بھارت افغانستان کے پیچھے چھپ کر پاکستان پر حملے کررہا ہے،وزیردفاع

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہاکہ بھارت افغانستان کے پیچھے چھپ کر پاکستان پر حملے کررہا ہے، جبکہ پاکستان نے کبھی بھی افغانستان کے خلاف جارحیت نہیں کی۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیردفاع نے کہاکہ پاکستان نے افغان باشندوں کو کئی دہائیوں تک پناہ دی، لیکن اس کا مناسب اعتراف نہیں کیا گیا۔ دہشتگردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اسے ہر حال میں مسترد کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے سیاست میں صبر و تحمل کے فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اپنی مٹی کے ساتھ تعلق کو مضبوط بنانا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔

وزیر دفاع نے مزید کہاکہ بھارت کو جس طرح ماضی کی جنگوں میں شکست ہوئی، وہ دوبارہ حملے کی سوچ بھی نہیں سکتا۔پاکستان افغانستان میں دو جنگوں میں فریق رہا اور آزادی کے فوراً بعد افغانستان کی جانب سے پاکستان پر دوبارہ حملہ ہوا۔

انہوں نے کہاکہ یہ جنگیں کوئی جہاد نہیں تھیں اور ہمیں ماضی کے اسباق سے سبق سیکھنا چاہیے۔ نائن الیون کے ذمہ دار کا آج تک پتا نہیں چل سکا، اور افغانستان نے اس واقعے میں کوئی کردار نہیں ادا کیا۔

دریں اثناوزیر دفاع خواجہ آصف کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےکہنا تھاکہ ٹھیکیدار مافیابھیک منگوں کو ہزاروں کی تعداد میں خلیجی ممالک بھیج رہا ہے، ان خلیجی ملکوں نے زچ ہو کر ہمارے ویز ے بند کردیئے۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ گداگری اب ایک منظم پیشہ بن چکا ہے اور گداگری کا کاروبار ملک میں سب سے زیادہ "روزگار” میسر کر رہا ہے۔بھیک منگوانے کے لیے اب باقاعدہ ٹھیکیدار موجود ہیں، ٹھیکیدار بچوں، عورتوں اور جعلی معزوروں کو بھرتی کرکےکروڑوں روپے کما رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس گھناؤنےکام میں ائیرپورٹس پر مختلف محکموں کا عملہ حصہ دارہے اور مال بنا رہا ہے، سیالکوٹ میں یہ لوگ زیادہ تر جنوبی پنجاب سےآکر ہوٹلوں میں رہ کر دھندہ کرتے ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا کہ انتظامیہ اور پولیس کی حالیہ کارروائیوں سے اس گھناونےکاروبار میں کمی آئی ہے، لیکن کارروائیوں کے باوجود اب بھی بھکاریوں کی موجودگی نظر آتی ہے۔سیالکوٹ میں بظاہر اچھے کھاتے پیتے لوگ ان بھکاریوں کے ٹھیکیدار ہیں، جب گداگروں پہ کریک ڈاؤن ہوتا ہے تو یہ ٹھیکیدار سفارشی بن کر آجاتے ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ یہ گھناؤنا کاروبار ملک بھر میں سب سے زیادہ "روزگار” میسر کر رہا ہے، یہ کاروبار کسی شہر میں انتظامیہ اور پولیس کی سرپرستی کے بغیر نہیں ہو سکتا، اس کاروبار کے ساتھ اور بہت سے نہایت گھناؤنے دھندے منسلک ہیں۔

Back to top button