالک یعنی انڈیا اور افغانستان کی جانب سے پاکستان پر برسوں سے مسلط کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پہلی بار نہیں کہ دہشتگردوں نے ناپاک عزائم کے ساتھ اس سرزمین کو نشانہ بنایا ہو اور نہ ہی یہ پہلا موقع ہے کہ بلوچستان میں نہتے شہریوں کا خون بہایا گیا ہو۔ لیکن اللہ کا شکر ہے کہ اب تک دشمن کے ناپاک عزائم ناکام ہی رہے ہیں۔
عمار مسعود اپنے تازہ تجزیے میں کہتے ہیں کہ یہ بھی کوئی انوکھی بات نہیں کہ دہشت گرد افغانستان سے تربیت لے کر آئے اور انہیں بھارتی معاونت حاصل تھی۔ ان کے بقول اسی طرح سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کی قربانیاں، شہداء کے جنازے اور دشمن کے عزائم کو ناکام بنانا بھی پاکستان کی تلخ مگر روشن تاریخ کا حصہ ہے۔ انکے مطابق ہر بار قوم یہ سمجھنے لگتی ہے کہ دہشت گردی کا خاتمہ ہو چکا ہے، مگر بدقسمتی سے جیسے ہی امن اور خوشحالی کی امید جنم لیتی ہے، کوئی نیا سانحہ سر اٹھا لیتا ہے اور ملک ایک بار پھر آزمائش میں ڈال دیا جاتا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف اس طویل جنگ میں پاکستان نے 80 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دی ہے۔ کتنے ہی گھر اجڑ گئے، کتنی ماؤں نے جوان بیٹوں کے جنازے اٹھائے اور کتنے بچے یتیم ہوئے، یہ سب قومی حافظے کا حصہ بن چکا ہے۔ بم دھماکے، خودکش حملے اور دہشت گردی کی کارروائیاں ماضی کا قصہ نہیں بلکہ حال کا تلخ سچ ہیں، جبکہ اس کیفیت سے نجات کی خواہش ہر پاکستانی کے دل میں زندہ ہے۔
عمار مسعود کے مطابق بلوچستان محض ایک جغرافیائی اکائی نہیں بلکہ آدھا پاکستان اور مستقبل کی معاشی شہ رگ ہے۔ یہ بہادر اور غیرت مند لوگوں کی سرزمین ہے، جس کے وسائل اور گوادر جیسا خزانہ اسے عالمی سطح پر غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں۔ یہی اہمیت دشمن کی دیرینہ نظر کا سبب بنی ہے، جہاں اختلافات کو ہوا دینے، نفرت پھیلانے اور عوام کو تقسیم کرنے والے عناصر مسلسل سرگرم ہیں۔ اس مقصد کے لیے مختلف نعروں اور ایشوز کا سہارا لیا جاتا ہے۔ کہیں بلوچ عوام کے حقوق کی بات کی جاتی ہے، کہیں مسنگ پرسنز کا معاملہ اچھالا جاتا ہے، کہیں فرقہ واریت اور کہیں لسانیت کو ہوا دی جاتی ہے، جبکہ پسِ پردہ بیرونی مفادات کارفرما ہوتے ہیں۔
عمار مسعود کے بقول 31 جنوری کو ایک ہی وقت میں بلوچستان کے 12 شہروں میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں بھی یہی منظر سامنے آیا۔ دہشت گرد زرغون روڈ اور سریاب روڈ تک پہنچے، قتل و غارت کی، بینکوں کو نشانہ بنایا اور جوابی آپریشن شروع ہونے پر فرار ہو گے۔ تحقیقاتی ایجنسیوں کے مطابق حملہ آور جدید اسلحے اور مکمل دہشت گردی کی تربیت سے لیس تھے، بشیر زیب کی قیادت میں حملہ کرنے والوں میں خواتین بھی شامل تھیں اور ان کا اصل ہدف بلوچستان کے نہتے شہری، مزدور، خواتین اور بچے تھے۔ جیسے ہی یہ حملے ہوئے، انڈین میڈیا متحرک ہو گیا اور دہشت گرد حملوں پر جشن منانا شروع کر دیا۔ فیک نیوز کو فروغ دیا گیا اور حملہ آوروں کو ہمدرد بنا کر پیش کیا گیا۔
بلوچستان پر بڑے حملے کرنے والا BLA چیف بشیر زیب کون ہے؟
عمار مسعود کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا، ریاست کو کمزور دکھانا اور عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا، تاہم یہ منصوبہ ایک بار پھر ناکام بنا دیا گیا۔
ان کے بقول سیکیورٹی فورسز نے بروقت اور فیصلہ کن کارروائی کرتے ہوئے شام تک کلین اپ آپریشن مکمل کر لیا اور دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا۔ عمار مسعود کے مطابق ایسے میں قوم پر لازم ہے کہ وہ ان جوانوں کے حوصلے اور قربانیوں کو سلام پیش کرے، کیونکہ یہی اس ملک کے اصل محافظ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی جوانوں سے ملنے پہنچے تو وہ آبدیدہ ہو گئے۔ ان کے نزدیک یہ آنسو غم کے نہیں بلکہ فخر، تشکر اور قومی وقار کی علامت تھے۔ عمار مسعود کے بقول یہ مناظر اس بات کا ثبوت تھے کہ صرف ایک فرد نہیں بلکہ پوری قوم اپنے محافظوں کی قربانیوں پر سرخرو اور ممنون ہے۔
