انڈیا اور UAE دفاعی معاہدہ: پاک سعودی معاہدے کا جواب؟

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے دفاعی شراکت داری کے معاہدے کے ردعمل میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ اسی نوعیت کا ایک دفاعی شراکت داری کا معاہدہ کر لیا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی شراکت داری کا یہ معاہدہ مئی 2025 میں ہونے والی پاک بھارت جنگ کے چند ہفتوں بعد سامنے آیا تھا، جسے بھارت میں نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی سطح پر بھی تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا تھا۔ نئی دہلی کے اس فیصلے کو خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صف بندیوں اور طاقت کے توازن میں پیچھے رہنے سے بچنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ اگلے روز روز جب متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کا طیارہ دہلی کے پالم ایئرپورٹ پر اترا تو وزیراعظم نریندر مودی خود ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔ اگرچہ اماراتی صدر کا یہ دورہ محض ساڑھے تین گھنٹوں پر محیط تھا، تاہم اس مختصر دورے کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے نے پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور عرب دنیا کے میڈیا میں وسیع بحث چھیڑ دی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اس دورے کی پیشگی تفصیلات حتیٰ کہ مقامی صحافیوں کے ساتھ بھی شیئر نہیں کی گئی تھیں۔ بھارت کے سابق سفیر برائے متحدہ عرب امارات اور ایران، کے سی سنگھ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ ’دورے کے بارے میں پیشگی اطلاع نہ ہونا اس بات کی علامت ہے کہ خلیج اور مغربی ایشیا میں جغرافیائی سیاسی حالات معمول کے مطابق نہیں رہے اور تیزی سے تبدیلی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔‘ اس غیر معمولی دورے کے دوران بھارت اور امارات کے درمیان کئی معاہدوں پر دستخط کیے گئے، جن میں سب سے زیادہ توجہ سٹریٹجک دفاعی شراکت داری کے لیے ’لیٹر آف انٹینٹ‘ پر مرکوز رہی۔ یہ دفاعی شراکت داری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ برس ستمبر میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، جس نے خطے میں طاقت کے توازن سے متعلق نئی بحث کو جنم دیا۔
مشرقِ وسطیٰ کے تجزیاتی پلیٹ فارم ’مڈل ایسٹ آئی‘ کے مطابق ’ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امارات، جوہری طاقت کے حامل بھارت کے ساتھ شراکت داری اس لیے کر رہا ہے تاکہ سعودی عرب کے ایٹمی طاقت پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے کے بعد خطے میں توازن قائم کیا جا سکے۔‘ یہی سوال عرب دنیا میں بھی موضوعِ بحث بن گیا ہے کہ آیا امارات اور بھارت کے درمیان دفاعی معاہدہ دراصل پاکستان، سعودی عرب اور ممکنہ طور پر ترکی پر مشتمل ابھرتے ہوئے اتحاد کا جواب ہے۔ یہ بحث ایک ایسے وقت میں شدت اختیار کر گئی ہے جب سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے تعلقات میں غیر معمولی قربت دیکھی جا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب یمن کی صورتحال اور دیگر علاقائی معاملات پر ریاض اور ابوظہبی کے تعلقات میں تناؤ بھی سامنے آیا ہے۔
خلیجی میڈیا نے اس حوالے سے سوال اٹھایا ہے کہ آیا اسرائیل بھی مستقبل میں امارات اور بھارت کے اس دفاعی تعاون کا حصہ بن سکتا ہے تاکہ اس ’سعودی محور‘ کا مقابلہ کیا جا سکے جس میں پاکستان اور ترکی شامل ہیں۔ اسی تناظر میں معروف مصری صحافی جمال سلطان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی میڈیا میں بھی اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ سعودی عرب سے تعلقات معمول پر نہ آ سکنے کی صورت میں اسرائیل کو بھارت کے ساتھ دفاعی اور اقتصادی شراکت داری کو مزید وسعت دینی چاہیے۔
