انڈیا کا دی 100 کرکٹ لیگ میں پاکستانی کھلاڑی نہ لینے کا فیصلہ

بھارتی حکام کے متعصبانہ فیصلوں نے عالمی کرکٹ کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے بھارت کے پاکستان مخالف مخاصمانہ رویے نے جہاں پاکستانی کھلاڑیوں کیلئے آگے بڑھنے کے مواقع محدود کر دئیے ہیں وہیں کرکٹ کو سرحدی تنازعات، سفارتی کشیدگی اور طاقت کا کھیل بنا دیا ہے۔ بھارتی حکومت کی ایماء پر انڈین پریمیئر لیگ سے منسلک فرنچائزز نے تازہ واردات ڈالتے ہوئے انگلینڈ میں اگلے مہینے سے شروع ہونے والی ‘دی ہنڈرڈ’ کرکٹ لیگ میں اپنی ٹیموں میں پاکستانی کرکٹرز کو شامل نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ بی بی سی اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق انڈین کمپنیوں کی ملکیت میں چلنے والی فرنچائزز کی ’دی ہنڈرڈ‘ کرکٹ لیگ میں پاکستانی کھلاڑیوں پر نظر انداز کرنے کی حکمت عملی نے کرکٹ کے عالمی منظرنامے میں ایک بار پھر بحث کو جنم دے دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ رجحان محض کھیل کا معاملہ نہیں بلکہ سیاسی، سرمایہ کاری اور ملکی وابستگی پر مبنی غیر رسمی اصولوں کی عکاسی کرتا ہے، جس سے پاکستانی کرکٹرز کے مواقع محدود ہونے کے علاوہ عالمی سطح پر کرکٹ میں شفاف اور منصفانہ انتخاب کے اصول بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ انگلینڈ میں کھیلے جانے والے ‘دی ہنڈرڈ’ ٹورنامنٹ میں شامل آٹھ ٹیموں میں سے کم از کم چار ٹیمیں آئی پی ایل فرنچائزز سے جڑی ہوئی ہیں، جن میں مانچسٹر سُپر جائنٹس، ایم آئی لندن، ساؤدرن بریو اور سنرائزرز لیڈز شامل ہیں۔ یہ ٹیمیں جزوی طور پر انھی کمپنیوں کی ملکیت ہیں جو آئی پی ایل کی ٹیموں کو کنٹرول کرتی ہیں۔ ان کمپنیوں نے اس بار پاکستانی کھلاڑیوں کو اپنی ٹیموں میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد ‘دی ہنڈرڈ’ کرکٹ لیگ میں صرف اُن ہی ٹیموں کی پاکستانی کھلاڑیوں میں دلچسپی ہو گی جن کا تعلق آئی پی ایل سے نہیں ہے، بی بی سی کے مطابق اس نے ای سی بی کے ایک سینیئر افسر کے پیغامات دیکھے، جن میں بتایا گیا کہ ان فرنچائزز کی جانب سے پاکستانی کھلاڑیوں کو اپنی ٹیموں میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ ایک غیر تحریری اصول کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس کے باوجود ای سی بی حکام کا کہنا ہے کہ ’دی ہنڈرڈ‘ ہر ملک کے کھلاڑیوں کے لیے کھلا ہے اور تمام ٹیمیں اس اصول کی عکاسی کریں گی۔ تاہم حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
واضح رہے کہ ‘دی ہنڈرڈ’ لیگ کے گزشتہ سال کے ایڈیشن میں پاکستانی کرکٹر محمد عامر اور عماد وسیم ٹورنامنٹ کا حصہ تھے جبکہ اس سے قبل شاہین شاہ، شاداب خان اور حارث رؤف بھی ‘دی ہنڈرڈ’ کے پچھلے سیزنز میں شامل ہو چکے ہیں۔ تاہم خواتین کی لیگ میں اب تک کوئی پاکستانی کھلاڑی حصہ نہیں لے سکی، حالانکہ پاکستان کی وویمن کرکٹ ٹیم آئی سی سی رینکنگ میں آٹھویں نمبر پر ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کے مواقع صرف مردوں کی لیگ تک محدود ہیں بلکہ اس سے پاکستانی خواتین کرکٹرز بھی شدید متاثر ہو رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق بھارت کے اس متعصبانہ رجحان کی مزید مثالیں دیگر ممالک کی کرکٹ لیگوں میں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔ جنوبی افریقہ کی SA20 لیگ میں تمام چھ ٹیمیں آئی پی ایل فرنچائزز کی ملکیت میں تھیں اسی لئے ان میں کسی بھی پاکستانی کھلاڑی کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ متحدہ عرب امارات کی ILT20 لیگ میں بھی ایم آئی لندن اور ساؤدرن بریو نے چار سیزنز تک کسی پاکستانی کھلاڑی کو سائن نہیں کیا، جبکہ امریکی کمپنی کی ملکیت Desert Vipers نے اسی دوران آٹھ پاکستانی کھلاڑیوں کے ساتھ معاہدے کیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال محض کھیل کا مسئلہ نہیں بلکہ کرکٹ میں شفافیت، منصفانہ انتخاب اور بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ عالمی کھلاڑیوں کی یونین، ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن کا بھی ماننا ہے کہ ہر کھلاڑی کو منصفانہ مواقع فراہم کیے جانے چاہیں اور مالکان کو کھلاڑیوں کو اپنی ٹیموں میں شامل کرنے بارے خودمختاری حاصل ہونے کے باوجود انصاف، مساوات اور احترام کے اصولوں پر عمل کرنا چاہیے۔ تاہم بھارت نے پاکستان کی مخاصمت میں تمام اصول و قواعد کا جنازہ نکال دیا ہے۔
ناقدین کے مطابق گزشتہ برس ای سی بی نے ’دی ہنڈرڈ‘ کی آٹھوں فرنچائزز میں 49 فیصد حصص فروخت کیے، جس سے 500 ملین پاؤنڈ کی نجی سرمایہ کاری حاصل ہوئی تھی اور کاؤنٹی کرکٹ کے فروغ کے لیے استعمال کی گئی۔ تاہم، اس سرمایہ کاری کے باوجود بڑے شہروں کی فرنچائزز میں پاکستانی کھلاڑیوں کو شامل نہ کرنا، جنوبی ایشیائی کمیونٹی کے لیے ایک دھچکے کے مترادف ہے، خاص طور پر گریٹر مانچسٹر اور لیڈز میں جہاں بالترتیب 12 اور 4 فیصد پاکستانی آباد ہیں۔ کرکٹ ماہرین کے مطابق پاکستانی کھلاڑی اس حوالے سے کسی قسم کی رعایت کی بجائے منصفانہ اور برابری کے مواقع چاہتے ہیں کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بھارتی حکام کے ایسے غیر منصفانہ فیصلوں سےہ سے عالمی کرکٹ میں کھلاڑیوں کے مواقع محدود ہونے کے ساتھ ساتھ کرکٹ کا عالمی منظرنامہ سیاسی و اقتصادی اثرات کے زیرِ اثر آ سکتا ہے۔
