پاکستانی ائیر سپیس کی بندش سے انڈیا کو شدید مالی نقصان کا سامنا

 

 

 

اس برس مئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ کے بعد سے پاکستانی فضائی حدود کی بندش نے بھارتی فضائی کمپنی ایئر انڈیا کو شدید ترین مالی مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے، ایسے میں ائیر انڈیا نے اپنی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسے چین سے متبادل فضائی روٹ استعمال کرنے کی اجازت دلوائے۔

 

ایئر انڈیا کے اندازے کے مطابق، پاکستان کی فضائی حدود کی بندش سے کمپنی کے سالانہ منافع پر تقریباً 455 ملین ڈالرز کا اثر پڑ رہا ہے، جو کمپنی کے مالی سال 2024-25 کے 440 ملین ڈالر کے خسارے سے بھی زیادہ ہے۔ یاد رہے کہ پاکستانی فضائی روٹس کی بندش کے نتیجے میں ایئر انڈیا کے ایندھن کے اخراجات 30 فیصد تک بڑھ گئے ہیں اور طویل پروازوں کے دورانیے تین گھنٹے تک طویل ہو گئے ہیں، یوں یورپ، امریکہ اور کینیڈا جانے والی ائیر انڈیا کی پروازیں نہ صرف مہنگی ہو گئی ہیں بلکہ مسافروں کے لیے بھی ان میں کشش ختم ہوتی جا رہی ہے۔

 

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو دستیاب دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ ایئر انڈیا کے طویل فاصلے کے نیٹ ورک پر شدید مالی دباؤ ہے، اور اضافی اخراجات کے سبب مسافر اور کارگو فلائیٹس دونوں متاثر ہو رہی ہیں۔ بھارت سے سفر کرنے والے زیادہ تر مسافر کم وقت میں منزل تک پہنچانے والی پروازوں کی تلاش میں دیگر بین الاقوامی ایئرلائنز کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، کیونکہ وہ ائیرلائینز اب بھی پاکستانی فضائی حدود استعمال کر کے زیادہ چھوٹے روٹس پر چل رہی ہیں۔

امریکی کانگرس نے جنگ میں پاکستان کی جیت کی تصدیق کر دی

ایسے میں ایئر انڈیا نے بھارتی حکومت سے یہ غیر معمولی درخواست کی ہے کہ اسے چین کے فضائی روٹس استعمال کرنے کی اجازت دلوائی جائے۔ یاد رہے کہ بھارت اور چین نے پانچ سال کی تعطل کے بعد حال ہی میں براہِ راست پروازیں دوبارہ شروع کی ہیں، جو ہمالیائی علاقے میں پچھلی سرحدی جھڑپوں کی وجہ سے بند تھیں۔

ایئر انڈیا کے حکام کے مطابق پاکستان جانتا ہے کہ اپنی فضائی حدود کی بندش رکھنے سے بھارتی ائیر لائینز کو براہِ راست بھاری مالی نقصان پہنچ رہا ہے، اسی وجہ سے اس نے بھارتی پروازوں کے لیے پابندی جنگ ختم ہونے کے چھ ماہ بعد بھی برقرار رکھی ہوئی ہے۔ اس سے نہ صرف ایئر انڈیا کے ایندھن کے اخراجات اور طویل پروازوں کے دورانیے میں اضافہ ہوا ہے بلکہ یورپ اور امریکہ کے لیے اسکی پروازوں کی اقتصادی کارکردگی بھی متاثر ہوئی ہے۔

 

ایئر انڈیا نے بھارتی حکومت سے درخواست کی ہے کہ چین سے اجازت حاصل لی جائے تاکہ سنکیانگ، کاشغر اور ارمچی ایئر پورٹس تک اسکی پروازوں کی رسائی ممکن ہو سکے، یوں ائیر انڈیا کی پروازوں کے وقت میں کمی اور اضافی ایندھن کی بچت ہو سکے گی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ سٹریٹجک آپشن مالی دباؤ کم کرنے اور مسافروں کو بہتر خدمات فراہم کرنے کے لیے ضروری ہے۔

 

ایئر انڈیا نے پاکستانی فضائی حدود میں اپنے جہازوں کے داخلے پر عائد پابندی میں نرمی نہ ہونے کی صورت میں بھارتی حکومت سے عارضی سبسڈی کی بھی درخواست کی ہے تاکہ اس کا مالی نقصان کم ہو سکے۔ کمپنی اپنے پرانے ٹیکس واجبات کے معاملات بھی حل کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔

Back to top button