سعودی صحافی سلیمان العقیلی کے مطابق ابوظہبی ایک ایسی حکمتِ عملی اپنائے ہوئے ہے جس کا مقصد عرب دنیا میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانا اور خطے کے بڑے مراکز، خصوصاً سعودی عرب اور مصر، پر جغرافیائی اور سٹریٹجک دباؤ برقرار رکھنا ہے۔ تیونس کے جریدے ’میم‘ نے بھی بین الاقوامی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل، بھارت اور امارات پر مشتمل ایک نیا محور ابھر رہا ہے جو سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے اتحاد کے مقابلے میں کھڑا دکھائی دیتا ہے۔
تاہم بھارتی حکام اس تاثر کو مسترد کرتے ہیں کہ یہ معاہدہ کسی مخصوص ملک یا اتحاد کے ردِعمل میں کیا گیا ہے۔ اماراتی صدر کے دورے کے بعد بھارت کے خارجہ سیکریٹری وکرم مصری نے صحافیوں کو بتایا کہ بھارت اور امارات کے درمیان دفاعی شراکت داری کو خطے کے کسی ممکنہ تنازع سے جوڑنے کے بجائے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود دفاعی تعاون کی فطری توسیع کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں اسے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود وسیع دفاعی تعاون کی قدرتی توسیع سمجھوں گا، نہ کہ کسی خاص واقعے یا مستقبل کے کسی منظرنامے کا ردِعمل۔‘
تاہم بھارت کے سابق سفیر برائے سعودی عرب تلمیذ احمد اس معاہدے کو خطے کی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بھارت اور امارات کے درمیان پہلے ہی سٹریٹجک شراکت داری موجود تھی، لیکن دفاعی پہلو اس سطح پر شامل نہیں تھا۔ ان کے مطابق دفاعی شراکت داری کو ایسے وقت میں وسعت دی جا رہی ہے جب ایران اور امریکہ کے تعلقات کشیدہ ہیں، غزہ بحران حل طلب ہے، سعودی عرب اور امارات کے تعلقات میں تناؤ موجود ہے اور سب سے بڑھ کر پاکستان یہ چاہتا ہے کہ ترکی سعودی عرب کے ساتھ اس کے دفاعی معاہدے میں شامل ہو۔ ’اگر ایسا ہو گیا تو یہ بھارت کے لیے ایک منفی پیش رفت ہو گی،‘ تلمیذ احمد کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کے بعد پاکستان کی عالمی سطح پر اہمیت میں اضافہ ہوا ہے، جس پر بھارت کی نظر ہونا فطری امر ہے۔ انکے مطابق ’سعودی عرب پاکستان کو قریب لا رہا ہے، ترکی سعودی عرب کی حمایت چاہتا ہے اور امریکی سیاست میں بھی پاکستان کا ذکر بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں مغربی ایشیا میں بھارت کی حکمتِ عملی ایک اہم سوال بن چکی ہے۔‘
لیکن دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے پروفیسر محمد مدثر قمر کے مطابق امارات اور بھارت کے دفاعی معاہدے کو محض پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی معاہدے کا جواب قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان فوجی تعاون کئی دہائیوں پر محیط ہے اور اسے صرف حالیہ تناظر میں دیکھنا ایک محدود تجزیہ ہوگا۔ انکے مطابق اگرچہ موجودہ حالات میں امارات، اسرائیل اور بھارت ایک صف میں دکھائی دیتے ہیں جبکہ پاکستان اکثر اسلامی ممالک کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے، تاہم یہ صورتحال مستقل نہیں۔ ان کے بقول امارات اور سعودی عرب کے درمیان تناؤ میں ذاتی اور سیاسی عوامل بھی شامل ہیں، جو وقت کے ساتھ کم ہو سکتے ہیں۔
غزہ امن بورڈ میں شمولیت سے پاکستان کو کیا نقصان ہو گا؟
پاکستانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت اور امارات کے درمیان دفاعی شراکت داری دراصل خطے میں بدلتے ہوئے اتحادوں، بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال اور پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کے تناظر میں بھارت کی ایک محتاط مگر واضح سٹریٹجک پیش قدمی ہے، جس کا مقصد مغربی ایشیا میں اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا اور طاقت کے توازن میں تنہا ہونے سے بچنا ہے۔
